اسلام میں شریعت سازی – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

اسلام میں شریعت سازی – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The legislation in Islaam – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اسلام میں شریعت سازی   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: توحید خالص ڈاٹ کام

مصدر: عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها من الشرك الأكبر والأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شریعت سازی اللہ تعالی کا حق ہے: اور تشریع (شریعت سازی) سے مراد ہے:

(وہ منہج وضابطۂ حیات  جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے نازل فرمایا  تاکہ اپنے عقائد ومعاملات وغیرہ کے سلسلے میں وہ اس کی پیروی کریں، اسی میں سے تحلیل وتحریم بھی شامل ہے۔ پس کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی چیز کو حلال قرار دے سوائے اس کے  جسے اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہو، اسی طرح کسی چیز کو حرام قرار دے سوائے اس کے جسے اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہو)۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ﴾ (النحل: 116)

(کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ تعالی پر جھوٹ بہتان باندھ لو)

اور فرمایا:

﴿قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا  ۭ قُلْ اٰۗللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَي اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ﴾  (یونس: 59)

(آپ کہیں کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا۔ آپ   پوچھیں کہ کیا تم کو اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا تھا یا اللہ تعالی پر افتراء ہی کرتے ہو؟)

پس اللہ تعالی نے کتاب وسنت کی دلیل کے سوا تحلیل وتحریم کرنے سے منع فرمایا ہے، اور خبردی کہ یہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے، اسی طرح یہ بھی خبردی کہ جس کسی نے بنا دلیل کسی چیز کو واجب یا حرام قرار دیا تو اس نے گویا کہ اپنے آپ کو اللہ تعالی کی اس خاصیت یعنی حقِ شریعت سازی  میں شریک مقرر کرلیا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ﴾ (الشوریٰ : 21)

(کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ تعالی کے) شریک مقرر کررکھے ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسے احکامِ دین مقرر کردئے ہیں جس کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی)

جس کسی نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی شریعت ساز کی اطاعت کی اور یہ جانتے ہوئے بھی اس کے اس فعل کی موافقت کی تو اس نے اسے اللہ تعالی کا شریک قرار دے دیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ﴾ (الانعام: 121)

(اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤ گے)

یعنی مثلاً اگر کسی نے اللہ تعالی کے حرام کردہ مردار کو حلال قرار دیا، اور کسی نے اس بات میں اس کی اطاعت کی تو وہ مشرک ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے خبردی کہ جس کسی نے احبار (علماء) اور رہبان (درویشوں) کی اللہ تعالی کے حرام کردہ کی تحلیل اور حلال کردہ کی تحریم میں اطاعت کی پس یقیناً اس نے انہیں اللہ تعالی کے علاوہ اپنا رب بنالیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ  ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ﴾ (التوبۃ: 31)

(ا ن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہما الصلاۃ والسلام) کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ تعالی ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں،  وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے)

جب عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ  نے یہ آیت سنی تو عرض کی:

’’ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، إِنَّا لَسْنَا نَعْبُدُهُمْ، فَقَال لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ– : أَلَيْسُوايُحِلُّون مَا حَرَّمَ اللَّهُ، فَتُحِلُّونَه،  وَ يُحَرِّمُونَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَتُحَرِّمُونَه؟ قَالَ : بَلَى، قَالَ: فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ ‘‘ ([1])

(یارسول اللہ ! ہم تو ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ایسا نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالی کی حرام کردہ چیز کو حلال قرار دیتے تھے تو تم بھی اسے حلال سمجھتے تھے، اور اسی طرح سے اللہ تعالی کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیتے تھے تو تم بھی اسے حرام سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (ایسا تو کرتے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی تو ان کی عبادت کرنا ہے)

شیخ عبدالرحمن بن حسن  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ اللہ تعالی کی معصیت میں احبار ورہبان کی اطاعت اللہ تعالی کے علاوہ ان کی عبادت شمار ہوگی، اور اس شرکِ اکبر میں شمار ہوگی جسے اللہ تعالی معاف نہیں فرماتے، کیونکہ اسی آیت کے آخر میں  اللہ تعالی نےارشاد فرمایا:

﴿وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ﴾ (التوبۃ: 31)

 (حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ تعالی ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں،  وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے)

اور اس کی نظیر اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَاِنَّهٗ لَفِسْقٌ ۭوَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ﴾ (الانعام: 121)

(اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ تعالی کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام فسق ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے)

اور ایسا سلوک بہت سے لوگ ان کے ساتھ کرجاتے ہیں جن کی وہ تقلید کررہے ہوتے ہیں، اس طور پر کہ وہ جس کی تقلید کررہے ہوتے ہیں اس کے قول کے خلاف (واضح) دلیل تک کا اعتبار نہیں کرتے، چناچہ یہ (حالت) اسی قسم کے شرک میں سے ہے ‘‘۔

پس شریعتِ الہی کا التزام اور اس کے علاوہ ہر شریعت کو ترک کردینا "لا الہ الا اللہ" کا لازمی تقاضہ ہے، واللہ المستعان۔

 


[1] اس حدیث کو امام ترمذي نے روایت فرمایا ہے۔

2013-01-14T04:37:11+00:00