کیا کلمہ گو مشرک بھی واجب القتل ہے؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

کیا کلمہ گو مشرک بھی واجب القتل ہے؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Are the ones who commit Shirk after proclaiming the Kalimah also to be killed? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کلمہ گو مشرک بھی واجب القتل ہے   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: أهمية التوحيد (محاضرات في العقيدة والدعوة

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اسی لئے کافروں کو توحید کی دعوت دی جائے گی یعنی جو اصلی کفار ہیں جیسے یہود ونصاری اور بت پرست، اسی طرح مسلمانوں میں سے  ایسے مرتدین کو جو لا الہ الا اللہ پڑھ کر اسلام میں داخل تو ہوئے مگر پھر الٹے پیر پھر گئے اور قبرومزار (والوں) کو پکارنے لگے، اس قسم کے لوگوں پر ہم ارتداد کا حکم لگائیں گےاور انہیں توحید کی طرف اور نئے سرے سے دین کی جانب رجوع کرنے کی دعوت دیں گے اگر وہ توبہ کرلیں تو صحیح وگرنہ انہیں قتل کردیا جائے گا([1]):

﴿ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ﴾ (التوبۃ: 5)

 (پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کرو، ان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہرگھاٹی میں جابیٹھو، ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑ دو)

 

ایک اور آیت میں فرمایا:

﴿ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ﴾ (التوبۃ: 11)

 (اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوۃ دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں)

 

پس کافرومشرک کو اسلام کی جانب دعوت دی جائے گی اسی طرح مسلمانوں میں سے جو مرتد ہیں انہیں بھی توبہ اور صحیح دینی عقیدے  میں جس خلل کے وہ مرتکب ہوئے اس کی تصحیح کرنے کی ، اور انہیں عبادت میں اخلاص اور قبروں کی عبادت اور اولیاء وصالحین کا تقرب حاصل کرنے (کے لئے مختلف عبادتیں کرنے) سے توبہ کی، اور کلمۂ توحید جسے انہوں نے پڑھا اسے صحیح معنوں میں اپنانے کی  دعوت دی جائے گی۔اس کے علاوہ خود توحید پرست مسلمانوں کو بھی جن سے کسی قسم کا شرک صادر نہیں  ہوا انہیں بھی صحیح توحید بیان کرنی چاہیے تاکہ وہ کہیں اس میں غلطی نہ کرجائیں اور ان کے سامنے عقیدے کو کھول کر بیان کیا جائے خصوصاً مسلمانوں کی اولاد ، عوام اور ابتدائی طالبعلموں کو، اسی طرح گمراہ علماء کو بھی ان کے علم وعقیدے کی تصحیح کی دعوت دی جائے گی۔

 

جیسا کہ یہود بھی علماء تھے لیکن وہ علماء ِسوء تھے، رسول اللہ (ﷺ) نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

’’إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‘‘([2])

(تم ایک اہل کتاب قوم (یعنی علماء) کی طرف جارہے ہو، تو چاہیے کہ جس چیز کی طرف تم سب سے پہلے انہیں دعوت دو وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی ہو)۔

 

 دیکھیں وہ اہل علم ہیں انہیں بھی لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف دعوت جارہی ہے کیونکہ انہوں نے اسے ترک کردیا اور اس پر عمل نہ کیا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿ قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ﴾ (التوبۃ: 29)

(ان لوگوں سے لڑو جو اللہ تعالی پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے، اور جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کی حرام کردہ شے کو حرام نہیں جانتے،اورنہ ہی دینِ حق کو قبول کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے (یعنی اہل کتاب)، یہاں تک کہ وہ ذلیل وخوار ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں)

 

پس علم سے انحراف کرنے والے کو توحید کی طرف دعوت دی جائے گی اگرچہ وہ عالم ہی کیوں نہ ہوپس اگر وہ مان لیتا ہے تو بہتر وگرنہ اسے قتل کردیا جائے گااگر وہ اکیلا ہو اور اگر پوری جماعت ہو تو ان سے قتال کیا جائے گا یہاں تک کہ دین تمام کا تمام اللہ تعالی ہی کے لئے ہوجائے۔

 

لہذا یہ ہے عقیدۂ توحید  یعنی: ’’إفراد الله بالعبادة وترك عبادة ما سواه‘‘ (اللہ تعالی کو اس کی عبادت میں اکیلا جاننا اور اس کے علاوہ ہر ایک کی عبادت کو ترک کردینا) اسی بات کی لوگوں کو وضاحت کی جائے گی اور عبادت کا صحیح معنی بتایا جائے گا۔

 


[1] البتہ ارتداد کا حکم لگانا علماء کا کام ہے اور اس کی حد نافذ کرنا حکمران وقت کا، اسلام میں کسی شخص کو یہ معاملات خود سے کرنے کی اجازت نہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[2] صحیح بخاری 1458، صحیح مسلم 21۔

 

2012-11-07T16:07:53+00:00