کیا مسلم ملک میں سودی بینک اور شراب خانوں کی اجازت دینے والا حکمران کافر ہے؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

کیا مسلم ملک میں سودی بینک اور شراب خانوں کی اجازت دینے والا حکمران کافر ہے؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Is the ruler who allows alcohol and banks in his country a Kafir? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کیا مسلم ملک میں سودی بینک اور شراب خانوں کی اجازت دینے والا حکمران کافر ہے؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مرکز توحید وسنت ریکارڈنگز، نیویارک۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: احسن اللہ الیک فضیلۃ الشیخ یہ سائل کہتا ہے: کیا کسی حرام کام کا ارتکاب کرنااس بات کی دلیل ہے کہ وہ شخص اس کام کا استحلال کرتا ہے (یعنی اسے حلال سمجھتا ہے) اور نتیجے میں کافر ہوجاتا ہے؟ کیا(حکومت کی طرف سے) مہہ خانوں جہاں شراب پی جاتی ہے، ڈسکو کلب، سینما، تھیٹر اور سودی بینکوں کو اجازت (پرمٹ) دینااس بات کی دلیل ہے کہ ان حرام کاموں کا استحلال کرلیا گیا ہے اور نتیجے میں وہ (حکومت) کافر ہوگئی ہے؟

 

جواب: نہیں، ان حرام کاموں کا ارتکاب اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شخص انہیں حلال سمجھتا ہو۔ ممکن ہے کہ وہ انہیں حرام ہی سمجھتا ہو لیکن خواہش نفس کی پیروی یا مال کی چاہت کی میں اس کا ارتکاب کرتا ہو۔ اسے گناہ تصور کیا جائے گا ناکہ کفر۔

 

کسی چیز کا استحلال (حلال ہونے کا عقیدہ رکھنا) زبان کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگر وہ واضح الفاظ میں کہے کہ یہ کام حلال ہے تو اس صورت میں یہ کفر ہوگا۔لیکن محض کسی حرام کام میں ملوث ہونا اس بات کی دلیل نہيں کہ وہ شخص اسے حلال سمجھتا ہو۔ کیونکہ ممکن ہے کہ وہ شخص مال کی چاہت، خواہش نفس یا کسی اور وجہ سے، یا بری صحبت کی وجہ سے اس کا ارتکاب کرتا ہو، حالانکہ وہ اسے حرام ہی سمجھتا ہو۔

2013-10-23T07:35:10+00:00