والدوں کے لیے نصیحت – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

والدوں کے لیے نصیحت – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

Advice to fathers – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

والدوں کے لیے نصیحت   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیح کی آفیشل ویب سائٹ سے مجموع فتاوى ومقالات متنوعة الجزء السابع۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: بعض والد اپنی اولاد کی دینی امور کے حوالے سے تربیت کا کوئی اہتمام نہيں کرتے مثلاًانہیں نماز کا حکم نہيں دیتے، نہ تلاوت قرآن کا اور نہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کا۔ حالانکہ ہم انہیں پاتے ہیں کہ اسکول پابندی سے جانے پر سختی کرتے ہیں اور اپنے بیٹے پر غصہ ہوتے ہیں اگر وہ اسکول نہ جائے، فضیلۃ الشیخ آپ کی اس بارے میں کیا نصیحت ہے؟

جواب:میری تمام والدوں، چچاؤں اور  بھائیوں کو نصیحت ہے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں جیسے اولاد کے تعلق سے اللہ تعالی سے ڈریں  اور انہیں نماز کا حکم دیں جب وہ سات برس کے ہوجائیں اور انہیں نہ پڑھنے پر ماریں اگر وہ دس برس کے ہوجائيں۔ جیساکہ اس بارے میں صحیح حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ فرمایا:

’’مروا أبنائكم بالصلاة لسبع واضربوهم عليها لعشر وفرقوا بينهم في المضاجع‘‘([1])

(اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو جب وہ دس برس کے ہوں، اور ان کے بستر الگ الگ کردو)۔

لہذا باپوں ،  ماؤں اور بڑے بھائیوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو نماز وغیرہ کا حکم دینے کے تعلق سے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ اور انہیں ان باتوں سے منع کریں جواللہ تعالی نے حرام کی ہیں،اور ان پر وہ باتیں لازم قرار دیں جو اللہ تعالی نے واجب قرار دی ہیں۔ ایسا کرنا ان پر واجب ہے اور ان کے ماتحت جو بھی ہیں وہ ان کے پاس امانت ہیں۔ فرمان الہی ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا﴾ (التحریم: 6)

(مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ)

اور فرمایا:

﴿وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا﴾ (طہ: 132)

(اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر خوب پابند رہو)

اسی طرح سے اپنے نبی ورسول سیدنا اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں فرمایا:

﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا، وَكَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ  ۠ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا﴾ (مریم: 54-55)

(اور اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر بھی کریں، یقیناً وہ وعدے کے سچے تھے اور ایسے نبی تھے جو  رسول بھی تھے،  اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے اور وہ ان سے راضی تھا)

 


[1] صحیح ابی داود 495 کے الفاظ ہیں: ’’مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)

2013-12-04T07:11:04+00:00