اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کا شرعی حکم – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کا شرعی حکم – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Shari'ah ruling regarding Islaamic Groups and Parties – Shaykh Saaleh Al-Fawzaan

اسلامی جماعتوں کی شرعی حیثیت   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الاجوبۃ المفیدۃ عن الاسئلۃ المناھج الجدیدۃ سوال 3

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: فی زمانہ ہم دنیا بھر میں مختلف جماعتوں کا سنتے ہیں جو اسلامی جماعتیں کہلاتی ہیں؟ اگر ان میں کوئی بدعت موجود نہ ہو تو کیا ان کے ساتھ جانا اور شرکت کرنا جائز ہے؟

 

جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خبر دی اور ہمارے لئے بیان فرمادیا کہ ہم کس طرح عمل کریں،  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی امت کو اللہ تعالی کے قریب کردے مگر اسے بیان فرمادیا، اور کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو انہیں اللہ تعالی سے دور کرے مگر وہ بھی بیان فرمادی، اور اسی میں سے یہ مسئلہ بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’فَإِنَّه ُمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا‘‘

(تم میں سے جو زندہ رہا تو  وہ عنقریب بہت اختلاف دیکھے گا)

لیکن اس کے وقوع پذیر ہونے پر اس کاعلاج کیا ہے؟، فرمایا:

’’فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ‘‘(١)

(تم میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس سے تمسک اختیار کرنا اور اسے اپنے جبڑوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا،  اور دین میں نئےنئے کاموں سے بچنا؛ کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

پس یہ جو جماعتیں ہیں([1]) ان میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم  کے طریقے پر ہو،خصوصاً خلفائے راشدین اور افضل قرون(بہترین نسل یعنی صحابہ، تابعین وتبع تابعین کے منہج پر ہو)، چناچہ جو بھی جماعت اس منہج پر ہوتو ہم اس جماعت کے ساتھ ہیں؛ اس کی طرف منسوب ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اور جو رسول اللہ e  کے طریقے کی مخالفت کرے تو ہم اس سے اجتناب کریں گے خواہ وہ اپنے آپ کو "جماعت اسلامی یا اسلامی جماعتیں" کہلائیں، کیونکہ اعتبار ناموں کا نہیں کیا جاتا بلکہ حقائق کا کیا جاتا ہے، جبکہ نام تو ممکن ہے کہ بہت بڑے بڑے ہوں لیکن کھوکھلے جن کے اندر کچھ نہ ہو، یا پھر باطل بھی ہوں۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتْ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً‘‘

(یہود اکھتر (71) فرقوں میں بٹ گئے، اور نصاری بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے، اور میری یہ امت تہتر  (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، جو سب کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے)

ہم نے دریافت کیا وہ کون سا ہے یا رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي‘‘(١)

(جو اس چیز پر ہو جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں)۔

 

راستہ بالکل واضح ہے، جس جماعت میں یہ علامت پائی جائے ہم اس کے ساتھ ہیں، یعنی جو اس چیز پر ہو جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم  تھے؛ تو وہی برحق اسلامی جماعت ہے۔

 

جبکہ جو اس منہج کی مخالفت کرے اور کسی اور منہج پر چلے تو وہ ہم میں سے نہیں اور نہ ہم اس سے ہیں، نہ ہم اس کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور نہ وہ ہماری طرف انتساب کرے۔ اور وہ جماعت بھی نہیں کہلائے گا بلکہ گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ کہلائے گا؛ کیونکہ جماعت ہو ہی نہیں سکتی مگر وہ جو حق پر ہو، اور وہ و ہی ہے جس پر لوگ جمع ہوتے ہیں، جبکہ باطل تو تفرقہ  کرتا ہے جمع نہیں کرتا، اللہ تعالی فرماتے ہیں:

﴿وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ﴾ (البقرة:  137)

(اور اگر وہ منہ موڑیں تو وہ مخالفت اور تفرقے میں ہیں)

 


١اپنے مجموعی طرق کے اعتبار سے صحيح ہے، أخرجه أبو داود : ( 4607 )، والترمذي : ( 2676 )، وابن ماجه : ( المقدمة، 34 )، وصححه الألباني في " الإرواء " : ( 2455 )، وسيأتي في الحاشية رقم ( 173 ) بزيادة تخريج

 

 

 

[1] بہتر ہے کہ جو کوئی بھی کتاب وسنت اور منہج سلف صالحین کی مخالفت کرے اسے فرقہ کہا جائے، یہی اس کا شرعی نام ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے آگے آنے والی فرقوں سے متعلق حدیث میں نام دیا، جبکہ جو جماعتیں ہیں حقیقتاً یہ جماعتیں نہیں بلکہ جماعت تو صرف جماعۃ المسلمین (مسلمانوں کی ایک جماعت) ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے، واللہ اعلم۔ (الحارثی) 

 

 

 

١ أخرجه الترمذي : ( 2641 )، والحاكم : ( 1/129 )، ويشهد له رواية : (( هي الجماعة ))، راجع " تحفة الأحوذي " : ( 7/398 )، وأخرج هذه الرواية ابن ماجه: ( 3992 )، وهي عند أبي داود : ( 4597 )، وسيأتي في الحاشية رقم ( 139 )

 

 

2012-08-15T01:37:16+00:00