شریعت مطہرہ میں حکمران کے مرتبۂ عالیہ کا بیان – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

شریعت مطہرہ میں حکمران کے مرتبۂ عالیہ کا بیان – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

The great status of ruler in Islaam – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

شریعت مطہرہ میں حکمران کے مرتبۂ عالیہ کا بیان

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ عبدالسلام بن برجس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

شریعت نے حکمرانوں کو جومرتبۂ عالیہ اور جلیل القدر ورفیع منزلت عنایت کی ہے وہ ان کی قدروقیمت ، بلندئ وظیفہ وذمہ داری، علوِ منصب وعظیم مسئولیت کے مناسب حال ہے، کیونکہ ان کا منصب منصبِ امامت ہے جسے نبوت کے خلافت ونیابت کے لیے وضع کیا گیاہے تاکہ دین کی حفاظت اور دنیا کی سیاست رواں دواں رہے۔

شریعت کا حکمرانوں کو یہ شرف اور دوسروں سے بلند درجہ دینا عین حکمت ہے کہ جس کی رعایت وہ اپنے تمام تر تصرفات میں رکھتا ہے، اور عین مصلحت ہے کے جس میں نکھار پیدا کرکے اسے متحقق کرتا ہے۔

کیونکہ لوگوں کو سوائے امام کی قوت ومضبوطی کےکوئی قابو نہیں کرسکتا۔ اگر شریعت اسے اس کے عمل کی نوعیت کے حسبِ حال وہ احترام وتعظیم وغیرہ عطاء نہ کرتی تو لوگ اسے حقیر جانتے اور اس کےزیرفرمان نہ ہوتے۔ جس کے نتیجے میں فتنہ وانارکی جنم لیتی اور مصالح فوت ہوجاتے، دنیا بھی فاسدہوتی اور دین بھی ضائع ہوتا۔

تفصیلی دلائل کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

2013-01-09T04:55:18+00:00