حکومت مخالف چینلز دیکھنے کا حکم؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

حکومت مخالف چینلز دیکھنے کا حکم؟ – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Watching anti-government channels? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

حکومت مخالف چینلز دیکھنا؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال 7۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال7: بعض ایسے سیٹلائیٹ چینلز اور بعض ایسے انٹرنیٹ فارمز ہیں کہ جو اس ملک (سعودی عرب) کے حکمرانوں کی اطاعت سےہاتھ کھینچ لینے اوربیعت توڑ دینے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ آپ کی ان لوگوں کےلیے کیا نصیحت ہےکہ جواس قسم کی تلبیسات سے فریب خوردہ ہوجاتے ہیں یا اسے سنتے اوراس میں مشارکت کرتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، یہی ملک دشمنوں کی نظر میں کانٹا بنا ہوا ہےاور وہ اس کےدرپے ہیں کیونکہ یہی ایک ملک باقی رہ گیاہےجومنہج سلف صالحین کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اور یہی ملک ہےجو ہر قسم کے انقلابات وفسادات سے امن میں ہے۔ اور اس ملک میں الحمدللہ امن وامان اور سلف صالحین کے منہج کا بول بالا ہے۔ اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے یہ خصائص چھین کر اسے دنگا فساد کی آماجگاہ بنالیں کہ اس میں قتل وقتال ہوتا رہے جیسا کہ دیگر ممالک میں ہورہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے لوگوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی خبردار کریں۔ ایسے چینلز کو اپنے گھروں میں آنے ہی نہ دیں کہ ہماری اولادیں ایسے شروفتنہ کا مشاہدے کریں اور اسی پر تربیت پائیں۔ واجب ہے کہ اس قسم کے سیٹلائیٹ چینلز سے اپنے گھروں کو بچائیں اور اپنے بچوں کو ایسے کیفے وغیرہ میں جانے سے بھی روکیں کہ جہاں یہ سیٹلائیٹ چینلز چلتے ہوں  یا انٹرنیٹ دستیاب ہو۔ بچوں کے والد کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ان کیفوں میں جانے سے روکیں جن میں اس قسم کا فساد پایا جاتا ہے، کیونکہ والد اس بارے میں مسئول ہیں([1]

 


[1] امام الآجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جو کوئی بھی تمہارا حاکم ہو عربی ہو یا اس کے علاوہ کوئی سیاہ یا سفید یا عجمی تو ضرور اس کی اطاعت کرو سوائے معصیت کے۔ اگرچہ وہ تمہیں تمہارے حقوق سے محروم رکھے، اور ظلماً تمہیں مارے، تمہاری ہتھک آمیزی کرے، اور تمہارا مال چھین لے۔ یہ سب باتیں تمہیں اس بات پر نہ ابھاریں کہ تم اپنی تلوار کے ساتھ اس کے خلاف خروج کرو اور قتال کرو، یا کسی خارجی کے ساتھ مل کر حاکم کے خلاف قتال کرو، اور نہ ہی کسی دوسرے کو اس بات کی ترغیب دو یا ابھارو کہ وہ حاکم کے خلاف خروج کرے، بلکہ تمہیں چاہیے کہ صبر کرو۔۔۔‘‘ (کتاب الآجری 1/381) میں کہتا ہوں کہ آج کے دور میں کتنے ہی خوارج موجود ہیں اللہ تعالی ان کی کثرت نہ کرے۔ ان میں سے کسی نے اپنا ایک چینل جاری کیا جس کا نام الاصلاح رکھا حالانکہ درحقیقت وہ شروفسادکا چینل ہے اور خوارج کے منابر میں سے ایک منبر ہے اور دوسرا چینل حقوق الانسان کے نام سے ہے جو اسی مذکورہ چینل کا بھائی ہی ہے کہ یہ بھی اسی فکر ونہج پر گامزن ہے دونوں کا کام ہی یہود ونصاریٰ کی خدمت کرنا اور مذہب خوارج کو فروغ دینا  ہے۔ ان شاء اللہ اس بارے میں مزید کلام آئے گا۔

 

 

2012-08-27T10:00:20+00:00