عقیدے کی اہمیت – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

عقیدے کی اہمیت – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The Importance of ‘Aqeedah – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

عقیدے کی اہمیت   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: توحید خالص ڈاٹ کام

مصدر: عقیدۂ توحید اور اس کے منافی امور۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عقیدے کی لغوی تعریف : عقیدہ  دراصل لفظ "عقد" سے ماخوذ ہے  ،  جس کے معنی ہیں کسی چیز کو باندھنا   ،جیسے کہا جاتا ہے "اعتقدت کذا" (میں ایسا اعتقاد رکھتا ہوں) یعنی  میں نے اسے (اس عقیدے کو) اپنے دل اور ضمیر سے باندھ لیا ہے   ۔

لہذا عقیدہ  :  اس اعتقاد کو کہا جاتا ہے جو انسان رکھتا ہے  ،  کہا جاتا ہے  :  "عقیدۃ حسنة" (اچھا عقیدہ)  ،     یعنی  : "سالمة  من الشک" (شک سے پاک عقیدہ)  ،  عقیدہ در حقیقت دل کے عمل کا نام ہے ،  اور وہ ہے دل کا کسی بات پرایمان رکھنا   اور اس کی تصدیق کرنا ۔ 

عقیدہ کی شرعی تعریف:  اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر ،اس کی  کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ، یومِ آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھنا ،  اور انہیں ارکانِ ایمان بھی کہا جاتا ہے۔

شریعت  دوا قسام میں تقسیم ہوتی  ہے  :       عقائد اور اعمال

عقائد  : عقائد ایسی  چیزیں ہیں جن کا تعلق کیفیت ِعمل سے نہیں ہے  ،  مثلاً اللہ تعالی کی ربوبیت اور  اس کی عبادت کے وجوب کا اعتقاد رکھنا، اسی طرح تمام مذکورہ ارکانِ ایمان کا اعتقاد رکھنا ، اور یہ "اصل" (بنیاد/جڑیں)بھی کہلاتے ہیں ۔

اعمال : اعمال کا تعلق کیفیت ِعمل سے ہے ، مثلاً نماز ، زکوۃ ، روزہ اور دیگر عملی احکامات ، یہ "فروع" (شاخیں)بھی کہلاتے ہیں ، کیونکہ یہ (فروع/شاخیں) ان عقائد (اصل/جڑوں) کی صحت یا فساد پر قائم ہوتے ہیں([1])۔

لہذاصحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے ، اور اس کی درستگی  پر ہی اعمال کی صحت کا دارومدار ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے  :

﴿ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا ﴾ (الکہف: 110)

 (جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے)

اور ارشاد باری تعالی ہے  :

﴿ وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾

(الزمر: 65)

(یقیناً آپ کی طرف بھی اور آپ سے پہلے ) کے تمام نبیوں ( کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو بلا شبہ آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور بالیقین آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے)

اور ارشاد باری تعالی ہے  :

﴿ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ، اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ﴾ (الزمر: 2-3)

(پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں ، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے ،خبردار ! اللہ تعالی ہی کے لیے دینِ خالص ہے)

یہ اور اس مفہوم کی دیگر آیاتِ کریمہ جو کہ بہت زیادہ ہیں ، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال اسی وقت مقبول ہوں گے جب وہ شرک سے پاک ہوں،  اسی لیے تمام رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام کی اولین ترجیح عقیدے کی اصلاح رہی ۔ پس سب سے پہلے وہ اپنی قوموں کو اس بات کی دعوت دیتے رہے کہ صرف اکیلے اللہ کی عبادت جائے اور اللہ تعالی کے سوا ہر کسی کی عبادت ترک کی جائے  ،جیسا کہ  ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ﴾ (النحل: 36)

(یقینا ً ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ(لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (جس کی اللہ تعالی کے سوا عبادت کی جاتی ہے) سے بچو)

اور ہر رسول جب بھی اپنی قوم سے مخاطب ہوئے تو فرمایا  :

﴿اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ﴾ (الاعراف: 59)

(تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں )

یہی بات سیدنا نوح ، ہود ، صالح ، شعیب ، اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے اپنی قوموں سے فرمائی ۔

بعثت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک لوگوں کو توحید اور عقیدے کی اصلاح کی دعوت دیتے رہے ، اس لیے کہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ حقیقی داعیان اور مصلحین نے ہر زمانے میں انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسی نقش قدم کی پیروی کی ہے۔ چناچہ وہ توحید اور عقیدےکی اصلاح  کی دعوت سے اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں ، اس کے بعد دین کے دیگر احکامات کی پیروی  کا حکم دیتے ہیں ([2])۔

 


[1] شرح العقیدة السفارینیة)1/4( ۔

[2] عقیدۂ توحید کی مزید اہمیت جاننے کے لیے ہماری ویب سائٹ پر پڑھیں شیخ صالح الفوزان کی کتاب ’’توحید کی اہمیت‘‘۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

2013-01-09T04:44:14+00:00