کیا سعودی حکومت دین اور داعیان کے خلاف جنگ اور سختی کرتی ہے – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

کیا سعودی حکومت دین اور داعیان کے خلاف جنگ اور سختی کرتی ہے – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Does Saudi government work against Deen and banning the Duaat? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کیا سعودی حکومت دین اور داعیان کے خلاف جنگ اور سختی کرتی ہے

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الإجابات المهمة فى المشاكل الملمة ص 27.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: آپ کی ان لوگوں کے لیے کیا نصیحت ہے جو کہتے ہیں کہ یہ مملکت (سعودی عرب) دین کے خلاف جنگ کرتی ہے اور داعیان دین پر سختی اور تنگی کرتی ہے؟

جواب: ابتداء ہی سے مملکت سعودی عرب دین اور اہلیان دین کی نصرت کرتی آئی ہے۔ یہ تو قائم ہی اسی اساس پر ہوئی تھی۔ اور اب بھی دنیا کے مختلف کونوں میں جو مسلمانوں  کی مختلف انداز میں مدد کرتی ہے جیسے مالی معاونت، اسلامی مراکز ومساجد کا قیام، داعیان ارسال کرنا، کتابوں کی طباعت جن میں سرفہرست قرآن کریم، علمی مراکز اور شرعی کالجز کا قیام، شریعت اسلامیہ کا نفاذ، اورہر علاقے میں ایک مستقل ادارہ برائے امر بالمعروف ونہی عن المنکر بنانا یہ سب باتیں واضح دلیل ہیں کہ یہ مملکت اسلام اور اہلیان اسلام کی مدد ونصرت کرتی ہے۔ اور اہل نفاق واہل شر پھوٹ ڈالنے والوں کے حلق کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی اپنے دین کی مدد ونصرت ضرور فرمائے گا خواہ مشرکین اور مغرضین لوگ برا منائیں۔ ہم نہیں کہتے کہ یہ مملکت ہر زاویے سے کامل ہے اور اس کی کوئی غلطی نہیں۔ غلطیاں تو ہر ایک سے ہوجاتی ہیں اور ہم اللہ تعالی سے دعاء کرتے ہيں کہ وہ ہمیں غلطیوں کی اصلاح کرنے میں اعانت فرمائے۔

اور ایسی بات کہنے والا اگر خود اپنے ہی گریبان میں جھانک کر دیکھے گا تو ایسی ایسی غلطیاں ملیں گی کہ جو اس کی زبان کو دوسروں پر طعن دراز کرنے سے روک دیں گی، اور وہ لوگوں کا سامنا تک کرنے سے شرمائے گا([1]

 


[1] میں (محمد بن فہد الحصین) یہ کہتا ہوں: حکمرانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ہر اس شخص پر پابندی لگائیں جو کبھی نصیحت واصلاح کے نام پر تو کبھی آزادی کلام اور کبھی کسی اور پرفریب نعرے کے تحت باطل، تفرقہ بازی اور حکمرانوں کے خلاف خروج کی دعوت دیتا ہے۔ کیونکہ اس میں وہ عظیم مصالح ہیں جو کسی بھی عقل رشید رکھنے والے سے مخفی نہیں۔ اسی لیے سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’حکمرانوں کے لیے جائز نہيں کہ لوگوں اور ان منابر کے درمیان حائل ہوجائیں الا یہ کہ انہیں معلوم ہو کہ کوئی شخص باطل کی جانب دعوت دے رہا ہے، یا وہ دعوت دینے کا اہل نہيں، تو ایسے کو چاہے وہ کہیں بھی ہو روکا جائے گا‘‘ (مجموع الفتاوی 5/81)۔

اور علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جب مسجد میں پیاز لہسن کھا کر آنے کو منع کیا جاتا ہے تو پھر جو لوگوں کا دین خراب کرے اس کا کیا حکم ہوگا!  کیا ایسا شخص منع کیے جانے کا زیادہ حقدار نہيں ہوگا؟ کیوں نہيں، اللہ کی قسم! لیکن بہت سے لوگ غافل ہیں‘‘۔

( دیکھیں شرح الاربعین النوویۃ ص 38)

اسی طرح سے دوسرے مقام پر فرمایا:

’’اگر حکمران اپنے رائے میں یہ بہتر سمجھے مثلاً ہم میں سے کسی ایک کو بولنے سے منع کردے، تو یہ اللہ کے یہاں ہمارا عذر ہے کہ اس نے مجھے منع کیا تو میں نہ بولا۔ کیونکہ حق بیان کرنا فرض کفایہ ہے جو کسی مخصوص شخص زید وعمر میں محصور نہیں۔ اگر ہم حق کو اشخاص کے ساتھ معلق کردیں گے تو حق اس شخص کی موت کے ساتھ مر جائے گا۔ حق کبھی بھی مخصوص افراد سے معلق نہیں ہوتا۔ فرض کریں وہ مجھے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ہماری سمع وطاعت کرتے ہوئے کلام نہ کرو، خطبہ نہ دو، شرح نہ کرو، تعلیم نہ دو۔  میں جاؤں گا نماز پڑھنے اگر وہ مجھے اجازت دیں گے امام بننے کی تو میں امام بن جاؤں گا۔ اگر کہیں گے: تم لوگوں کی امامت نہ کراؤ تو میں لوگوں کی امامت نہیں کرواؤ گا البتہ مقتدی بن جاؤں گا کیونکہ اب حق کسی دوسرے کے ساتھ قائم تو ہورہا ہے۔ ان کا مجھے منع کرنے کا یہ معنی نہیں کہ انہوں نے تمام لوگوں کو ہی منع کردیا ہے۔ ہمارے لیے اس بارے میں اچھا نمونہ موجود ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے جنبی شخص کو تیمم کا حکم دیا جبکہ (خلیفۂ وقت) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس کے قائل نہیں تھے۔ پس انہیں ایک دن بلابھیجا اور کہا: یہ کونسی حدیث ہے جو تم لوگوں کو بیان کرتے رہتے ہو کہ اگر جنبی شخص کو پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرلے؟ انہوں نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور آپ کو کسی کام کے لیے بھیجا تھا تو مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو خبر دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا‘‘ (صحیح مسلم 370، صحیح ابی داود 322)

(تمہارے لیے کافی تھا کہ بس اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح زمین پر مارتے ) پھر تیمم کا بیان فرمایا۔

 لیکن اے امیر المومنین! آپ کے اس حق کی وجہ سے کہ اللہ تعالی نے مجھ پر آپ کی اطاعت فرض کی ہے اگر آپ چاہیں کہ میں یہ حدیث بیان نہ کروں تو میں ایسا ہی کروں گا۔ اللہ اکبر! جلیل القدر صحابی خلیفہ کے حکم پر جس کی اطاعت فرض ہے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے سے رک رہے ہیں۔ پس آپ نے فرمایا: نہیں، میں تمہیں اس سے نہیں روکتا لیکن اپنی ہی ذمہ داری پر بیان کرو اگر سمجھتے ہو۔ یعنی اگر حکمران یہ بہتر سمجھے کہ ابن عثیمین یا ابن باز یا کسی اور کی کیسٹیں روک دی جائیں تو ہم رک جائیں گے۔ لیکن ہم اس قسم کی باتوں کو لوگوں میں اور خصوصاً نوجوانوں میں فتنے کی آگ بھڑکانے کا اور لوگوں کے دلوں میں حکمرانوں کی نفرت بھرنے کا سبب بنادیں تو یہ اللہ کی قسم میرے بھائیوں خود عین معصیت ہے، اور یہ لوگوں کے مابین فتنہ پھیلنے کی بنیادوں میں ایک اساس ہے۔ اور ہمارا یہ ملک کوئی چھوٹا سا ملک تو ہے نہیں اس میں لاکھوں علاقے پھیلے ہوئے ہیں مختلف قبائل آباد ہیں۔ اگر اللہ تعالی عبدالعزیز بن سعود کے ہاتھوں ہمارے کلمے کو جمع نہ فرماتا تو ہم ایسے ہی متفرق وایک دوسرے کے دست وگربیاں رہتے۔ ہمارے بزرگ ہمیں بتاتے ہيں کہ شہر کے بیچوں بیچ رمضان کے دنوں میں خوف کی وجہ سے تراویح پڑھنے تک بغیر اسلحہ کے نہيں جاسکتے تھے۔ لیکن اب الحمدللہ امن ہے۔ آپ کا کیا گمان ہے اگر حالات بدل جائیں اللہ نہ کرے! تو کیا یہ امن باقی رہے گا؟ اب کوئی گھر سے نکلتا ہے اور اس کی گاڑی ہر آسائش سے بھری ہوتی ہے کہیں مغرب کی اذان ہوجاتی ہے اترتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے جبکہ اس کی گاڑی ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے پر یا اس سے کچھ قریب کھڑی ہوتی ہے اور اسے اس وقت سوائے اللہ تعالی کے کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ پھر ہم کیوں اس امن وامان کی قدر نہیں کرتے؟ کیا ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ جب دلوں میں نفرتیں پنپیں گی تو امن تباہ ہوجائے گا اور لوگ باغی ہوجائے گے؟ حتی کہ اگر وہ فلاں فلاں کی کیسٹوں پر پابندی بھی لگادیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہم ہدایت کی دعاء کریں گے، کیا ہم امام احمد رحمہ اللہ سے بڑھ کر علم رکھنے والے، دیندار اور فقہ وفہم رکھتے ہیں؟ امام احمد رحمہ اللہ کو مارا جاتا، خچر سے باندھ کر گھسیٹا جاتا، اور اتنے کوڑے مارے جاتے کہ آپ بے ہوش ہوجاتے اس کے باوجود فرماتے:

’’لو اعلم ان لی دعوۃ مستجابۃ لصرفتھا للسطان‘‘

(اگر میں جان لوں کہ میری کوئی لازماً قبول ہونے والی دعاء ہے تو میں اسے حکمران وقت کے لیے مخصوص کردوں)۔

اور آپ مامون کو امیر المومنین ہی کہا کرتے تھے اور مامون بہت عظیم بدعت کی طرف باقاعدہ دعوت دیتا تھا یعنی خلق قرآن کے عقیدے کی طرف یہاں تک کہ اسے مدارس میں پڑھانا شروع کردیا تھا۔ اور کیا ہم اپنے حکمرانوں سے ایسی حرکت صادر ہوتے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کے علم میں ہے ایسی کوئی بات کے وہ کسی بدعت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو ہماری مخالفت کرے گا ہم اسےقتل کردیں گے، یا جیل میں ڈال دیں گے یا ماریں گے؟ میرے علم میں تو ایسی کوئی بات نہيں۔جو بھائی اس قسم کی باتوں کو پھیلاتے ہیں وہ سوائے بے دین ملحدوں کے کسی کی خدمت نہیں کررہے۔ کیونکہ کیا یہ بے دین ملحد لوگ چاہیں گے کہ یہ مملکت باقی رہے؟ نہیں، کیونکہ انہیں اسلام نہیں چاہیے، انہیں ملحد (سیکولر)کمیونسٹ ریاست چاہیے جس میں یہودی، نصرانی، بت پرست اور مسلمان اور ہر کوئی مساوی وبرابر ہوں۔ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ اس مملکت پر اس قسم کے نعرے مسلط ہوجائیں یہاں تک کہ تمہارا صفایہ کردیا جائے اور اس مملکت کا بھی خاتمہ کردیا جائے۔ کیونکہ جب عامۃ الناس کے دلوں میں نفرت کا بیج بودیا جائے گاتو وہ حکمرانوں کو برا جانیں گے اور ان کے خلاف باغی ہوجائیں گے اور قوت کے ذریعے ان کا تختہ الٹنے کی کوشش کریں گے،اور خود اس کے بعد حکومت کے منصب پر فائز ہوجائیں گے، اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ موجودہ انقلابات کو ہی دیکھ لیں مصر ہو یا عراق یا شام لوگوں کا کیا حال ہوا، کیا بری حالت سے بہتر حالت ہوگئی؟ یا پھر بری سے برتر حالت ہوگئی۔ لہذا وہ نوجوان جو اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں وہ صرف سیکولر ملحد لوگوں کو بلواسطہ مفت خدمات فراہم کررہے ہيں‘‘۔

(المرجع: کیسٹ طاعۃ ولاۃ الامر – تسجیلات منھاج السنۃ)

 

2013-04-11T08:46:05+00:00

Articles

Scholars