ان لوگوں سے کیسا معاملہ کیا جائے جو بلادلیل دوسروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور انہیں حزبی کہتے ہیں؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

ان لوگوں سے کیسا معاملہ کیا جائے جو بلادلیل دوسروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور انہیں حزبی کہتے ہیں؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

How to deal with people who boycott others and warn against them without evidence? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

ان لوگوں سے کیسا معاملہ کیا جائے جو بلادلیل

دوسروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور انہیں حزبی کہتے ہیں؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیۃ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: ان لوگوں سے کیسا معاملہ کیا جائے تو دوسروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں، اور ان کے بارے میں یہ پھیلاتے ہیں کہ یہ حزبی ہیں لیکن بغیر دلیل کے، آپ کی ایسوں کے لیے کیا نصیحت ہے؟

 

جواب: اولاً: اے بیٹے، میں کسی بھی سنت پر قائم عالم کو نہیں جانتا کہ وہ بغیر واضح دلیل کے کسی کی جرح کرتا ہو۔ وہ اس لیے کہ جرح وتعدیل دین ہے جس کے ذریعے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ پس تعدیل تزکیہ ہوتا ہے اور جرح اس کی ضد ہوتی ہے۔ چناچہ ہر انسان بروز قیامت مسئول ہے کہ جس کی اس نے تعدیل کی کیا وہ واقعی عدالت کا اہل تھا یا نہیں؟  جس نے کسی ایسے کی تعدیل کی جو جرح کا مستحق تھا اور اسے اس کا علم بھی تھا تو اس نے اسلام اور مسلمانوں کےحق میں خیانت کی۔ اسی طرح سے جس نے کسی عادل کی جرح کی یعنی ایسے انسان کی جرح کی جو عدالت کا مستحق تھا، بغیر واضح دلیل کے اس کی جرح کردی تو وہ بھی خائن ہے۔  کیونکہ اس نے اسے عار اور بدعت سے متہم کیا۔

 

لہذا ہم اپنے آپ کو اور انہیں بھی جو یہاں یا انٹرنیٹ کے ذریعے ہماری بات سن رہے ہیں یہ وصیت کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں جلدبازی سے کام نہ لیں۔ کیونکہ جرح وتعدیل اہل علم کا کام ہے۔ جو انتہائی تجربہ کار وماہرین ہیں اور ان مقالات اور ان کے اہل کے بارے میں کامل معلومات رکھتے ہیں۔

 

کسی مقالے کی جرح کرنے میں کوئی اشکال نہیں۔۔۔کہ آپ کہیں: یہ بات قطبیت ہے، یہ مقولہ تبلیغیوں والا ہے، یہ صوفیانہ کلام ہے۔ یا عمومی جرح کریں جیسے یہ کہنا کہ: اس قول کا قائل تبلیغی ہے، اس کلام کا قائل اخوانی ہے، اس کلام کا قائل قطبی ہے، آپ یہ کرسکتے ہیں اگر عمومی طور پر کہیں۔ مثلاً جیسے یہ کہا جاسکتا ہے: شراب خور فاسق ہوتا ہے، نماز کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے ترک کرنے والا کافر ہوتا ہے اور جو محض سستی اور کوتاہی کی وجہ نماز چھوڑتا ہے تو وہ بھی تحقیق کے مطابق کافر ہوتا ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس میں شریعت آپ کا ساتھ دیتی ہے۔

 

لیکن یہ کہنا کہ لوگوں میں سے فلاں (یعنی نام لے کر) تو ایسا نہیں کرسکتے۔ لازم ہے کہ اس میں تمام شروط پائی جائیں اور تمام موانع رفع ہوجائیں(یعنی خاص شخص پر حکم لگانے کی جو شرطیں ہیں وہ پوری ہوجائیں اور جو جو باتیں اس کا عذر بن سکتی ہیں وہ بھی ختم ہوجائیں)۔

2014-01-22T05:13:01+00:00

Articles

Scholars