محصف قرآنی کو چومنے کا شرعی حکم؟ – شیخ محمد ناصر الدین البانی

محصف قرآنی کو چومنے کا شرعی حکم؟ – شیخ محمد ناصر الدین البانی

Ruling regarding kissing the Mushaf-ul-Qura'an? – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

مصحفِ قرآنی کو چومنے کاشرعی حکم؟   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: كيف يجب علينا أن نفسر القران الكريم۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: مصحف ِقرآنی کو چومنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

الشیخ: ہمارا اعتقاد ہے کہ یہ اس قسم کی احادیث کے عموم میں داخل ہے، جیسے:

’’إِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُور، فَإِنّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ‘‘([1])

(دین میں نئے نئے کاموں سے بچنا، کیونکہ بے شک دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

اور ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے:

’’كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘([2])

(ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے)۔

اور بہت سے لوگوں کا اس مسئلہ کے بارے میں ایک خاص مؤقف ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ، آخر اس میں کیا حرج ہے؟! یہ تو محض قرآن کریم کی تعظیم وتکریم کا اظہار ہے۔جبکہ ہم انہیں جواب دیتے ہیں آپ نے سچ کہا کہ اس میں محض قرآن کریم کی تعظیم وتکریم کا اظہار مقصود ہے ، لیکن کیا آپ یہ سوچتے نہیں کہ یہ تعظیم وتکریم کیا اس پہلی امت یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  پر مخفی رہی، اسی طرح سے تابعین پر اور تبع تابعین پر؟! یقیناً اس کا جواب یہی ہوگا جیسا کہ سلف فرماتے تھے کہ: ’’لو كان خيرا لسبقونا إليه‘‘ (اگر یہ کام خیر کا ہوتا تو یہ (سلف صالحین) لوگ ہم سے (اس کارخیر میں ) سبقت لے جاتے)۔

یہ تو ایک بات رہی دوسری بات یہ ہے کہ کیا کسی  چیز کو چومنے کے تعلق سے شریعت میں اصل منع ہے یا اجازت ہے؟

یہاں پر ضروری ہے کہ میں وہ حدیث جسے صحیح بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے  بیان کروں تاکہ جو نصیحت پکڑنا چاہے تو پکڑ لے، اورآج مسلمانوں کی اپنے سلف صالحین اور ان کے فقہ سے دوری کو جان لے اور یہ بھی جان لے کہ سلف صالحین ان نوواردامور کا جو معالجہ کرتے تھے اس سے موجودہ مسلمان کس قدر دور ہیں۔

اور وہ حدیث عباس بن ربیعہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چومتے اور کہتے:

’’إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ‘‘([3])

(بے شک مجھے معلوم ہے کہ تو بس ایک پتھر ہی ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی تجھے نہ چومتا)۔

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے صادر ہونے والے اس کلام کا کیا معنی ہے کہ: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی تجھے نہ چومتا؟!۔

چناچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس حجر اسود کو کیوں چومتے تھے حالانکہ یہ حجر اسود تو وہ ہے کہ اس کے بارے میں حدیث میں بیان ہوا :

’’الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ‘‘([4])

(حجر اسود جنت میں سے ہے)۔

 پس  کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس پتھر کی اس فضیلت کے باوجود اپنی جانب سے کسی فلسفے کی بنیاد پر اسے چومتے تھے اور جیسا کہ سائل نے کہا اس طرح کہتے تھے کہ یہ تو اللہ تعالی کا کلام ہے اور اسے چومتے تھے؟! کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ یہ پتھراس جنت کے آثار میں سے ہےجس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے  اسی لیے میں اسے چومتا ہوں، اور مجھے اس کی مشروعیت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے کسی نص (دلیل) کی ضرورت نہیں ؟! یا پھر اس جزئی مسئلہ میں اس منطق کو بروئے کار لائے جسے ہم بیان کرنا چاہتے ہیں اور جسے ہم سلفی منطق کا نام دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اورجنہوں نے تاقیام قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کی ان کی خالص اتباع ہو؟ پس یہ تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مؤقف کہ: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی تجھے نہ چومتا۔

اسی لیے چومنے یا بوسہ دینے کے بارے میں اصل یہی ہے کہ اس بارے میں جاری سنت پر چلا جائے۔ ناکہ اس بارے میں یہ کہیں جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا کہ : یہ اچھی بات ہی تو ہے، آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟! اسی طرح سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مؤقف کو یاد کریں کہ جب سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے انہیں قرآن کریم کے ضائع ہوجانے کے خطرے کے پیش نظر قرآن مجید جمع کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے فرمایا:

’’كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘([5])

(آپ لوگ ایسا کام کیسے کرسکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا)۔

آج مسلمانوں میں مطلقاً یہ فقہ فی الدین ہے ہی نہیں۔اگر کسی مصحف قرآنی کو چومنے والے سےیہی بات  کہی جائے کہ: آپ ایسا کام کیسے کرسکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟! تو وہ آپ کو عجیب وغریب جوابات دے گا جیسے: ارے بھائی! آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟! اس میں تو قرآن کریم کی تعظیم ہے! تو ایسے کو یہ کہنا چاہیے: ارے بھائی! یہ بات تو خود تمہارے خلاف جاتی ہے، کیسے؟ اس طرح کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم کی تعظیم نہیں فرمایا کرتے تھے؟! بلاشبہ وہ تو سب سے زیادہ قرآن کریم کی تعظیم کرنے والے تھے اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی اسے چوما نہیں۔ یا پھر یہ جواب دیتے ہیں کہ آپ ہمیں مصحف شریف چومنے سے روکتے ہیں! اور خود کو دیکھو گاڑیوں میں اور ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں یہ سب اشیاء بھی بدعت ہیں؟! اس کا رد تو اسی حدیث میں ہوگیا جو ہم نے ابھی بیان کی کہ وہ بدعت (جدید ایجاد)  ضلالت وگمراہی  ہے جو دین کے معاملے میں ہو۔ جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تو اس میں سے کوئی جائز ہوسکتی ہے، اور کوئی حرام وغیرہ، اور یہ بات تو بالکل معروف  ومعلوم ہے جس کی مثال دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

لیکن پھر بھی دیکھیں کہ اگر ایک شخص ہوائی جہاز میں سفر کرکے بیت اللہ الحرام حج کی نیت سے جاتا ہے تو یہ بالکل جائز ہے۔ اور کوئی دوسرا شخص ہوائی جہاز سے سفر کرکے مغربی ممالک حج کرنے جاتا ہے تو ظاہر ہے یہ ایک معصیت وگناہ ہے، اور اسی طرح سے باقی ساری مثالیں ہیں۔

جبکہ جو امور تعبدیہ (عبادتی امور) ہیں کہ جن کے کرنے والے سے اگر پوچھا جاتا ہے کہ تم یہ کیوں کرتے ہو تو وہ کہتا ہے کہ تقرب الہی کے لیےتو ان کے تعلق سے  میں کہتا ہوں کہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا اللہ تعالی کی شریعت میں وارد امور کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

لیکن میں ایک اور بات عرض کرنا چاہوں گا جو کہ میرے اعتقاد کے مطابق اس قاعدے کہ’’كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ‘‘ (ہر بدعت گمراہی ہے) کی اساس کو بیان کرنے اور اسے مضبوط کرنےکے سلسلے میں بہت ضروری واہم ہے  اور وہ یہ کہ اس بارے میں عقلی استحسان(عقل سے کسی عبادت کو اچھا قرار دینے )  کی کوئی گنجائش نہیں۔

بعض سلف کا قول ہے: ’’ما أُحدثت بدعة إلا و أُميتت سنةٌ‘‘ (کوئی بدعت ایجاد نہیں ہوتی مگر اس کے بدلے سنت فوت ہوجاتی ہے)۔

اور میں تو ان بدعات پر ریسرچ کرنے کی بنا پر([6]) اس حقیقت کوباقاعدہ چھو کر دیکھ سکتا ہوں  کہ وہ کس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت شدہ سنتوں کے اکثر بلکل برعکس ہوتی ہیں۔

اور جو علماء وفضلاء حق ہیں ان میں سے جب بھی کوئی مصحف شریف کو تلاوت کرنے کے لیے اٹھاتا ہے تو آپ کبھی بھی اسے اس مصحف کوچومتے ہوئے نہیں دیکھیں گے بلکہ وہ تو جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ جبکہ عوام الناس جن کے جذبات کا کوئی ضابطہ ہی نہیں ہوتا کہہ دیتے ہیں: ارے اس میں حرج ہی کیا ہے؟! حالانکہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اس میں ہے کیا! اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ کوئی بدعت بھی ایجاد نہیں ہوتی مگر اس کے عوض میں سنت مردہ ہوجاتی ہے۔

اور اسی بدعت سے ملتی جلتی ایک اور بدعت ہے کہ آپ لوگوں کو دیکھیں گے حتیٰ  کہ ایسے فاسق ترین لوگوں کو کہ شاید جن کے دلوں میں ذرہ برابر ہی کچھ ایمانی رمق باقی ہو ، جب وہ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے ہیں تو تعظیمی قیام کرتے ہوئے کھڑے ہوجاتے ہیں! جب ان سے پوچھا جائے کہ یہ کونسا قیام ہے؟! تو کہتے ہیں: اللہ تعالی کی تعظیم ہے!حالانکہ نہ وہ کبھی مسجد جاتے ہیں بلکہ بیٹھے شطرنج وغیرہ کھیلتے رہتے ہیں([7])۔لیکن وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہم اس قیام کے ذریعہ اپنے رب کی تعظیم بجالارہے ہیں! آخر یہ قیام آیا کہاں سے ؟! ظاہر بات ہے یہ ایک موضوع ومن گھڑت حدیث سے ماخوذ ہے کہ جس کی(ان الفاظ کے ساتھ)  کوئی اصل نہیں: ’’إذا سمعتم الأذان فقوموا‘‘ ([8]) (جب تم مؤذن کو اذان دیتے سنو تو کھڑے ہوجاؤ)۔

اب اس حدیث کی اصل موجود ہے لیکن بعض ضعیف وکذاب راویوں نے اس میں تحریف کردی ہے، لہذا انہوں نے ’’قوموا‘‘ (کھڑے ہوجاؤ) کو  صحیح لفظ ’’قولوا‘‘ (تم بھی ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے) سے بدلہ ہے، اور اس صحیح حدیث کو مختصر کردیا ہے کہ:

’’إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ‘‘([9])

(جب تم مؤذن کو اذان دیتے سنو تو جیسے مؤذن کہتا ہے ویسے ہی کہو،پھر مجھ پر درود بھیجو)۔

اور آخر تک جو حدیث مشہور ہے۔دیکھیں کس طرح سے شیطان انسان کے لیے بدعت کو مزین بنادیتا ہے اوراسے اپنے نفس میں خوش رکھتا ہے کہ میں مومن ہوں اور شعائر اللہ کی تعظیم کررہا ہوں۔ جب مصحف شریف اٹھاؤ تو اسے چومو اور جب اذان سنو تو اس کے لئے کھڑے ہوجاؤ؟!!

لیکن اس کے برعکس کیا وہ اس قرآن کریم پر عمل بھی کرتا ہے؟ نہیں، وہ اس پر عمل نہیں کرتا ہوگا! مثلاً ہوسکتا ہے وہ نماز پڑھتا ہو مگر کیا وہ حرام نہیں کھاتا؟ کیا وہ سود خور نہیں؟ اپنے گھر والوں کو سود کا مال نہیں کھلاتا؟ کیا وہ لوگوں کے درمیان ایسے وسائل کی ترویج نہیں کرتا (جیسے فحش رسائل وچینلزوغیرہ) کہ جس سے اللہ تعالی کی نافرمانی میں اضافہ ہو؟ کیا؟ کیا؟ ایسے لامتناہی سوالات۔۔۔اسی لیے ہم انہی طاعات وعبادات پر توقف کریں جو اللہ تعالی نے ہمارے لیے مشروع فرمائی ہیں۔ اس میں ہم ایک حرف کابھی  اضافہ نہیں کریں۔ کیونکہ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا أَمَرَكُمُ اللَّهُ بِهِ، إِلا وَقَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ‘‘([10])

(میں نے کوئی بھی چیز جس کا اللہ تعالی نے تمہیں حکم دیا ہو ایسی نہیں چھوڑی کہ اس کا تمہیں حکم نہ دے دیا ہو)۔

اور آپ یہ جو کام کررہے ہیں کیا اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کوئی دلیل لے کر آئیں۔جواب: میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں۔ پس یہ ہی بدعت ٹھہری، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

کسی   کو یہ اشکال لاحق نہ ہو کہ یہ تو اتنا سادہ سا مسئلہ ہے اور اتنی سی بات ہے ، کیا یہ بھی گمراہی ٹھہرے گی اور اس کا مرتکب جہنم میں جائے گا؟!

اس کا جواب امام شاطبیرحمہ اللہ نے دیا کہ: ’’كل بدعة مهما كانت صغيرة فهي ضلالة‘‘ (ہر بدعت خواہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو گمراہی ہے)۔

گمراہی کا حکم لگانے میں اس بدعت کی طرف نہ دیکھو کہ کتنی چھوٹی ہے وغیرہ بلکہ اس مقام کی طرف دیکھو کہ جہاں اسے لاکھڑا کیا ہے، وہ مقام کیا ہے؟ یہ وہ شریعتِ اسلام ہے کہ جو مکمل وتمام ہوچکی ہے، اور کسی کی مجال نہ ہو کہ اس میں چھوٹی یا بڑی بدعت کے ذریعہ تکمیل کرنے کی کوشش کرے۔لہذا محض بدعت کے اس عمل کی وجہ سے نہیں کہ وہ چھوٹا ہے یا بڑا ہے بلکہ اس نظریہ کے اعتبار سے بدعت گمراہی ہے  کہ اس  کی وجہ سے  ہمارے  رب تبارک وتعالی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شریعت مکمل نہ کرنے کا الزام وارد ہوتا ہے۔

 


[1] صحيح الترغيب والترهيب1/92/34.

 

 

 

[2] صلاة التراويح ص 75.

 

 

 

[3] صحیح بخاری 1597، صحیح مسلم 1270، صحيح الترغيب والترهيب 1/94/41.

 

 

 

[4] صحيح الجامع 3174.

 

 

 

[5]صحیح بخاری ج 3 ص 1048 ط دار ابن کثیر، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن.

 

 

 

[6] اس بارے میں شیخ کی کتاب ’’قاموس البدعۃ‘‘ (بدعات کی ڈکشنری) موجود ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

 

[7] اسی طرح کا ایک رواج ہمارے معاشروں میں بھی ہے کہ عورتیں سر پر دوپٹہ لے لیتی ہیں اذان کے وقت۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

 

 

[8] الضعيفة 711.

 

 

 

[9]مسلم 384.

 

 

 

[10] الصحيحة 1803.

 

 

 

2012-08-15T02:41:51+00:00