Revolting against the rulers due to their corruption – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

حکمرانوں کی کرپشن کے سبب ان کے خلاف بغاوت کرنا   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: المعلوم من واجب العلاقة بين الحاكم والمحكوم س 1۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: سماحۃ الشیخ کچھ ایسے لوگ ہیں جو یہ نظریہ رکھتے ہيں کہ بعض حکمرانوں کی معصیت وکبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے ان کے خلاف خروج کرنا انقلاب لانا ضروری ہے اگرچہ اس کی نتیجہ میں اس ملک میں مسلمان عوام کو کچھ تکالیف و(جانی مالی وغیرہ) نقصان ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔اور اس قسم کے واقعات عالم اسلام میں بہت رونما ہورہے ہیں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين وصلى الله على رسول الله وعلى آله وأصحابه ومن اهتدى بهداه. أما بعد:

ارشاد الہی ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ (النساء: 59)

(اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ  تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور جو تمہارے حکمران ہیں۔پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ  تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ  تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے)

پس یہ آیت واضح نص ہے اس بات پر کہ حکمرانوں اور علماء کی اطاعت واجب ہے۔ اور سنت نبویہ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ ان کی اطاعت لازم ہے اور فرض ہے مگر صرف معروف باتوں میں۔یہ آیت اور سنت واضح کرتی ہیں کہ ان کی اطاعت جو فرض ہے وہ معروف کاموں میں ہے۔ ایک مسلمان پر ان کی اطاعت صرف معروف کاموں میں واجب ہے ناکہ نافرمانی کے کاموں میں۔

اگر وہ معصیت الہی ونافرمانی کا حکم دیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس سبب سے ان پر خروج کیا جائے بلکہ خروج اس صورت میں بھی جائز نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ‘‘([1])

(آگار رہو کہ جس کسی پر کوئی حاکم مقرر ہو پھر وہ اسے دیکھے کہ حاکم معصیت الہی کا مرتکب ہورہا ہے، تو اس معصیت الہی کو تو ناپسند کرے جس میں وہ ملوث ہے، مگر اطاعت سے ہاتھ ہرگز نہ کھینچے)۔

اور فرمایا:

’’مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً‘‘([2])

(جو کوئی (حکمران کی) اطاعت سے نکل گیا اور (مسلمانوں کی) جماعت کو چھوڑ دیا اور پھر اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہے)۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ‘‘([3])

(ایک مسلمان انسان پر (حکمران کی) بات سننا اور اطاعت کرناہے چاہے پسند ہو یا ناپسند، الا یہ کہ اسے کسی معصیت کا حکم دیا جائے، اگر معصیت وگناہ کا حکم دیا جائے تو (اس کی اس بات میں) سننا اور اطاعت کرنا نہیں ہے)۔

اور صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت پوچھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتارہے تھے کہ ایسے حکمران آئيں گے جو ایسے ایسے کام کریں گے جن میں سے کچھ کو تم معروف جانتے ہوگے اور منکرات بھی کریں گے تویہ سن کر صحابی نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس حالت میں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ‘‘([4])

((ان حکمرانوں کو) تم اس کے باوجود ان کا حق دینا اور اپنا حق اللہ تعالی سے طلب کرنا)۔

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’ أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ‘‘([5])

(ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی، خواہ چستی میں ہوں یا ناچاہتے ہوئے بھی، بدحالی اور خوشحالی میں، بلکہ اگر ہم پر دوسروں کو ترجیح بھی دے دی جائے تب بھی، اور ہم حکومت سے ان کے عہدے کے بارے میں تنازع نہ کریں گے، الا یہ کہ تم کوئی کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے لیے تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو)۔

پس یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حکمرانوں سے حکومت پر تنازع کرنے، تختہ الٹنے یا خروج کرنا جائز نہیں الا یہ کہ لوگ کھلم کھلا (یعنی ظاہر کوئی ڈھکا چھپا نہیں) کفر دیکھیں (اس سے کم تر نہیں) اور اس بارے میں اللہ تعالی کی جانب سے واضح دلیل بھی ہو ان کے پاس(محض قیاس یا احتمال نہیں)۔ اتنی سخت پابندیاں اس لیے لگائی گئی ہیں کیونکہ خروج کے سبب جو فساد کبیر ہوتا ہے اور جو شر عظیم برپا ہوتا ہے جس سے امن وامان کی تباہی، حقوق کا ضیاع، نہ ظالم کے ہاتھ کو پکڑا جاسکتا ہے نہ مظلوم کی دادرسی کی جاسکتی ہے، راستے غیرمحفوظ ہوجاتے ہیں ان سے بچا جائے۔ الغرض حکمرانوں کے خلاف خروج عظیم فساد اور کثیر شر کا پیش خیمہ ہے۔ الا یہ کہ تمام مسلمان اس حاکم میں کفر بواح (کھلم کھلا) کفر دیکھیں جس کے بارے میں ان کے پاس اللہ کی جانب سے دلیل بھی ہو تو پھر ایسے حکمران کے ازالے کے لیے اس کے خلاف خروج کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ ان کے پاس اس کی قدرت ہو۔ البتہ اگر ان کے پاس قدرت وطاقت ہی نہیں تو پھر خروج نہ کریں۔ اور یہ بھی دیکھا جائے کہ ان کے خروج کے نتیجے میں اس سے بھی بڑا شر متوقع نہ ہو تو بھی مصالح عامہ کے پیش نظر خروج نہ کیا جائے۔ کیونکہ ایک شرعی قاعدہ جس پر سب کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ: ’’أنه لا يجوز إزالة الشر بما هو أشر منه بل يجب درء الشر بما يزيله أو يخففه‘‘ (بے شک یہ جائز نہیں کہ کسی شر کا اس سے بھی بڑے شر ازالہ کیا جائے، بلکہ واجب ہے کہ شر کو ایسی چیز سے دور کیا جائے جو یاتو اسے سرے سے ہی ختم کردے یا پھر کم از کم اس میں تخفیف کا سبب ہو)۔ جبکہ کسی شر کو اس سے بھی بڑے شر سے دور کرنا مسلمانوں کے اجماع کی رو سے جائز نہیں۔ اگر کوئی گروہ جو اس حاکم کا جو کفر بواح کا مرتکب ہواہے ازالہ کرنا چاہتا ہے اور ان کو اس کی قدرت بھی ہے۔ اور وہ اس کی جگہ ایک اچھے اور صالح حاکم کو لاسکتے ہیں بنا کسی بڑے فساد کے جس کا مسلمان شکار ہوں یا اس حاکم کی موجودگی کے شر سے بھی بڑے شر میں مبتلاہوئے بغیر ایسا کرسکتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر اس خروج کے نتیجے میں بڑا فساد ہو، امن تباہ ہو، لوگوں پر ظلم ہو، غیرمستحق جانوں کا قتل ہو اور جو اس کے علاوہ عظیم فسادات ہیں تو یہ جائز نہیں بلکہ اس حاکم کی معروف میں بات سننے اور ماننے پر صبر کیا جائےانہیں نصیحت کرکے ان کی خیرخواہی چاہی جائے اور ہدایت کی دعاء کی جائے۔ اور کوشش کی جائے کہ کیسے خیر کو زیادہ سے زیادہ اور شر کو کم سے کم کیا جائے۔ یہ وہ صراط مستقیم ہے اس بارے میں جس کی پیروی کی جانی چاہیے۔ کیونکہ اسی میں مسلمانوں کے مصالح عامہ ہیں اور اسی ذریعے سے خیر کو زیادہ اور شر کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اور اسی میں امن وامان اور مسلمانوں کی سلامتی اور بڑے شر سے حفاظت ہے۔ ہم اللہ تعالی سے سب کے لیے توفیق اور ہدایت کے خواستگار ہیں۔

 


[1] صحیح مسلم 1856 اور مسند احمد وغیرہ میں سیدنا عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس کے شروع کے الفاظ ہیں: ’’خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ۔۔۔‘‘ (تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اوروہ تم سے۔۔۔)۔

 

[2] صحیح مسلم 1849 اور مسند احمد وغیرہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

 

[3] صحیح مسلم 1840 اور نسائی وغیرہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔

 

[4] صحیح بخاری 7052 وغیرہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔

 

[5] صحیح بخاری 7056، صحیح مسلم 1843 وغیرہ۔