کیا ردود بھی تقرب الہی کا ذریعہ ہیں؟! – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

کیا ردود بھی تقرب الہی کا ذریعہ ہیں؟! – شیخ صالح بن فوزان الفوزان

Are refutations from among the means to getting close to Allaah?! – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

کیا لوگوں کا رد کرنا بھی تقرب الہی ہے!؟   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیہ 23/03/2009ع۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: جس کے منہج میں کوئی انحراف ہو، کیا اس سے لوگوں کو خبردار کرنا بھی اللہ تعالی کے تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے؟

 

الشیخ: جی بالکل، کیونکہ یہ نصیحت میں شامل ہے؛ لیکن جب آپ کسی شخص میں منہج کی مخالفت پائیں تو سب سے پہلے اسے نصیحت کی جائے، اور اس پر صحیح منہج واضح کرکے منہج کی مخالف سے آگاہ کیا جائے؛ اگر وہ قبول نہ کرے؛ تو پھر آپ ان لوگوں کو جو اس کے گرویدہ ہیں انہیں اس شخص سے دوررہنے کی نصیحت کریں، لیکن اس میں ایک شرط کا اضافہ بہت ضروری ہےوہ یہ کہ (جو رد کررہا ہے)اسے اس منہجی انحراف کے بارے میں علم ہوکہ آیا وہ منہجی انحراف ہے بھی یا بس اس کا خیال ہے مگر حقیقتا ًوہ انحراف شمارنہ ہوتا ہو، کیونکہ آجکل  بعض لوگوں کے نزدیک ہر چیز ہی منہج میں انحراف تصور کی جاتی ہے۔ چناچہ میں یہ کہتا ہوں کہ اگر ثابت ہوجائے کہ یہ واقعی منہجی انحراف ہے؛ تو پھر اس شخص کو نصیحت کی جائے؛ اگر تو وہ رجوع کرلیتا ہے اور صحیح منہج کو اپناتا ہے تو الحمدللہ، بصورت دیگر ہم لوگوں پر یہ واضح کریں گے کہ یہ شخص صحیح منہج پر نہیں تاکہ اس سے بچا جائے۔

 

اللہ کے بندوں! تہمت لگانا صحیح نہیں، لوگوں کے بارے میں کذب بیانی اور بے قصور لوگوں پر تہمتیں لگانا ہرگز بھی جائز نہیں، لازم ہے کہ ایسا ثبوت پیش کیا جائے جس میں ذرا بھی شک نہ ہو کہ یہ واقعی غلطی وخطاء ہے، اور یہ کہ یہ منہجی انحراف ہے۔ ایسا نہیں کہ کوئی بھی شخص ہر بات کو ہی انحراف اور یہ منہج صحیح نہیں ہے وغیرہ کہتا پھرےتو اس کا یہ دعویٰ واقعی صحیح بھی ہو؛ کیونکہ آجکل نوجوانوں میں یہ بدخصلت پروان چڑھ رہی ہے کہ ہر کوئی ایک دوسرے سے لوگوں کو خبردار کررہا ہے یا ایک دوسرے کا رد کررہا ہے یہاں تک کہ ان کی ملامتیں علماء کرام تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ علماء کرام تک سے لوگوں کو خبردار کرنے لگتے ہیں، یہ بالکل بھی جائز نہیں۔ یہ شیطان کی طرف سے ہے جو مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالتا ہے، اسی لئے ضروری ہے کہ ہم تصدیق کریں اور یہ بھی لازم ہے کہ ہم انحراف اور اس کی حدود کی معرفت رکھتے ہوں، اس کے علاوہ یہ بھی لازم ہے کہ ہم اس شخص سے رابطہ کریں ہوسکتا ہے کہ وہ رجوع کرلے اور ہوش سنبھال لے۔

 

 البتہ جب یہ ثابت ہوجائے کہ یہ واقعی انحراف ہے اور وہ اس پر مصر ہے، تب ہم اس سے خبردار کریں گے، لیکن یہ کہ محض تہمتیں ہوں تو یہ ہرگز بھی جائز نہیں، کیونکہ ایک مسلمان کے بارے میں جو اصل ہے وہ عدالت یعنی عادل ہونا ہےخصوصاً علماء کرام کے بارے میں الحمدللہ اصل عدالت وخیر پر ہونا ہے۔ اسی لئے یہ کافی نہیں کہ کوئی گمان کرنے والا محض گمان کرے، یا پھر لوگوں کی سنی سنائی بات پر (کسی کے رد کی) بنیاد رکھے، یہ سب ناجائز ہیں۔ واجب ہے کہ ان امور میں اچھی طرح سے جانچ اور تصدیق کرلی جائے۔ مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں واجب ہے کہ ان کے مابین محبت، تعاون اور خیر خواہی کی فضا عام ہو، اور یہ جائز نہیں کہ ان کے مابین بغض وعداوت اور نفرت پنپنے لگےمعمولی معمولی باتوں پر، یا ایسے امور کی بنیادپر جو محض گمان ہیں یا جھوٹ ہیں، یا پھر ایسے امور جو ہیں تو چھوٹے مگر انہیں خود سے بڑا گمان کرلیا گیا ہے وغیرہ ۔الغرض یہ سب باتیں ناجائز ہیں اور واجب ہے کہ تمام باتوں میں بھرپور جانچ اور تصدیق کرلی جائے۔ واللہ اعلم

2012-08-11T10:01:54+00:00

Articles

Scholars