صحیح عقیدہ سے منحرف ہونے کی وجوہات – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

صحیح عقیدہ سے منحرف ہونے کی وجوہات – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Causes behind deviation in 'Aqeedah – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

صحیح عقیدہ سے منحرف ہونے کی وجوہات   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان d

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: توحید خالص ڈاٹ کام

مصدر: عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها من الشرك الأكبر والأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحیح عقیدہ سے منحرف ہونے کی کچھ وجوہات ہیں جن کی معرفت حاصل کرنا انتہائی اہم ہے ، بعض اہم وجوہات درج ذیل ہیں :

1- صحیح عقیدہ سے جہالت:

صحیح عقیدہ سے جہالت جس کی وجہ اس کی تعلیم حاصل نہ کرنا ہے ، یا پھر اس سے بے توجہی برتنا ہے، یہاں تک کہ ایک ایسی نسل پروان چڑھ جاتی ہے جو اس عقیدہ سے بے بہرہ ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے مخالف اور منافی امور کااسے کوئی علم ہوتا ہے ۔ لہذا وہحق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتی ہے، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ  نے ارشاد فرمایا  :

  • إِنَّمَا تُنقَضُ عُرَى الإِسلَامِ عُروَةً عُروَةً إِذَا نَشَأَ فِي الإِسلَامِ مَن لَا يَعرِفُ الجَاهِلِيَّةَ ([1])
  •  

2- تعصب اور آباء و اجداد پرستی:

تعصب اور آباء و اجداد پرستی اور انہی کی راہ پر جمے رہنا چاہے وہ باطل ہی کیوں نہ ہو اور جو کچھ بھی اس کے مخالف ہو اسےترک کردینا اگرچہ وہ حق ہی کیوں نہ ہو، ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا  ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ﴾  (البقرۃ: 170)

 (اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ، گو ان کے باپ دادے بے عقل اور گم  راہ ہوں)

3- اندھی تقلید کرنا:

  اندھی تقلید کرنا اس طرح کہ عقیدے کی معاملے میں لوگوں کی باتوں کو بنا اس کی دلیل کی معرفت یا اس دلیل کی صحت معلوم کئے لے لینا، جیسا کہ (اہل سنت والجماعت کے) مخالف فرقوں کا حال ہے ، مثلاً جہمیہ، معتزلہ ، اشاعرہ اور صوفیہ وغیرہ ، ان سب نے اپنے سے پچھلے گمراہ سربراہوں کی پیروی کی ، تو وہ گمراہ ہوئے اور صحیح عقیدہ سے منحرف ہوگئے ۔

4- اولیاء اور نیک لوگوں کے بارے میں غلو کرنا:

 اولیاء اور نیک لوگوں کے بارے میں غلو کرنا ، اور ان کو ان کی حیثیت سے زیادہ اونچا مقام دینا،اس طرح کہ ان کے بارے میں ایسا اعتقاد رکھنا جس پر صرف اللہ تعالی ہی قادر ہے جیسےنفع پہنچانا یا مصیبت دورکرنا ، اسی طرح ان اولیاء کو اللہ تعالی اور اس کی مخلوق کے درمیان حاجتیں پوری کروانے اور دعاء قبول کروانے کے لئے وسیلہ بنانا ، یہاں تک کے معاملہ اللہ تعالی کو چھوڑ کر ان اولیاء کی عبادت تک جا پہنچا ، جیسے ان کے مزارات پر منتیں ماننا اور قربانیاں دینا ، ان سے دعاء وفریاد کرنا اور مدد طلب کرنا ۔ نوح علیہ الصلاۃ والسلام کی قوم نے نیک لوگوں کے بارے میں ایسا ہی کیا تھا جب انہوں نے کہا :

﴿وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا  ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا﴾ (نوح: 23)

 ( اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو )چھوڑنا ))

اور ایسا ہی حال ہے آج بہت سے ممالک میں  قبر پرستوں کا  ہے۔

5-  اللہ تعالی کی کونی (کائناتی) اور قرآنی آیات میں غور و تدبر سے غافل رہنا:

اللہ تعالی کی کونی (کائناتی) اور قرآنی آیات میں غور و تدبر سے غافل رہنا، اور مادی تہذیب و تمدن سے شدید متاثر ہونا ، یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب کچھ صرف  انسانی قدرت کا نتیجہ ہے، لہذا انسانوں کی تعظیم ہونے لگی ، اور تمام وسائل کو انسان کی محنت اور اس کی ایجادات کی طرف منسوب کیا جانے لگا ، جیسا کہ قارون نے ان سے پہلے کہا تھا :

﴿ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ﴾ (القصص: 78)

 (کہا یہ سب کچھ جومیرے  پاس علم ولیاقت ہے اسی کے بل بوتے پر دیاگیا ہوں)

اور جیسا کہ انسان کہتا ہے  :

﴿ ھٰذَا لِيْ﴾ (فصلت: 50)

 (یہ میرا ہے ۔

(یہ ترجمہ بھی ممکن ہے) یہ میری ہی کمائی ہے)

﴿قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ﴾ (الزمر: 49)

(یہ میرے اپنے علم کی بنا ء پر ہی دیا گیا ہے)

اور انہوں نے اس کی عظمت پر غور و فکر ہی نہیں کیا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ، اور اس میں یہ شاندار اور عمدہ خاصیتیں رکھیں ، انسانوں کو پیدا کیا اور انہیں یہ طاقت دی کہ وہ ان خاصیتوں کو دریافت کرسکیں اور ان سے استفادہ حاصل کرسکیں :

﴿وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الصافات: 96)

(حالانکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔

(ایک ترجمہ یہ بھی ہے کہ)  اللہ تعالی ہی تمہارا اور تمہارے اعمال کا خالق ہے)

﴿ اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ  ﴾ (الاعراف: 185)

(اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں )

﴿ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ  ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ، وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ  ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا  ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ﴾ (ابراہیم: 32-34)

(اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمانوں سے بارش برساکر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے کہ دریاؤں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں ، اسی نے  ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کردی ہیں * اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے * اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے ، اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے ، یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے)

6- اکثر گھرانے (اپنی نسلوں کی) صحیح رہنمائی سے دور ہوچکے ہیں:

 اکثر گھرانے (اپنی نسلوں کی) صحیح رہنمائی سے دور ہوچکے ہیں، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :

’’كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ ‘‘([2])

( ہر بچہ فطرت ) اسلام ( پر پیدا ہوتا ہے ، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں ) ۔

ثابت ہوا کہ والدین کا انتہائی اہم کردار ہے بچے کے لئے صحیح سمت کا تعین اور  صحیح رہنمائی کرنے میں ۔

7- مسلم دنیا میں عموماً میڈیا اور تعلیمی مراکز کا اپنا کردار صحیح طور سے نا انجام دینا:

مسلم دنیا میں عموماً میڈیا اور تعلیمی مراکز کا اپنا کردار صحیح طور سے نا انجام دینا، تعلیمی نصاب میں دین کی طرف کوئی خاص توجہ محسوس نہیں ہوتی ، یا پھر بالکل ہی توجہ نہیں ہوتی ۔ سمعی، بصری اور تحریری میڈیا ، الغرض  ہر قسم کا میڈیا محض بربادی اور ہلاکت اور انحراف  کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے ، جہاں محض مادی اور تفریحی چیزوں کا اہتمام ہوتا ہے ، مگروہ چیزیں جو اخلاق کو درست کریں اور صحیح عقیدہ  کو  راسخ کریں اس کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا ، یہاں تک کہ ایسی نسل آئی جس میں کفر اور الحاد کی فوج کا مقابلہ کرنے کی بالکل صلاحیت نہ رہی ۔

 


[1] منهاج السنة النبوية ( 2 / 398 اور 4 / 590 ) مجموع الفتاوى ( 10 / 301 اور 15 / 54)۔

 [2] البخاري الجنائز (1292) ، مسلم القدر (2658 ، 2658) ، أبو داود السنة (4714) ، أحمد (2/233 ، 2/481) ، مالك الجنائز (569).

2013-01-09T05:23:27+00:00