کیا شرمگاہ کو چھونا نواقض وضوء میں سے ہے؟ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

کیا شرمگاہ کو چھونا نواقض وضوء میں سے ہے؟ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Does touching private parts nullify Wudu? – Shaykh Muhammd bin Saaleh Al-Uthaimeen

کیا شرمگاہ کو چھونا نواقضِ وضوء میں سے ہے؟   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوی نور علی الدرب (الطھارۃ) رقم 857۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: شرمگاہ خواہ دُبُر ہویاقبُل( سبلین) کو چھونے خصوصاً وضوء کے دوران یا پھر وضوء کی حالت میں چھونےکا کیا حکم ہے؟

جواب: ظاہراً یہ محسوس ہوتا ہے کہ سائل کا مقصد شرمگاہ کو چھونے سے وضوء ٹوٹنے کے بارے میں دریافت کرنا ہے۔  عرض یہ ہے کہ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ شرمگاہ کو چھونا نواقضِ وضوء میں سے نہیں کیونکہ اس بارے میں مختلف قسم کی احادیث وارد ہوئی ہیں، جبکہ اصل اصول وضوء کا نہ ٹوٹنا ہے۔ مگر ہم ان دونوں احادیث کو دیکھیں گے، ایک تو سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ  کی حدیث  کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو نماز کی حالت میں اپنے ذَكَر(شرمگاہ) کو چھوئے  کیا اس پر دوبارہ وضوء کرنا ضروری ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا::

’’هُوَبَضْعَةٌ مِنْكَ‘‘([1])

(یہ  تمہارے جسم کا محض ایک ٹکڑا ہی تو ہے)۔

 اور دوسری حدیث سیدنا بسرہ رضی اللہ عنہ  کی کہ:

’’مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأَ‘‘([2])

(جو اپنے ذکر کو ہاتھ لگائے تو اسے چاہیے کہ وضوء کرلے)۔

ان دونوں احادیث سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل ممکن ہے کہ اگر وہ شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ چھوتا ہے تو وضوء ٹوٹ جائے گا اور اگر بلاشہوت چھوتا ہے تو وضوء برقرار رہے گا۔

اس طرح سے یہ دو احادیث جمع ہوجاتی ہیں، اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضوء نہ ٹوٹنے کی دلیل اس بات کو بنایا تھا کہ یہ تمہارے ہی جسم کا ایک ’’بَضْعَةٌ‘‘ (ٹکڑا) ہے۔ چناچہ  جب یہ تمہارے جسم کا محض ایک ٹکڑا ہی ہے تو اس کو چھونا ایسا ہی جیسے بقیہ اعضاءِ جسم کو چھونا مثلاً انسان کا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو چھونا ہے یا پھر اپنی ٹانگ، سر، ناک یا کسی بھی حصہ کو چھونا  ایسا ہی ہے جیسے جسم کے کسی ایک حصہ کو چھولینا ہو، عین اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے ذکر کو بلاشہوت چھوتا ہے تو اس کا چھونا جسم کے دیگر اعضاء کے چھونے کی مانند ہے لیکن اگر شہوت کے ساتھ چھوتا ہے تو ظاہر ہے اب اس کا چھونا دیگر اعضاء کے چھونے کی طرح نہ رہا۔ لہذا اس طرح سے ان دونوں احادیث کے مابین جمع کیا جاسکتا ہے کہ ہم کہیں اگر اپنے ذکر کو شہوت سے چھوا تو وضوء جاتا رہا اور اگر بلاشہوت چھوا ہے تو وضوء برقرار رہے گا۔

البتہ بعض علماء کرام نے اس کے علاوہ بھی ایک طریقے سےدونوں احادیث کے مابین جمع فرمایا ہے وہ اس طرح کے ’’فَلْيَتَوَضَّأَ‘‘ (چاہیے کہ وضوء کرلے) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو حکم ہے وہ وجوب کے لئے نہیں بلکہ استحباب کے لئے ہے۔ بہرحال  ذکر یا فرج کو مطلقاً چھونے پر وضوء کے وجوب کا حکم لگانے میں میرے نزدیک نظر  ہے اور صواب رائے میرے نزدیک اس کے خلاف ہے(جو اوپر بیان ہوئی)۔

 


[1] صحیح نسائی 175۔

 

[2] صحیح نسائی 164، صحیح ابوداود 181۔

 

2012-08-15T10:12:44+00:00

Articles

Scholars