توحید حاکمیت محض بطور ایک سیاسی ہتھکنڈا – شیخ محمد بن ناصرالدین البانی

توحید حاکمیت محض بطور ایک سیاسی ہتھکنڈا – شیخ محمد بن ناصرالدین البانی

Using Tawheed-ul-Hakmiyyah only as a political weapon – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

توحید حاکمیت محض بطور ایک سیاسی ہتھکنڈا   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: المسلمون رقم:  639، جمعہ 25 ذوالحج  1417ھ بمطابق  2 مئی 1997ع۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: فضیلۃ الشیخ (بارک اللہ فیک) علماء سلف رحمہم اللہ نے توحید کی تین اقسام بیان کی ہیں: توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء وصفات، تو کیا یہ ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم توحید کی ایک چوتھی قسم ’’توحید حاکمیت‘‘ یا ’’توحید فی الحکم‘‘ کے نام سے بیان کریں؟

جواب: (اے سائل) خوش ہوجاؤ! کیونکہ (میرا جواب یہ ہے کہ) یہ صحیح نہیں۔ اگرچہ (میرا یہ جواب کہ) ’’ یہ صحیح نہیں‘‘ (کہنا کافی ہی کیوں نہ ہو) لیکن جواب اس طرح سے نہیں دیا جاتا۔ (لہذا اس کی قدرے تفصیل مندرجہ ذیل ہے)۔

بلکہ حاکمیت تو توحید الوہیت کی ہی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اور موجودہ دور میں وہ لوگ جو اپنی توجہ اس چوتھی نئی بدعتی تقسیم پر مرکوز رکھتے ہیں وہ اسے بطور ایک سیاسی ہتھیار کے استعمال کرتے ہیں نہ کہ لوگوں کو وہ توحید سکھانے کے لئےکہ جسے لے کر تمام انبیاء ومرسلین علیہم الصلاۃ والسلام آئے تھے۔ سو اگر آپ چاہیں تو میں نے جو کچھ ابھی کہا ہے میں اسے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں (اگرچہ یہ سوال کئی مرتبہ پیش کیا جاچکا ہے اور اس کا جواب بھی دیا جاچکا ہے) اور اگر آپ چاہیں تو ہم اپنے اسی موضوع کو جاری رکھیں؟۔۔۔

(بہرحال) میں اس قسم کی صورتحال میں (جو کچھ میں نے ابھی بیان کیا ہے اس کی دلیل کے طور پر) ہمیشہ یہ کہا کرتا ہوں کہ لفظ ’’الحاكمية‘‘ موجودہ دور کی کچھ جماعتوں کی مخصوص سیاسی دعوت کا حصہ ہے۔ اور میں یہاں ایک واقعہ بیان کروں گا جو خود میرے اور ایک صاحب جو دمشق کی کسی مسجد میں خطبہ ارشاد فرمارہے تھےکے مابین پیش آیا۔ الغرض اس خطیب کا سارا خطبۂ جمعہ اس بات پر تھا کہ حاکمیت اور قانون صرف اللہ تعالی کے لئے ہی ہونا چاہیے مگر اس شخص نے  فقہی معاملے میں ایک غلطی کا ارتکاب کیا۔ چناچہ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو میں ا س کے پاس گیا اور سلام عرض کرکے کہا کہ: میرے بھائی آپ نے فلاں فلاں کام کیا ہے جو خلافِ سنت ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ: دراصل میں ایک حنفی ہوں اور حنفی مذہب میں وہی ہے جو میں نے کیا ہے۔تو میں نے کہا: سبحان اللہ! ابھی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ حکم اور فیصلہ صرف اللہ تعالی کا ہی چلے گا لیکن آپ نے اس لفظ کو محض ان حکمرانوں پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کیا جو بزعم آپ کے کافر ہیں کیونکہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے۔ اور آپ اپنی ذات کے متعلق بھول گئے کہ اللہ تعالی کے حکم کا تو ہرمسلمان پابند ہے۔ اگر ایسا نہیں تو کیوں جب میں نے آپ سے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ایسا کیا تھا توآپ نے جواب دیا کہ میرا مذہب فلاں ہے۔ اس صورت میں تو آپ خود اس چیز کی مخالفت کررہے ہیں جس کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔

پس اگر یہ حقیقت نہ ہو کہ وہ اس دعوت کو محض اپنے سیاسی ہتھکنڈے کے لئے استعمال کررہے ہیں تو ہم خود یہ کہیں گے: ’’هذه بضاعتنا ردت إلینا‘‘ (یہ تو ہماری ہی چیز تھی جو ہماری طرف لوٹا دی گئی)۔ سو ہم توحید الوہیت یا توحید عبادت کی جس  دعوت کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اس میں تو حاکمیت ہی نہیں (جس پر آپ نے تمام تر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے) بلکہ اس کے علاوہ بھی دیگر عقائد واعمال  شامل ہیں۔ جس چیز پر آپ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اس کی دعوت تو (درحقیقت) ہم دیتے ہیں۔ حدیث سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾ (التوبة: 31)

(انہوں نے اپنے احبار  (علماء) اور رہبان (درویشوں) کو اللہ کے سوا رب بنالیا)

اس پر سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: ہم نے تو انہیں اللہ کے سوا اپنا رب نہیں بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ:

’’الستم کنتم اذا حرموا لکم حلالا حرمتموہ واذا حللوا لکم حراما حللتموہ، قال اما ھذا فقد کان۔ قال: فذاک اتخاذکم ایاھم اربابا من دون اللہ‘‘([1])

(کیا ایسا نہیں تھا کہ وہ جس حلال چیز کو تمہارے لیے حرام کرتے تو تم اسے حرام سمجھتے، اور کسی حرام چیز کو تمہارے لیے حلال کرتے تو تم اسے حلال سمجھتے؟ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! جہاں تک اس کی بات ہے تو ایسا تو کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی توتمہارا  انہیں رب بنانا ہے)۔

سو ہم ہی ہیں وہ جو اس حدیث کو بیان کرتے ہیں اور لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔ لہذا انہوں نے توحید الوہیت یا عبادت کے صرف ایک حصے کو ایک  بدعتی عنوان دے کر محض سیاسی مقاصد کے خاطر ہی مقدم رکھا۔

چناچہ میں اس قسم کی اصطلاح (کہ حاکمیت اللہ تعالی کی ہونی چاہیے) استعمال کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا اگر صرف اسے بنا عمل کے محض سیاسی ہتھکنڈا نہ بنایا جائے۔ پس جیسا کہ میں نشاندہی کرچکا ہوں کہ یہ توحید عبادت میں داخل ہے لیکن آپ ان لوگوں کو پائیں گے کہ یہ لوگ ہر اس طریقے سے اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں بھلا لگتا ہے، اور جب ان سے کہا جاتا ہے (جیسا کہ میں نے ایک خطیب کا واقعہ سنایا) کہ کوئی سنت کے خلاف عمل کررہا ہے یا کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے خلاف ہے تو وہ کہتا ہے: میرا مذہب فلانی ہے۔

حکم صرف اللہ سبحانہ و تعالی کا ہی ہونا چاہیے یہ محض کفار و مشرکین کے ہی لئے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے خلاف حجت ہے جو اللہ تعالی کی مخالفت اس کی کتاب میں نازل شدہ احکام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی نافرمانی کرکے کرے۔ اس قسم کے سوالات کے بارے میں میرا یہی جواب ہے۔

 


[1] صحیح ترمذی 3095 کےالفاظ ہیں: ’’أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)

2013-10-13T06:35:35+00:00