کیا دعوت کے وسائل وذرائع توقیفی ہیں؟ – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

کیا دعوت کے وسائل وذرائع توقیفی ہیں؟ – شیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم

Are the means of Da'awah limited to the text of Qura'an and Sunnah? – Shaykh Abdus Salaam bin Burjus Aal-Abdul Kareem

کیا دعوت کے وسائل وذرائع توقیفی ہیں؟   

فضیلۃ الشیخ عبدالسلام بن برجس آل عبدالکریم رحمہ اللہ  المتوفی سن 1425ھ

( سابق مساعد استاد المعھد العالي للقضاء، الریاض)

ترجمہ: سید عبدالحلیم

مصدر: السنة والبدعة وأثرهما على الأمة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

پہلا سوال:یہ صاحب دعوت کے وسائل وذرائع کے بارے میں جاننا چاہ رہے ہیں کہ کیا دعوت کے ذرائع توقیفی ہیں ( کہ ان کے جائز ہونے کی دلیل کا موجود ہونا ضروری ہے) یا وہ اجتہادی ہیں؟

 

جواب:   ہم دعوت کے لیے جو بھی وسائل وذرائع  استعمال کریں تو ان کے جائز ہونے کی دلیلوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اور یہ دلیل یا تو کتاب اللہ سے ہو یا پھر رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث سے ہو، یا پھر اجماع یا صحیح شرعی قیاس سے ہو۔ اور اگر کسی دعوتی ذریعہ کے جائز ہونے کی دلیلیں نہیں پائی گئیں تو پھر اس ذریعے کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا بلکہ ناجائز ہوگا، لہذا ہم جو یہ کہتے ہیں کہ دعوت کے ذرائع توقیفی ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ان وسائل وذرائع کے جائز ہونے کی کوئی نہ کوئی شرعی دلیل ضرور ہونی چاہیئے اور یہ دلیل یا تو قرآن مجید سے ہو یا پھر صحیح حدیث سے ہو۔ یا پھر اجماع یا صحیح شرعی قیاس سے ہو۔

 

اوراگر دعوت کے وسائل و ذرائع کے حوالے سے اس بنیادی بات کو سمجھ لیا جائے تو پھر اس معاملے میں اختلاف رائے  کم اور محدود ہو جائے گی۔ اور جن اہل علم نے یہ کہا ہے کہ دعوت کے وسائل و ذرائع اجتہادی نوعیت کے ہیں کہ ان میں اجتہاد سے بھی کام لیا جا سکتاہے تو میرے خیال میں ان کا مطلب یہی ہے کہ دعوت کے وسائل و ذرائع کے جائز ہونے کی دلیل قرآن مجید یا صحیح حدیث یا اجماع یا صحیح شرعی قیاس سے ضرور ہونی چاہیئے۔ البتہ اس ذریعہ کے جائز ہونے کی دلیلوں کو تلاش کرنے کے سلسلے میں اجتہاد کیا جائے گا۔ جب کہ جو لوگ دعوت کے وسائل و ذرائع کے بارے میں شرعی علم اور دلائل کے بغیر ہی بات چیت اور گفتگو کر رہے ہیں تو ان کی باتوں پر کوئی توجہ ہی نہیں دینی چاہیئے۔ جیسے کسی نے یہ کہہ دیا کہ جناب اداکاری وڈرامہ بھی دعوت کے وسائل و ذرائع میں سے ہے، تو یہ بات میرے نزدیک بالکل بھی قابل قبول نہیں۔ یا کسی نے  کہا جو میں نے آج ہی مجلہ ’’الدعوۃ‘‘ میں پڑھا کہ ایک رائٹر وسائل دعوت کے بارے میں  ایک ایسی عبارت لکھتا ہے جو کہ خود مضحکہ خیز ہے! کہتا ہے کہ: (ہم پر واجب ہے کہ ہم ہر مباح وسیلہ اختیار کریں یا کہا کہ واجب ہے کہ اس پر قیاس کریں) اس قسم کا کلام تو کسی ایسے شخص سے ہی صادر ہوسکتا ہے جسے علم کی بدیہات واساسیات تک کا علم نہیں جو مبا ح وواجب میں فرق کرنا ہی نہیں جانتا (یعنی دونوں کی تعریفات میں واضح تعارض ہے)، تو پھر کیسے ایسوں کے قول یا جو کچھ یہ مقرر کریں اس کی طرف التفات کیا جاسکتا ہے؟!

2012-12-12T03:01:20+00:00