سلف صالحین اور حکمرانوں پر خروج کرنے سے خبردار کرنا اور روکنا – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

سلف صالحین اور حکمرانوں پر خروج کرنے سے خبردار کرنا اور روکنا – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

The Salaf in warning people from disobedience of the rulers and revolting against them – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus

 

سلف صالحین اور حکمرانوں پر خروج کرنے سے خبردار کرنا اور روکنا

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ  المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: معاملۃ الحکام فی ضوء الکتاب والسنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اس کی مثال امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مشہور مؤقف ہے جو کہ حکمرانوں سے سنت کے مطابق معاملے کرنے کی اپنی مثال آپ ہے۔

ہوا یوں کہ ان کے دور کے حکمرانوں نے ایک بہت برا فکری مذہب اپنا لیا تھا اور لوگوں کو قوت اور تلوار کے زور پراسے زبردستی منواتے بھی تھے، اور اسی سبب سے علماء کرام کے ایک جم غفیر کا خون بھی بہا چکے تھے، اور امت پر فرض کردیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو اللہ تعالی کا کلام یعنی اس کی صفت نہیں بلکہ مخلوق ہونے کا عقیدہ رکھیں، یہاں تک کہ اس بات کو چھوٹے بچوں کی تختیوں تک پر لکھوا دیا گیا تھا۔۔۔اور اس کے علاوہ بھی آخر تک جو مصائب وآزمائشیں انہوں نے کھڑی کیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود امام احمد رحمہ اللہ کو ہوائے نفس یااندھے  جذبات نے نہیں ابھارا کہ وہ سنت کی مخالفت کریں بلکہ وہ سنت پر ہی ثابت قدم رہے۔کیونکہ یہی خیر اور ہدایت کی راہ ہے۔ پس آپ نے حکمران کی اطاعت کا حکم دیا اور عوام اس بات پر ان کے گرد جمع ہوگئی۔ اور آپ ہر اس شخص کے خلاف ٹھوس پہاڑ بن کر جم گئے جوکتاب وسنت سے آزاد محض جذبات کی پیروی اور  انقلابی فسادی مذہب کی بنیاد پر منہج نبوی اور سیرت سلفیہ کی مخالفت کا ارادہ رکھتا تھا۔

حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’أجتمع فقهاء بغداد في ولاية الواثق إلي أبي عبد الله – يعني الإمام أحمد بن حنبل – رحمه الله تعالي – وقالوا له: أن الأمر قد تفاقم وفشا – يعنون: إظهار القول بخلق القرآن، وغير ذلك ولا نرضي بإمارته ولا سلطانه! فناظرهم في ذلك، وقال: عليكم بالإنكار في قلوبكم ولا تخلعوا يداً من طاعة، ولا تشقوا عصا المسلمين، ولا تسفكوا دمائكم ودماء المسلمين معكم وانظروا في عاقبة أمركم، واصبروا حتى يستريح بر، ويستراح من فاجر وقال ليس هذا – يعني نزع أيديهم من طاعته – صواباً، هذا خلاف الآثار‘‘([1])

(واثق کے دور ولایت میں بغداد کے فقہاء ابو عبداللہ یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس جمع ہوئے اور کہا:حالات اب بدترین ہوگئے ہیں او رپھیل چکے ہیں اس سے ان کی مراد تھی خلقِ قرآن کے عقیدہ کا اظہار وغیرہ۔ہم اس کی امارت وحکومت سے راضی نہیں! (یعنی اب ہمارے نزدیک اس کا احادیث میں وارد امام المسلمین ہونا باقی نہ رہا) پس آپ نے ان سے اس بارے میں مناظرہ فرماتے ہوئے کہا: تمہیں چاہیے کہ اپنے دلوں میں اسے برا جانو اور انکار کرو لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو اور مسلمانوں کی حکومت کو پارہ پارہ نہ کرو، اور خود  اپنا اور مسلمانوں کا خون بہانے کا سبب نہ بنو، آخر اپنے اس کام کےانجام پر بھی تو نظر رکھو، صبر کرو یہاں تک کہ نیکوں کو سکون وراحت ملے اور فاجر سے چھٹکارا حاصل ہوجائے۔ اور فرمایا: یہ اطاعت سے ہاتھ کھینچ لینا صواب نہیں یہ احادیث وآثار کے خلاف ہے)۔

یہ اس بارے میں نقل کرنے والوں نے جو کچھ نقل کیا ہےاس میں سے سب سے بہترین وعمدہ مثال ہےکہ جو اس بارے میں سلف کے اہتمام اور اس بارے میں مذہب اہل سنت والجماعت کی عملی تطبیق کو صراحتاً وواضح انداز میں بیان کرتی ہے۔

 


[1] الآداب الشرعیۃ لابن مفلح: 1/195-196، واخرج القصۃ الخلال في السنۃ: ص 133۔

 

2012-12-28T12:34:21+00:00