سنت کو لازم پکڑنے میں فتنے سے نجات اور دردناک عذاب سے چھٹکارا ہے – شیخ محمد بن عمر بازمول

سنت کو لازم پکڑنے میں فتنے سے نجات اور دردناک عذاب سے چھٹکارا ہے – شیخ محمد بن عمر بازمول

Obeying Sunnah saves one from the tribulations and severe torment – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

سنت کو لازم پکڑنے میں فتنے سے نجات اور دردناک عذاب سے چھٹکارا ہے   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کتاب: اتباع سنت کے فضائل وثمرات۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (النور: 63)

(تم اللہ  تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کر لو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے سے ہوتا ہے تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں ، سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے)

جوکوئی بھی سنت کی مخالفت کرے، جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرے۔ اسے چاہیے کہ ڈرے کیونکہ:

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

اسے کوئی فتنہ آلے جیسے اس کےدل میں کفر یا نفاق داخل ہوجائے یا پھر وہ کسی بدعت میں مبتلا ہوجائے جس کی بنا پر وہ دردناک عذاب کا مستحق بن جائے۔

لہذا اتباع سنت کی فضیلت یہ ہے کہ وہ آپ کو فتنے سے بچاتی ہے۔

ایک شخص امام مالک رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہا: اے امام میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: کرلو عمرہ۔ اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ میں اس کے لئے احرام مدینہ سے اس مسجد سے باندھو۔ آپ نے فرمایا: اے بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام ذوالحلیفہ سے باندھا تھا اور تمہارا اس مسجد سے احرام باندھنا خلاف سنت ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اگر تم نے ایسا کرلیا تو کسی فتنے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

2012-12-26T04:54:43+00:00

Articles

Scholars