مطلوبہ توحید – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

مطلوبہ توحید – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

The required Tawheed – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

مطلوبہ توحید

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: دروس من القرآن الکریم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتےہیں وہ توحید جو (جن وانس سے) مطلوب ہے وہ توحید الوہیت ہے، اور اسی لئے تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام  نے اپنی دعوت کا آغاز اپنی قوم کو یہ کہتے ہوئے کیا:

﴿ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ﴾ (الاعراف: 59)

(اللہ تعالی کی عبادت کرو تمہارا اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں)

انہوں نے توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جیسا کہ قرآن کریم نے ان سے متعلق یہ بیان کیا کیونکہ یہ توحید الوہیت ہی تھی کہ جس کا انسانیت نے انکار کیا اور شیاطین نے اسی کے متعلق گمراہ کیا ۔

جبکہ توحید ربوبیت تو ایک حاصل شدہ، موجود اور دلوں میں راسخ چیز ہے([1]) ۔لہذا اسی پر اقتصار واکتفاء کرنا بندے کو نجات نہیں دلا سکتا، اور نہ ہی اسے موحدین ومؤمنین کے زمرے میں داخل کرسکتا ہے۔ اسی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفارِ قریش سے قتال کیا حالانکہ وہ اس بات کے اقراری تھے کہ اللہ تعالی ہی خالق، رازق، مدبر اور محیی وممیت (زندگی وموت کا مالک) ہے۔ پس آپ نے ان سے  قتال کیا اور ان کے خون کو حلال جانا جب تک کہ انہوں نے توحید الوہیت کا اقرار نہ کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا‘‘([2])

(مجھے (اللہ تعالی کی طرف سے) حکم دیا گیا ہےکہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کریں اور اگر وہ اس کا اقرار کرلیں تو وہ مجھ سے اپنی جانیں اور مال بچا لیں گے مگر جو اس کا  حق بنتا ہو(یعنی شرعی سزا وغیرہ))۔

اور یہ اس بات کی دلیل ہےکہ مخلوق سے جو سب سے بڑا مطلوب ہے وہ توحید الوہیت ہے، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ اس بات کااقرار کریں کہ اللہ تعالی ہی خالق، رازق اور محیی وممیت ہے کیونکہ وہ تو  اس بات کے پہلے ہی معترف تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیں‘‘ یا ’’اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں‘‘۔

 


[1] قرآن کریم میں کئی جگہ اس کا واضح بیان ہوا ہے، جیسے فرمایا: ﴿قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ  ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ  ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴾ (یونس: 31) (آپ کہیں (ان مشرکوں سے) کون تمہیں آسمان وزمین سے رزق مہیا کرتا ہے؟ یا کون تمہاری سماعت وبصارت کا مالک ہے؟ اور جو مردے سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کو؟ اور کون تمام امور کی تدبیر کرتا ہے؟ تو وہ (مشرکین عرب) ضرور کہیں گے کہ ایسا تو اللہ تعالی ہی کرتا ہے۔ آپ کہیں کہ: تو پھر تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں (اور پھر بھی اس کے ساتھ شریک مقرر کرتے ہو!))  اس معانی کی اور بھی بہت سی آیات ہیں دیکھئے سورۂ المؤمنون: (84-89)، العنکبوت: (61)، (63)، لقمان: (25)، زمر: (38)، زخرف: (9)، (87) وغیرہا۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

[2] البخاري "الجهاد و السير": (2786)، مسلم "الإيمان": (21)، الترمذي "الإيمان": (2606)، النسائي "تحريم الدم": (3971)، أبو داود "الجهاد": (2640)، ابن ماجه "الفتن": (3928)، أحمد: (1/11)، اور أخرجه البخاري: (2946) ومسلم: (21).

 

 

2012-08-27T05:32:45+00:00