کیا لڑکے پر شادی کے لیے والدین کی اجازت یا مشورہ واجب ہے – شیخ محمد ناصر الدین البانی

کیا لڑکے پر شادی کے لیے والدین کی اجازت یا مشورہ واجب ہے – شیخ محمد ناصر الدین البانی

 Is the permission and consulting with parents obligatory for a man to marry – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

کیا لڑکے کو شادی کے لئے والدین کی اجازت ومشورہ ضروری ہے؟   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی  رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلة الهدى والنور رقم 224

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سائل: کیا شادی کے لئے اپنی والدہ یا والد سے مشورہ کرنا واجب ہے؟

الشیخ: کیا سائل کنوارہ ہے؟

سائل: جی

الشیخ: کیا وہ اب تک عملی زندگی میں داخل نہیں ہوا؟

سائل: نہیں۔۔۔

الشیخ: کوئی ضروری نہیں کیونکہ یہ فرض ہے۔

سائل: کیا؟

الشیخ: یعنی مشورہ کی ضرورت نہیں کیونکہ میرے نزدیک شادی کرنا فرض ہے نہ کہ محض سنت۔

سائل: اور اگر کسی کو (شادی میں تاخیر کرنے کی صورت میں) گناہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو؟

الشیخ: بالکل، اس صورت میں تو بالاولی اسے شادی کرلینی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ‘‘([1])

(اے نوجوانو ں کی جماعت تم میں سے جو شادی کرنے کی قدرت واستطاعت رکھتا ہوں تو اسے چاہیےکہ ضرور شادی کرلے کیونکہ یہ نظروں کو بہت زیادہ نیچے رکھنے والی اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو اس کی قدرت واستطاعت  نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ روزے رکھے کیونکہ یہ بھی اس کی شہوت کو قابو میں رکھے گا)۔

پس اگر کوئی ہونہار لڑکا شادی کے قابل ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے والد یا والدہ سے پہلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اطاعت کرے ۔

سائل: بالکل صحیح۔۔۔تو کیا اس صورت میں مشورہ کرنا (اگر واجب نہیں تو) مستحب کہلائے گا؟

الشیخ: کوئی حرج نہیں، کیونکہ بہرحال مشورہ کرنے میں خیر ہوتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے، بلکہ ایک حدیث بھی روایت کی جاتی ہے اگرچہ  اس کی  سند صحیح نہیں، لیکن یہ حکمت سے خالی نہیں:

’’مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ، وَلا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ، وَلا عَالَ مَنِ اقْتَصَد‘‘([2])

(وہ شخص کبھی نامراد نہ ہوگا جو استخارہ کرتا ہے، اور وہ شخص کبھی نادم نہ ہوگا جو مشورہ کرتا ہے، اور وہ شخص کبھی کنگال نہ ہوگا جو میانہ روی اختیار کرتا ہے)۔

 


[1] صحیح بخاری 5066، صحیح مسلم 1402۔

[2] مسند الشهاب 774، المعجم الصغیر للطبراني 78، شیخ البانی نے السلسلة الضعيفة611 اور ضعیف الجامع 5056 میں اسے موضوع (من گھڑت) کہا ہے۔ 

2012-08-15T10:16:00+00:00