وہ کونسے عیوب ہیں کہ جو قربانی کو ناجائز بناتے ہیں؟ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

وہ کونسے عیوب ہیں کہ جو قربانی کو ناجائز بناتے ہیں؟ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

What deficiencies make the sacrificing not acceptable? – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

وہ کونسے عیوب ہیں جو قربانی کو ناجائز بناتے ہیں   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ  المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: من سلسلة لقاء الباب المفتوح/ للإمام العثيمين/ شريط رقم 92

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: وہ کونسے عیوب ہیں جو قربانی کو ناجائز بناتے ہیں؟

 

جواب: قربانی کی شرائط میں سے ہے کہ وہ ان عیوب سے سلامت ہو جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں بیان فرمائی ہیں جو کم از کم قربانی کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہیں:

’’ أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي‘‘([1])

(چار قسم کے جانور قربانی کے لیے جائز نہیں: ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، ایسا مریض جس کا مرض ظاہر ہو، ایسا لاغر کہ جس کی ہڈیوں میں گودا ہی نہ ہو)۔

 

"الْعَجْفَاءُ" یعنی نہایت نحیف، " لَا تُنْقِي" یعنی اس  کی ہڈیوں میں مخ ہی نہ ہو۔ پس یہ چار عیوب قربانی کو ناجائز بناتے ہیں۔

 

یعنی اگر کوئی شخص ایک ایسی کانی بکری ذبح کرتا ہے کہ جس کا کانا پن ظاہر ہو تو یہ غیرمقبول ہے، اسی طرح سے اگر ایسی لنگڑی بکری ذبح کرتا ہے جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو تو یہ بھی غیرمقبول ہے، اور یہی حال ایسی مریض بکری کہ جس کا مرض ظاہر ہو اور ایسی کمزور کہ جس کی ہڈیوں میں مخ ہی نہ ہو کا ہے کہ یہ بھی غیرمقبول ہوں گی۔

 اسی طرح سے وہ عیوب بھی جو انہی عیوب کے ہم معنی ہو یا ان سے بھی بڑھ کر ہوں جیسے اندھا پن مثلاً اگر کوئی اندھی بکری ذبح کرتاہے تو وہ ایسے ہی غیر مقبول ہےجیسا کہ کانی بکری کو ذبح کرنا ، اسی طرح سے کسی کا ہاتھ پیر کٹا ہوا ہو تو وہ بھی غیر مقبول ہے کیونکہ جب محض لنگڑانے پر قربانی جائز نہیں تو ہاتھ پیر کٹے کی تو بالاولی ناجائز ہوگی۔ اور اس مریض کی طرح کہ جس کا مرض ظاہر ہو وہ حاملہ بکری ہے کہ جسے دردِزہ ہورہے ہوں یہاں تک کہ وہ جن لے پھر دیکھا جائے کہ آیا وہ زندہ بچتی ہے کہ نہیں۔

 

اسی طرح سے المُنخنقة(گلا گھٹنے سے مر نے والا)، الموْقوذة(چوٹ لگنے سے مرنے والا)،المتردِّية(گر کرمرنے والا)،النَّطيحة (سینگ لگنے سے مرنے والا) اور جسے وحشی جانور پھاڑ کھائیں۔ کیونکہ یہ تومریض کے مقابلہ میں بالاولی ناجائز ہوئے۔

 

البتہ ان عیوب کے علاوہ جتنے عیوب ہیں ان کی موجودگی میں قربانی ہوجاتی ہے مگر ان سے بھی پاک ہونا زیادہ افضل ہے جتنی قربانی عیوب سے پاک واکمل ہوگی اتنا ہی افضل ہے۔

 

پس جس کا کچھ کان کٹا ہو، یا سینگ یا دم میں سےکچھ کٹا ہو تو بھی اس کی قربانی جائز ہے لیکن ان سے پاک ہونا اکمل ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ کٹنا یا چرا ہونا کم ہو یا زیادہ حتی کہ اگر پورا سینگ یا پورا کان یا پوری دم ہی کیوں نہ کٹی ہو تو بھی یہ جائز ہے، لیکن جتنا کامل ہوگی اتنی ہی افضل ہوگی۔

 


[1] صحیح النسائی 4381، صحیح ابن ماجہ 2562، صحیح ابی داود 2802، صحیح الترمذی 1497۔

 

 

2012-10-23T06:37:31+00:00