ہم پر کس طرح قرآن مجید کی تفسیر کرنا واجب ہے – شیخ محمد ناصر الدین البانی

ہم پر کس طرح قرآن مجید کی تفسیر کرنا واجب ہے – شیخ محمد ناصر الدین البانی

What is obligatory upon us when interpreting the Qura'an – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

ہم پر قرآن کریم کی تفسیر کس طرح کرنا واجب ہے   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: كيف يجب علينا أن نفسر القران الكريم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال:ہم پر قرآن کریم کی تفسیر کس طرح کرنا واجب ہے؟

جواب: اللہ تعالی نے قرآن کریم کو اپنے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل پر نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو کفر وجہالت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نور کی طرف لے جائیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿الۗرٰ  ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ  ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ﴾ (ابراھیم: 1)

(الف لام را، یہ (عالی شان) کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف لائیں ، ان کے رب کے حکم سے، غالب اور تعریفوں والے (اللہ) کی راہ کی طرف)

اور اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن مجید میں جو کچھ ہے اس کی وضاحت کرنے والا اور تفسیر کرنے والا بناکر بھیجا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ﴾ (النحل: 44)

(یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، تاکہ وہ غور و فکر کریں)

پس یہ سنت جو کچھ قرآن کریم میں ہے اس کی تفسیر ، بیان ووضاحت بن کر آئی ہے اوریہ بھی اللہ تعالی کی جانب سے وحی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى، اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾ (النجم: 3-4)

(اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں، وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے)

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَلا، إِنِّي أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، أَلا، يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ‘‘([1])

(خبردار، میں قرآن اور اس کی مثل (یعنی حدیث) دیا گیا ہوں۔ آگاہ رہو، قریب ہے کہ کوئی پیٹ بھرا شخص اپنی مسہری پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور کہے کہ: تمہیں صرف اس قرآن کو لازم پکڑنا چاہیے۔ جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ بس اسے ہی حلال جانو اور جو کچھ تم اس میں حرام پاؤ بس اسے ہی حرام جانو۔ حالانکہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام فرمادیا وہ ایسا ہی ہے گویا کہ اللہ تعالی نے حرام فرمادیا)۔

لہذا وہ سب سے پہلی چیز کہ جس کے ذریعہ قرآن کریم کی تفسیر کی جائے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات (تصدیقات) کا نام ہے۔

اس کے بعد اہل علم کی تفسیر کا نمبر آتا ہے جن میں سرفہرست سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ انہیں ایک طرف تو باکثرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شرف صحبت حاصل رہا اور دوسری طرف ان کا قرآن کریم، اس کے فہم اور تفسیر سے متعلق سوالات پر خصوصی توجہ عنایت فرماناتھا۔

پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں کہ ان کے بارے میں خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ’’إنه ترجمان القران‘‘ (آپ ترجمان القرآن ہیں)۔ پھر ان کے بعد کوئی بھی صحابی کہ جس سے  قرآنی آیت کی تفسیر ثابت ہواور اس بارے میں صحابہ کا اختلاف نہ ہو تو اسے ہم رضاو تسلیم کے ساتھ قبول کریں گے۔

اگر صحابہ سے کچھ نہ پایا جائے تو پھر ہم ان تابعین رحمہم اللہ کی جانب رجوع کریں گےکہ جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تفسیر حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی جیسے سعید بن جبیر، طاووس اور ان جیسے دوسرے کہ جن کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تفسیر حاصل کرنا مشہور ہے خصوصاً سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا۔

لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض آیات کی خاص مذہب اوررائے کےساتھ تفسیر کی جاتی ہے، اور براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان نہیں ذکر  کیا جاتا۔چناچہ بعض متاخرین نے تو کسی آیت کو لے کر اس کی مستقل طور پر اپنے مذہب کے مطابق تطبیق کرنی شروع کردی۔ اور یہ ایک بہت خطرناک مسئلہ ہے کہ آیات کی تفسیر اپنے مذہب کی تائید میں کی جائے، جبکہ علماء تفسیر نے اس آیت کی اس اہل مذہب سے ہٹ کر کوئی تفسیر کی ہو۔

ممکن ہے کہ ہم اس بارے میں ایک مثال بیان کردیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ (المزمل: 20)

(لہذا جتنا اس (قرآن) میں سے پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو پڑھو)

بعض مذاہب اس  کی تفسیرنفس تلاوت سے کرتے ہیں یعنی نمازوں میں قرآن کی تلاوت میں سے جوواجب ہےوہ ایک طویل آیت یا تین مختصر آیات ہیں! وہ ایسا کہتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واضح صحیح حدیث وارد ہے، فرمایا:

’’لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ‘‘([2])

(اس شخص کی نماز ہی نہیں جس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی)۔

اور دوسری حدیث میں فرمایا:

’’مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ‘‘([3])

(جس کسی نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، مکمل نہیں)۔

 یہ دونوں احادیث مذکورہ بالا (مذہبی) تفسیر کہ اس کااطلاق نماز کی قرأت پر ہوتا ہے کو رد کرتی ہیں۔ ان کےنزدیک قرآن کریم کی تفسیر سنت سے جائز نہیں الا یہ کہ سنت متواترہ([4]) ہویعنی متواتر (قرآن) کی تفسیر بھی متواتر سے ہونی چاہیے۔ لہذا وہ مذکورہ بالا دونوں احادیث کورد کردیتے ہیں اپنی رائے اور مذہب کے مطابق تفسیر پر اعتماد کرتے ہوئے۔

حالانکہ تمام علمائے تفسیر خواہ متقدمین ہوں یا متاخرین نے اس آیت کریمہ کے بارے میں کہ ﴿فَاقْرَءُوْا﴾ (پس  قرأت کرو) سے مراد قیام اللیل (نماز تہجد) جتنی میسر ہو اتنا پڑھولیا ہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے اس آیت کو اسی مناسبت سے بیان فرمایا ہے،ارشاد باری تعالی ہے:

﴿اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُـثَيِ الَّيْلِ وَنِصْفَهٗ وَثُلُثَهٗ وَطَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ ۭ وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ  ۭعَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۭ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ۙوَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  ڮ  فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ (المزمل: 20)

(آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے ۔ اور رات دن کا پورا اندازہ اللہ  تعالیٰ کو ہی ہے،  وہ خوب جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے  پس اس نے تم پر مہربانی کی لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو پڑھو۔  وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ  تعالیٰ کا فضل یعنی روزی بھی تلاش کریں گے ، اور کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کریں گے ۔ سو تم بآسانی جتنا  پڑھ سکو اس میں سے پڑھو)

یعنی جتنا تمہارے لیے آسان ہو اتناخاص طور پر  تہجد کی نماز پڑھ لیا کرو۔ یہاں اللہ تعالی نے مسلمانوں پر آسانی فرمائی کہ جتنا ان کے لیے آسان ہو اتنا پڑھ لیں، ان پر واجب نہیں کہ وہ مکمل اتنی ہی پڑھیں جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔

یہ ہےاس آیت کا صحیح معنی ۔ اور یہ ایک عربی اسلوب ہے کہ ایک جزء کا ذکر کرکےاس کا  اطلاق کُل پر کیا جاتا ہے۔ پس فرمان الہی ﴿فَاقْرَءُوْا﴾ (پس قرأت کرو) سے مراد پوری نماز ہے کہ نماز پڑھو۔ پس نماز کُل ہے اور قرأت اس کا صرف ایک جزء ہے۔ یہ اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ اس جزء کی ا س کُل میں اہمیت کو اجاگر کیاجائے۔ یہ اسی طرح ہےجیسا کہ اللہ تعالی نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ﴾ (الاسراء: 78)

(نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک  اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی)

یہاں ﴿قُرْاٰنَ الْفَجْرِ﴾ (فجر کا قرآن پڑھنا بھی)  کا معنی فجر کی نماز ہے۔ یہاں بھی جزء کا اطلاق کُل کےارادے سے کیاگیا ہے۔اور لغتِ عربی کا یہ اسلوب معروف ہے۔

علماء تفسیرسے اس آیت کی تفسیر کہ جس میں ان کے سلف اور خلف میں کوئی اختلاف نہیں ظاہر ہونے کےبعدجائز نہیں کہ ہم پہلی اور دوسری حدیث کو اس دعویٰ کےساتھ رد کردیں کہ یہ تو محض حدیث ِآحاد([5]) ہیں،اور قرآن کی تفسیر حدیث آحاد سے نہیں کی جاسکتی! پہلی بات تو یہ کہ آیت کی تفسیر ان علماء کے کلام سے کی گئی ہےکہ جو لغت قرآن کو بہت اچھی طرح سے جانتےتھے۔ اوردوسری بات یہ کہ احادیث نبویہ قرآن مجیدکی کبھی مخالفت نہیں کرتیں بلکہ ہمیشہ اس کی تفسیر اوروضاحت کرتی ہیں، جیسا کہ ہم نے اپنے جواب کے شروع میں بیان کیا۔پھر اس کا کیاکہنا کہ جب آیت کا سرے سے اس بات سےکوئی تعلق ہی نہ ہو کہ  ایک مسلمان پر نمازخواہ فرض ہو یا نفل میں کتنی قرأت واجب ہے؟!۔

جبکہ دوسری طرف مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کا موضوع بالکل صریح ہے کہ کسی نماز ی کی نماز بنا سورۂ فاتحہ کے صحیح نہیں، فرمایا: ’’لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ‘‘([6])

(اس شخص کی نماز ہی نہیں جس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی)۔

اور دوسری حدیث میں فرمایا:

’’مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ‘‘([7])

(جس کسی نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، مکمل نہیں)۔

یعنی یہ نماز ناقص ہوگی اور جو کوئی اپنی نماز سے اس حال میں پھرے کے وہ ناقص ہو تو گویا کہ اس نے نماز پڑھی ہی نہیں۔اس صورت میں اس کی نمازباطل ہے، جیسا کہ پہلی حدیث سے ظاہر ہے۔

جب ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی تو اولاًہم  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی جو احادیث کتبِ سنت میں مروی ہیں ان کے بارے میں مطمئن ہوجائیں، اور ثانیاً صحیح اسناد سے بھی مطمئن ہوجائيں۔ہم اس بارے میں کسی شک وشبہےکاشکار نہ ہوں اس من گھڑت فلسفے کی بنیاد پر کہ اگر احادیث آحاد عقائد کے بارے میں ہوں تو ہمیں ان کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ عقائد احادیث آحاد پر قائم نہیں ہوسکتے، البتہ اس سےعقائد سے ہٹ کر احکام لیےجاسکتے ہیں۔

وہ ایسا زعم رکھتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن اہل کتاب کی دعوت کے غرض سے بھیجا تھا کہ وہ انہیں عقیدۂ توحیدکی جانب دعوت دیں([8])، جبکہ وہ تو ایک ہی شخص تھے۔ جوکچھ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ ہم پر قرآن کریم کی تفسیر کس طرح کرنا واجب ہے کے جواب میں میں اسی قدر پر کفایت کرتا ہوں ۔

وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وآله وصحبه والتابعين لهم بإحسان إلى يوم الدين، والحمد لله رب العالمين.

 


[1] تخريج المشكاة، رقم 163.

[2] صحيح الجامع، 7389.

[3] صفة الصلاة، 97۔

[4] متواتر وہ حدیث جس کے ہر دور وطبقات میں اتنے کثیرروای ہوں کہ جن کاعقلاً جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[5] متواتر کے برعکس آحاد حدیث وہ ہوتی ہے جس کا ہر دوروطبقے میں محض ایک راوی رہاہو۔ مذاہب کے پیروکار آحاد حدیث کو اگرچہ صحیح ترین ہو غیرمتواتر کہہ کراس سے وہ سلوک کرتے ہیں جو آگے شیخ بیان فرمائیں گے۔  (توحید خالص ڈاٹ کام)

[6] صحيح الجامع، 7389.

[7] صفة الصلاة، 97۔

[8] البخاري: 1485، ومسلم: 19۔

2012-08-15T02:43:48+00:00