خالق کاوجود اوراس کی وحدانیت ثابت کرنے کے قرآنی انداز کا بیان – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

خالق کاوجود اوراس کی وحدانیت ثابت کرنے کے قرآنی انداز کا بیان – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The Qura'anic way of proving the Creator's oneness – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

خالق کاوجود اوراس کی وحدانیت ثابت کرنے کے قرآنی انداز کا بیان   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: توحید خالص ڈاٹ کام

مصدر: عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها من الشرك الأكبر والأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خالق کا وجود اور اس کی وحدانیت کو ثابت کرنے کا قرآنی انداز ہی درحقیقت فطرتِ صحیحہ اور عقولِ سلیمہ کے عین مطابق ہے ، اور وہ اس طرح سے کہ صحیح دلائل کے ذریعہ ایسی حجت قائم کی جاتی ہے  جسے عقل تسلیم و قبول کر لے اور مخالفین اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں ، مثلا ً:

1-  یہ بات بَدِیہی طور پر معلوم ہے کہ ہر واقع ہونے والی چیز کا کوئی واقع کرنے والا ہے :

یہ ایک ایسا بدیہی معاملہ ہے جو فطرتاً سب کو معلوم ہے ، یہاں تک کہ بچے بھی اس بات کو سمجھتے ہیں ، اگر بچے کو کوئی مارے اور بچہ اسے نہ دیکھ رہا ہو ، تو بچہ یہ سوال کرتا ہے : کس نے مجھےمارا ؟ اگر جواباً کہا جائے : کسی نے نہیں ، تو اس کی عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرے گی  کہ ضرب بغیر کسی ضرب لگانے والے کے کیسے لگ سکتی ہے ، پھر اگر کہا جائے کہ فلاں نے تمہیں ضرب لگائی (مارا)، تو وہ روتا ہے یہاں تک کہ اس مارنے والے کو بھی  مارا جائے ، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ﴾ (الطور: 35)

(کیا یہ بغیر کسی ) پیدا کرنے والے ( کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟یا یہ خود(اپنے آپ کو) پیدا کرنے والے ہیں ؟)

یہ محصور تقسیم ہے ، اللہ تعالی نے استفہامِ انکاری کےصیغے میں اس کا ذکر کیا ہے ، تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ یہ باتیں لازماً معلوم ہوتی ہیں ، ان کا انکار ممکن ہی نہیں ، فرمایا :

﴿اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ﴾ (الطور: 35)

 (کیا یہ بغیر کسی ) پیدا کرنے والے ( کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟)

یعنی : بغیر کسی پیدا کرنے والے کے پیدا ہوگئے ، یا انہوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا ہے ؟ اور دونوں ہی باتیں باطل اور نا ممکن ہیں ، لہذا ثابت یہ ہوا کہ لازماً کوئی پیدا کرنے والا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے ، اور وہ اللہ سبحانہ وتعالی ہیں ، ان کے سوا اور کوئی خالق نہیں ، ارشاد باری تعالی ہے :

﴿ھٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ﴾ (لقمان: 11)

(یہ ہے اللہ کی مخلوق ، اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ)

﴿اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ﴾ (الاحقاف: 4)

( مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا ٹکڑا بنایا ہے)

﴿اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ  ۭ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾

(الرعد: 16)

 (کیا جنہیں یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہوگئی ہو ، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وہ اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے )

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ﴾ (الحج: 73)

(اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے ، گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں)

﴿وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ﴾ (النحل: 20)

 (اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالی کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے ، بلکہ وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں)

﴿اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴾ (النحل: 17)

( تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے)

اور اس بار بار چیلنج کے باوجود کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ اس نے کچھ پیدا کیا ہے ، محض دعوی تک نہیں کیا ثابت کرنا تو دور کی بات رہی، لہذا یقیناً یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ سبحانہ وتعالی ہی اکیلے خالق ہیں اور ان کا کوئی شریک نہیں ۔

2- کائنات کے تمام معاملات اور احکامات  کا (اکیلے) انتظام فرمانا:

اس بات کی سب سے عمدہ اور ٹھوس دلیل کہ اللہ تعالی ہی تمام کائنات میں تدبیر کرتے ہیں اور وہ بلاتنازعہ اکیلے رب ہیں ان کا کوئی شریک نہیں ، اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ﴾  

(المؤمنون: 91)

 (نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے ، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لیے لیے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا)

حقیقی الہٰ )معبود( کے لیے لازم ہے کہ وہ خالق ) پیدا کرنے والا ( اور فاعل (عمل وفعل کرنے والا) ہو۔ اگر اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور الہٰ ہوتا  جو مملکت میں اس کا شریک ہوتا  (پاک ہے اللہ تعالی کی ذات اس سے) تو پھر اس کی بھی مخلوق ہوتی اور اس کا بھی فعل(عمل دخل) ہوتا ، اور اگر ایسا ہوتا تو ہر الہٰ دوسرے کی شرکت کو پسند نہیں کرتا ، بلکہ جس سے بھی ہوسکتا وہ دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا اور اکیلا ہی مملکت کا  مالک اور معبود بن جاتا ، اور اگر ایسا نہ کرسکتا تو مملکت اور مخلوق میں سے اپنا حصہ لیکر الگ ہوجاتا ، جیسا کہ دنیا کے بادشاہ اپنی اپنی مملکت لیکر الگ ہوتے ہیں  اور اس کے نتیجہ میں تقسیم ہوجاتی ، اور تین میں سے ایک بات لازماً واقع ہوتی :

أ – دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو شکست دیتا اور اکیلا مملکت کا مالک بن جاتا۔

ب – یا دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی مملکت اور مخلوق لیکر الگ ہوجاتا ، اور اس کے نتیجہ میں تقسیم ہوجاتی ۔

ج – یا دونوں کسی ایک بادشاہ کے ما تحت ہوجائیں اور وہ جیسا چاہے ان کےبارے میں تصرف کرے ، اور اس کے نتیجہ میں دونوں اس ایک الہٰ کے بندے ہوجاتے اور وہ ان دونوں کا معبود ِحقیقی ۔

دراصل حقیقت یہی ہے ، اس لیے کہ  جہان میں کوئی تقسیم اور خلل واقع نہیں ہوا  جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا ایک ہی ہے جس کا کوئی مقابل نہیں ، اور اس کا مالک بھی ایک ہی ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔

3- مخلوقات کو اپنی خصوصیات کے ساتھ کام انجام دینے کے لیے مسخر کیا گیا ہے :

اس جہان میں کوئی ایسی مخلوق نہیں جو نافرمانی کرتی ہو اور اپنا کام (جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے) سر انجام نہ دیتی ہو ، اور یہی دلیل موسیعلیہ الصلاۃ والسلام  نے  پیش کی جب فرعون نے دریافت کیا :

﴿قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى﴾ (طہ: 49)

(فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟)

موسی علیہ الصلاۃ والسلام  نے کافی شافی جواب دیا :

﴿رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى﴾ (طہ: 50)

 (ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت ، شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھا دی)

یعنی : ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ، اور ہر مخلوق کو ایسی خلقت عطاء فرمائی جو اس کے لائق تھی ، کسی کا جسم بڑا کسی کا درمیانہ اور کسی کا چھوٹااور ہر ایک کی اس کے مطابق مخصوص صفات ، پھر جو مخلوق جس کام کے لیے پیدا کی گئی ہے اس کی اس جانب ہدایت (رہنمائی) بھی فرمادی ، اور یہ ہدایت ہدایتِ دلالت والہام (فطری الہامی) ہے، اور یہ ایسی مکمل ہدایت ہے جس کا مشاہدہ  تمام مخلوقات میں کیا جاسکتا  ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق ان فوائد کی تَگ و دَومیں ہے جن کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے  اور نقصانات کو اپنے سے دور کرتی ہے ، یہاں تک کہ ایک جانور کو بھی اللہ تعالی نے اتنا شعور عطاء کیا ہے کہ وہ اپنے فائدہ کی چیز حاصل کرسکتا ہے ، اور نقصان دہ چیز کو اپنے سے دور کرتا ہے ، اور ہر چیز زندگی میں  اپنا کردار ادا کر رہی ہے ، اور یہی بات اللہ تعالی کے اس فرمان میں بیان ہوئی:

﴿الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ﴾ (السجدۃ: 7)

 (جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی)

لہذا جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ، اور اسے ایسی اچھی شکل عطاء کی  کہ عقل اس سے زیادہ بہتر شکل کبھی تجویز نہیں کر سکتی اور اسے اپنے مصالحِ حیات کی رہنمائی عطا فرمائی ، وہ ذات ہی در حقیقت ربِ کریم کی ذات اقدس ہے۔ لہذا اس ذات کا انکار کرنا در حقیقت وجود کے اعتبار سب سے عظیم ترین چیز کا انکار ہے ، یہ تکبر اور کھلے عام جھوٹ بولنا ہے، اللہ تعالی ہی نے مخلوقات کو ہر وہ چیز عطاء فرمائی جس کی انہیں دنیا میں ضرورت ہے ، پھر انہیں ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سکھایا ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کو اس کی مناسب  شکل وصورت عطاء فرمائی، اور ہر نر اور مادہ کو اس کی خاص شکل عطاءفرمائی  جو نکاح، الفت اور معاشرت  کے اعتبار سے اس کی جنس کے ساتھ مناسبت رکھتی ہو ، اور ہر عضوء کو اس کی مناسبت سے خاص شکل عطاء فرمائی جس سے وہ اس کے مطابق فوائد حاصل کر سکے ، ان سب میں واضح اور قطعی دلائل ہیں کہ  اللہ تعالی ہی ہر چیز کے رب ہیں،  اور صرف وہ  ہی عبادت کے لائق ہیں  . . .

وفي كُلِّ شيءٍ لَهُ آيةٌ                 تَـدلُّ علـى أنّه الواحدُ

(ہر  چیز میں اس  کی نشانی ہے      جو نشاندہی کر رہی ہے کہ وہ  ایک ہے)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ( سبحانہ وتعالی) کی اپنی مخلوق پرربوبیت کے اثبات اوراس میں  انفرادیت سے مقصود اللہ(سبحانہ وتعالی) کی بلاشرکتِ غیرے عبادت کے وجوب پر استدلال ہے ، اور یہی توحیدِ الوہیت ہے ۔ لہذا اگر کوئی انسان توحیدِ ربوبیت کا تواقرار  کرے لیکن توحیدِ الوہیت کا اقرار نہ کرے یا جیسا کہ اس کا حق ہے اس پر قائم نہ رہے تو وہ مسلمان اور موحدنہیں ہوتا ،  بلکہ وہ منکر اور کافر ہی ہوگا ، اور اسی کے بارے میں ہم آنے والی  فصل میں بات کریں گے – ان شاء اللہ تعالی ۔

2013-01-11T11:33:50+00:00