اجتماعی قربانی کے احکام – مختلف علماء کرام

اجتماعی قربانی کے احکام – مختلف علماء کرام

Collective sacrifice and its ruling – Various 'Ulamaa

اجتماعی قربانی  کے احکام

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا پانچ افراد ایک قربانی میں شریک ہوسکتے ہیں؟

جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ:

اگر قربانی بکرا، بکری وبھیڑ وغیرہ کی ہو تو ملکیت کے اعتبار سے ایک قربانی میں  ایک سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوسکتے (یعنی اکیلے کی ہی ہوگی)۔ جبکہ گائے یا اونٹ کی قربانی میں ملکیت کے اعتبار سے سات افراد شریک ہوسکتے ہیں([1])۔

لیکن جہاں تک معاملہ ہے ثواب کے اعتبار سے شریک ہونا تو  اس میں کوئی حرج نہیں کہ انسان اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے اگرچہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ایک قربانی کرلے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ اپنے اور علماء امت وغیرہ جیسے بہت سے لوگوں کو ثواب میں شامل کرلے کہ جن کی تعداد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔

(فتاوى نور على الدرب/ للإمام العثيمين/ شريط رقم: 186)

 

سوال: کیا قربانی میں شراکت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی گھر والے ہوں؟

جواب از  فتوی کمیٹی، سعودی عرب:

ایک اونٹ یا گائے کی قربانی سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے، برابر ہے کہ وہ ایک گھر والے ہوں یا مختلف گھروں والے ہوں، اور یہ بھی برابر ہے کہ ان کے درمیان کوئی قرابتداری ہو یا نہ ہو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قربانی میں شراکت کی اجازت دی تھی اونٹ اور گائے میں سات سات حصوں کی، لیکن اس کی تفصیل بیان نہيں فرمائی۔ واللہ اعلم۔

(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء/ فتوى رقم (2416)

عضو              / نائب رئيس اللجنة/      الرئيس

عبد الله بن غديان/ عبد الرزاق عفيفي/ عبد العزيز بن باز.)

 

سوال: کیا ایک اونٹ ایک شخص کی طرف سے بھی کیا جاسکتا ہے؟

جواب: جو یہ کہتا ہے کہ ایک اونٹ لازمی طور پر ایک جماعت (اجتماعی قربانی) کے سوا نہیں ہوسکتا تو وہ غلطی پر ہے۔  ہاں البتہ بکرا ایک ہی کو کفایت کرتا ہے، اور بکرے کی قربانی کرنے والا اپنے گھر والوں کو ثواب میں شریک کرسکتا ہے۔ لیکن اونٹ ایک کی طرف سے بھی اور سات کی طرف سے بھی جو اس کی قیمت میں شریک ہوتے ہيں کفایت کرتا ہے۔ اور اس کے ساتوں حصے ان سات لوگوں کی طرف سے الگ الگ ایک مستقل قربانی ہوتے ہیں، اور گائے بھی اس بارے میں اونٹ کی طرح ہے۔

(فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء/ فتوى رقم (3055)

عضو              / نائب رئيس اللجنة/      الرئيس

عبدالله بن غديان/ عبد الرزاق عفيفي/ عبد العزيز بن باز.)

 


[1] جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ: ’’نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ‘‘(صحیح مسلم 1318) (ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ والے سال قربانیاں کیں تو ہم اونٹ میں سات شریک ہوئے اور گائے میں بھی سات) جبکہ اونٹ کے بارے میں دس کی بھی روایت ہےسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً، وَفِي الْجَزُورِ عَشَرَةً ‘‘ (صحیح ترمذی 905) (ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ عیدالاضحی آگئی تو ہم گائے میں سات شریک ہوئے اور اونٹ میں دس)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

2012-10-22T06:24:31+00:00