حدیث نبوی : اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تمہیں لے جائے۔۔۔ کی صحیح تشریح – مختلف علماء کرام

حدیث نبوی : اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تمہیں لے جائے۔۔۔ کی صحیح تشریح – مختلف علماء کرام

Correct Explanation of the Hadith: "If you did not commit sin, Allaah would do away with you and bring people who…" – Various 'Ulamaa

 

حدیث نبوی : اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالی تمہیں لے جائے۔۔۔ کی صحیح تشریح   

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اس حدیث کا معنی ہے کہ اللہ تعالی اپنے سابق علم میں اس  بات کا فیصلہ فرماچکا ہے کہ لازماً  گناہ وقوع پذیر ہوں گے تاکہ اس کی مغفرت ورحمت کے آثار ظاہر ہوں۔ اور اس کے اسماء کریمہ التواب (بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا)، الغفور (بہت زیادہ بخشنے والا) اور العفو (درگزر فرمانے والا) کا ظہور ہو۔کیونکہ اگر گناہ ہی نہ ہوں گے تو پھر اللہ جل جلالہ کے اسماء العفو، الغفور اور التواب کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ پس اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی سابق تقدیر وعلم میں یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ جن وانس گناہ کریں گے اور اللہ تعالی انہیں بخش دے گا جو اس کی جناب میں توبہ کریں گے، اور جسے چاہے کا معاف فرمادے گا، اور جس سے چاہے کا درگزر فرمائے گا۔

اس کا یہ معنی ہرگزنہیں ہے کہ گناہ کرنے کی رخصت دی جارہی ہے، نہیں! اللہ تعالی نے تو اس سے منع فرمایا ہے اور حرام قرار دیا ہے۔ لیکن  اس کی تفصیل جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

2014-05-21T15:28:49+00:00

Articles

Scholars