محمد مرسی جیسی کرنی ویسی بھرنی! – شیخ محمد بن ہادی المدخلی

محمد مرسی جیسی کرنی ویسی بھرنی! – شیخ محمد بن ہادی المدخلی

Muhammad Mursi "As you sow so shall you reap" – Shaykh Muhammad bin Hadee Al-Madkhalee

محمد مرسی جیسی کرنی ویسی بھرنی!   

فضیلۃ الشیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(رکن تعلیمی کمیٹی، کلیۃ حدیث شریف ودراسات اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیہ سے آڈیو کلپ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: سائل کہتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں اخوان المسلمین کا مصر کے اقتدارپر قابض ہونا مسلمانوں کی غزوۂ بدر میں نصرت کی مانند تھا اور جب ان کی حکومت گری تو وہ غزوۂ احد کی مانند تھی، اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے؟

جواب: یہ بات ہم نے سنی جیسا کہ آپ نے سنی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ آخر انہوں نے حکومت میں آکر اسلام میں سے کس چیز کی تطبیق  کی ہے؟میں اللہ کی قسم! آپ سے یہ بات مخفی نہیں رکھوں گا کہ میری تمنا تھی کہ یہ لوگ اپنے چار سال پورے کرتے تاکہ ان کی حجت مکمل طور پر منقطع ہوجاتی اورتمام لوگ خود دیکھ لیتے کہ انہوں نے کیا خاک اسلام نافذ کیا ہے؟ یہ تو ہوئی پہلی بات۔

دوسری بات: اللہ تعالی کاہی امر نافذ ہوتا ہے اوراسی کی مشیئت غالب رہتی ہے۔ اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوکر رہا۔

تیسری بات: ان کی حکومت ایک سال رہی اس میں انہوں نے کیا کارنامے انجام دیے؟

چوتھی بات: نائب اول کون تھا؟ ایک نصرانی۔

پانچویں بات:اپنی حکومت میں آنے سے پہلے ہی یہ کہتے تھے کہ چور کے ہاتھ کاٹنا اور زانی کو کوڑے لگانا شریعت میں سے نہیں۔ اپنے صدر بننے اور انتخابات میں منتخب ہونے سے پہلے انٹرویو میں اس نے کہا کہ ہاتھ کاٹنا یاکوڑے لگانا شریعت میں سے نہیں۔ یہ تو اجتہادی امور ہیں([1])۔ یہ بات ان کی آواز میں ریکارڈ موجود ہے۔ الحمدللہ یہ انٹرنیٹ ہر چیز کو محفوظ کردیتا ہے۔آپ نیٹ پر سرچ کرلیں یہ بات ان کی اپنی آواز بلکہ ویڈیو میں مل جائے گی۔ پھر جو چاہے سمجھو جو چاہے کہو۔ پھر آخر کیسے یہ نصرت یوم بدر کی نصرت کے مشابہ ہوسکتی ہے؟

بہرحال یہ لوگ تو پہلے دن سے ہی ڈیموکریسی (جمہوریت )کے داعی ہیں۔ اور ہم نے بلکہ خود میں نے سنا ہے  کہ وہ کہہ رہے تھے حکم عوام کے لیے ہوگا اور حکم کا منبع ومصدر عوام ہیں، اللہ سبحانہ وتعالی نہیں ۔اور ویسے یہ آیت سناتے رہتے تھے:

﴿ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ  ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ﴾ (یوسف: 40)

(حکم صرف اللہ  تعالیٰ کے لیے ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو)

اسے دہرا دہرا کر انہوں نے ہمارے کان سن کردیے اور مسلمانوں کی عام تکفیر کرتے رہے کہ یہ لوگ ان کے زعم کے مطابق شریعت کی تطبیق نہیں کرتے۔ لیکن اب جب انہیں حکومت ملی ہے تو یہ نعرے ہی پھر گئے اور کہنے لگے حکم تو عوام کا ہوتا ہے۔ خود مرسی کہتا ہے کہ اگر ہزار لوگ یا شاید دس ہزار کہا کہ اگر وہ سائن کرلیں کہ وہ مجھے نہیں چاہتے تو میں خود ہی مستعفی ہوجاؤں گا اور اب لاکھوں لوگ باہر نکل آئے ہیں کہ ہم تمہیں نہيں چاہتے اب تو وقت ہے اپنے اس دعوے پر عمل درآمد کرکے سچ ثابت کرنے کا۔

چھٹی بات: آپ جس طریقے سے آئے تھے اسی طریقے سے روانہ ہوئے۔ آپ جس طریقے سے آئے تھے وہ یہی تحریر اسکوائر تھا کہ نہیں؟ القرضاوی اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی آئے تھے وہاں خطبہ بھی دیا تھا اور لوگوں کو نماز جمعہ بھی پڑھوائی تھی۔ پھر اس کے بعد آپ  برسراقتدار آگئے۔اب یہ بالکل وہی طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ معزول ہوئے۔ جس سیڑھی سے چڑھے اسی سے اتر گئے اب بھی وہی تحریر اسکوائر ہے۔طلوع ونزول ایک سا ہوا۔تحریر اسکوائر کے انقلاب سے برسراقتدار آئے اور اب اسی کے انقلاب سے معزول کردیے گئے۔ یہ تھی چھٹی بات۔

ساتویں: یہی لوگ کہتے ہیں کہ عوام کی آزادئ رائے پر کوئی پابندی نہیں لگانی چاہیے۔ صحیح ہے، پھر یہ جو لوگ آپ کے خلاف نکلے ہیں یہ اپنی آزادئ رائے کا اظہار کررہے ہیں ۔ خود آپ کے قانون کے مطابق ان کے آزادئ رائے پر پابندی لگانا جائز نہیں۔ یہ جو چاہتے ہیں اس کا اظہار کررہے ہیں جیسا کہ آپ نے جو چاہا اس کا اظہار کیا تھا۔ اور اب یہ غالب آگئے آپ  پر تو حکومت ان کی ہونی چاہیے۔

آٹھویں بات: جیسا کہ شعر ہے کہ،

أعلِّمهُ الرِّماَيَةَ كُلَّ يوَمٍ … فَلَمَّا اسْتَدَّ ساَعِدُهُ رَمَاني

وَكَمْ عَلَّمْتُهُ نَظْمَ الْقَوَافي … فَلَمَّا قَال قَافِيَةً هَجَاني

(میں اسے  روزانہ تیراندازی سکھاتا تھا                            لیکن جب اس نے تیر کمان سیدھا کرنا سیکھ لیا تو مجھ پر ہی تیر چلا دیا

اور کتنا ہی میں نے اسے نظم میں قافیہ کہنا سکھایا                  جب قافیہ سیکھ کر شعر کہنے لگا تو میرے ہی خلاف قافیے بناڈالے)

میں نے پہلے دن سے ہی بعض بھائیوں کو جو اس علاقے کے نہیں بلکہ دوسرے علاقے کے ہیں کہا کہ اگر اخوان المسلمین نے ذلت کا وہی جام جو حسنی مبارک نے پیا بلکہ اس سے بھی خسیس ترین نہ پیا تو میں محمد بن ہادی نہیں۔ قسم اس ذات کی کہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، میں نے اس وقت یہ کہا اور اب یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے:

رَأيتُ بني الدّنيا، إذا ما سَمَوْا بهَا،                          هوتْ بهمِ الدُّنياَ على قدرِ ما سمَوا

(میں نے دنیا داروں کو دیکھاجب وہ اس کے ذریعہ بلندی حاصل کرتے ہیں

تو دنیا انہيں اسی قدر گرا دیتی ہے جس قدر وہ اس کے ذریعہ بلندی پاتے ہیں)

کوئی شخص بھی جسے رفعت حاصل ہوتی ہے گر ہی جاتا ہے سوائے اس کے جو امر الہی سے بلند ہوا ہو تو اسے کوئی نیچا نہیں کرسکتا۔ پس یہ لوگ جو ارادہ رکھتے تھے سو رکھتے تھےاور اللہ تعالی آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ دلوں میں چھپا ہے سب جانتا ہے۔

نویں بات: یہ لوگ کہتے ہیں کہ تمام حکومتیں امریکہ کے دم چھلے ہیں اور یہود اور اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ جیسے ہی یہ اقتدار میں آئے سب سے پہلے ہی جاکر اسرائیل سے معاہدوں کی تجدید کی اور وہ امریکہ تھا جس نے اس سے پہلے ان پر دباؤ ڈالا تھا۔ کہتے ہیں سوائے ان معاہدات، اتفاقات اور شقوں کے جو سابقہ حکومت کے طرف سے چلے آرہے ہیں (انہيں جاری رکھا جائے گا)۔ مرسی تو برسراقتدار آیا ہی تب جب تک امریکا کو یقین دہانی نہ کروادی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معاہدات کو تبدیل نہیں کرے گا۔ اور ممکن ہے آپ نے یہ دیکھا اور سنا بھی ہو۔ صحیح ہے پھر کیسے جس نے اس وقت معاہدے کیے تھے وہ (اخوان المسلمین کی زبانی) کافر ٹھہرا اور یہ دوسرا جس نے اس کی ابھی تجدید کی وہ کافر نہیں؟

ہم تو کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر خود ان کے کلام کے مطابق کہہ رہے ہیں کہ کیسے حسنی مبارک اور سادات وغیرہ کافر ٹھہرے کیونکہ انہو ں نے ایسے معاہدات پر دستخط کیے ؟ لیکن اب جو ان معاہدات واتفاقیات کو مزید مؤکد وراسخ کرتا ہے تو وہ صحیح ہے!!!

ترکی میں جب سیکولر جماعت تھی تو اس نے یہود کے ساتھ معاہدات نہیں کیے لیکن جب نجم الدین اربکان آئے تو انہوں نے باقاعدہ کامل مشترکہ فوجی معاہدہ کیے یعنی ان کے اور یہود کے مابین۔ جس پر ابھی تک عمل ہورہا ہے۔ اور جب سیکولروں اور طورانیوں، کنعان افیرین کی جماعت نے اس کا قلع قمع کیا تودوسرے روز ہی اسے اٹھا پھینکا۔ خلاص جو یہ چاہتے تھے وہ اس اتفاقیات پر دستخط کرنا تھا مگر اسلام پسندوں کی سیاہی سے۔ تاکہ کل کو اگر وہ کہیں کہ تم نے یہ سمجھوتہ کیاتو کہیں کہ نہيں نہیں ہم نے کہاں کیا یہ تو سابقہ دور حکومت میں ہوا تھا اور ہم ان معاہدوں اور اتفاقیات کے پابند تھے۔

لیکن میرے بھائیو میرے عزیزو! مجھے علم ہے کہ اخوان المسلمین چاہے یہاں کے ہی کیوں نہ ہوں انہيں یہ بات کرنا زیب نہیں دیتا کیوں؟ کیونکہ ان کی گمراہی کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے۔ یہ لوگ درحقیقت سب کے سامنے ظاہر ہوچکے ہیں لیکن بہت سے لوگ بالکل غائب دماغ رہتےہیں گویا کہ وہ ہمارے ساتھ اس دنیا میں رہتے ہی نہیں تاکہ اس حقیقت کو دیکھ سکیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ جذبات انسان کو اندھا کردیتے ہیں اللہ تعالی ہی سے سلامتی کا سوال ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی بھلا دیتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ آپ جیسے لوگوں کے محتاج ہیں کہ انہیں اس بات کی یاددہانی کرائیں جو کچھ ان سے صادر ہوتا رہا ہے۔

دسویں بات: ہمیں الحکم الحکم الحکم(یعنی اسلامی حکم نافذ ہو) چیخ چیخ کر ہلا کر رکھ دیا لیکن جب دستور پر آئے تو کیا کیا؟ اسے تبدیل کردیا پس کیا یہ اکلوتامصدر ہے، نہیں۔ تیونس کو ہی لے لیں جب وہ اس تک رسائی حاصل کرگئے تو اسے منسوخ کردیاگویا کہ  یہ اکلوتا مصدر ہو۔ اس اسلام کے غلبے سے دستبردار ہوگئے کیونکہ یہ اسلام التحکم(اسلامی احکامات کو لوگوں پر نافذ کرنا) ہے۔ یہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ان کے پاس بس اسلام الحکم (اسلام کے نام پر حکومت لے لینا )ہے، کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلام الحکم کیا ہے؟ تاکہ اس میں اور التحکم میں فرق کرسکیں؟ حقیقت یہ ہے کہ الحکم سے مراد ان کے نزدیک یہی ہے کہ اخوان المسلمین حکومت کرے بس یہی الحکم ہے۔ جبکہ التحکم کا مطلب ہے اسلام کی واقعی تطبیق وتنفیذ ہو، پس انہوں نے آخر کیا اسلام نافذ کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ پس ان کی اسلام کی جو دعوت ہے اس سے کافر تک حیران ہیں۔ دیکھیں یہ کافر ان سے حیران ہے کیونکہ یہ اسلام اسلام اسلام کے بلند بانگ نعرے الاپتے رہتے ہیں۔ اب اسلام کو نافذ کرنا لوگوں پر اسے تحکم کہتے ہیں کہ زبردستی ان پر مسلط کرنا جو ہم نہیں چاہتے یعنی ہم اسلام کی تطبیق نہیں چاہتے اسے تحکم کہتے ہیں لیکن جس اسلام کی وہ کوشش کرتے ہیں وہ اسلام الحکم ہے اور اسلام الحکم کیا ہے؟ کہ کرسی پر یہ لوگ براجمان ہوجائیں اسی لیے جو کچھ ہوا سو ہوا۔ ان کی طرف سے ان کے ترجمان نے کہا کہ مرسی کا سقوط (اقتدار سے معزول ہونا) اللہ تعالی کے ساتھ شرک کی مانند ہے یہ الفاظ تھے اس کے نیٹ پر جائیں آپ کو مل جائیں گے کہ مرسی کا سقوط شرک باللہ کے برابر ہے۔ پس میرے بھائیو! پہچان لو کہ اسلام الحکم اور اسلام التحکم کیا ہے، اسلام التحکم کا معنی ہے اسلام کی تنفیذ وتطبیق۔ یہی وہ حقیقی اسلام کا نفاذ ہے جو وہ بالکل نہیں چاہتے کیونکہ اس سے عوام کی آزادی پر پابندیاں لگتی ہیں ۔ اسی لیے تیونس میں مہ خانوں اور بارز کی تعداد میں اضافہ ہوگیا یہاں تک کہ اسپین کے کافر تک اس سے حیران تھے۔ جبکہ اسلام الحکم کا مطلب ہے کہ اخوان المسلمین کرسی پر براجمان ہوجائے لہذا یہ اسلام الحکم کی تگ ودو کرتے ہیں ناکہ اسلام التحکم کی۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ آپ کے ملک میں براجمان ہوجائیں تو اپنے ملک میں کی گئی حرکتوں سے بھی خسیس ترین حالت یہاں کریں گے۔  اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ کبھی بھی اس قسم کے لوگوں کو حکومت میں نہ لائے۔ اور ہم ان سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو کسی دھوکہ کا شکار نہ کرلیں ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے ہاتھوں کو اپنی موجودہ حکومت اور علماء کے ساتھ مضبوط کریں۔  یہ لوگ حکومت کے اہل ہیں ۔ یہ نعمت ہے جو اللہ تعالی نے ہم پر کی ہے کہ انہیں لے آیا ہے ہم نے تو ان سے خیر ہی دیکھی ہے۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ ہم سے اور آپ سے ہر قسم کے فتنے دور فرمائیں خواہ ظاہر ہوں یا باطن۔

 


[1] ہوبہو یہی بات اخوان المسلمین کے پاکستانی رخ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب نے اپنے 29 ستمبر 2015ع کے بیان میں کی کہ: ’’ہاتھ کاٹنا شریعت کا نام نہيں بلکہ اسلام رحمت، برکت اور نعمت ہے، بعض لوگ شریعت کی غلط تشریح کرکے اسلام کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں‘‘۔ (روزنامہ اساس ، المشرق (پشاور) وغیرہ) (توحید خالص ڈاٹ کام)

2013-08-13T15:45:48+00:00