Tawheed-ur-Rubobiyyah: its meaning and concept – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

توحیدِربوبیت کا معنی ومفہوم   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کتاب عقیدۂ توحید اور اس کے منافی امور۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

توحید ربوبیت کا معنی ومفہوم

اللہ تعالی کو اس کے افعال کے ساتھ مخصوص کردینا یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالی اکیلا ہی تمام مخلوقات کا خالق ہے:

﴿ اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾ (الزمر: 62)

(اللہ ہر چیز کا خالق (پیدا کرنے والا) ہے)

اور وہ تمام جانوروں،  انسانوں اور دیگر مخلوقات کو رزق دیتا ہے:

﴿ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا﴾ (ھود: 6)

(زمین پر چلنے پھرنے والے کوئی جاندار نہیں مگر سب کی روزیاں اللہ تعالی کے ذمہ  ہیں)

اور یہ کہ اللہ تعالی مالک الملک ہے ، اور اس جہاں کے تمام معاملات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے  ، جسے چاہتا ہے نوازتا ہے اور جسے چاہے محروم رکھتا ہے ، جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت سے ہمکنار کرتا ہے ، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے  ، رات اور دن کو چلاتا ہے ، زندگی اور موت دیتا ہے:

﴿ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ  ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ  ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ  ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۡ وَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ ۡ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (آل عمران: 26-27)

(آپ کہہ دیجئے، اے اللہ! مالک الملک!تو جسے چاہتا ہے تو ملک وحکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے، اورجسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر قسم کی خیر اور بھلائی ہے ، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ،  تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے ، تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے ، اورتو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے)

اور اللہ تعالی نے اسی طرح سے اس بات کی نفی کی ہے کہ مملکت میں اس کا کوئی شریک یا مددگار ہو جس طرح اس نے اس بات کی نفی کی  کہ خلق(پیدا کرنے) اور رزق (دینے) میں اس کا کوئی شریک ہو ، ارشاد باری تعالی ہے  :

﴿ ھٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ﴾ (لقمان: 11)

(یہ ہے اللہ تعالی کی مخلوق ، اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ؟)

اور ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ ﴾ (الملک: 21)

(اگر اللہ تعالی اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا ؟)

اسی طرح اللہ تعالی نے تمام مخلوقات پر اپنی ربوبیت کی انفرادیت کا اعلان فرمایا  :

﴿ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ﴾ (الفاتحہ)

(سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے)

اور فرمایا :

﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا   ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ  ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ  ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ (الاعراف: 54)

( بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ، پھر عرش پر مستوی وبلند ہوا ، وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپادیتا ہے کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آلیتی ہے ،اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور  پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں ، یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا ، بڑی برکتوں والا ہے اللہ تعالی جو تمام عالم کا رب ہے)

اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت کا اقرار تمام مخلوقات کی فطرت میں رکھ دیا ہے ، یہاں تک کہ وہ مشرکین جو عبادت میں اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے وہ بھی ربوبیت میں اللہ تعالی کی انفرادیت کا اقرار کرتے تھے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے  :

﴿قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ  ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ، قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ، سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ  ۭ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ﴾  (المؤمنون: 86-89)

(آپ ان مشرکوں سے دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے ؟  وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے ، کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ دریافت کیجئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے ؟  جو پناہ دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا ، اگر تم جانتے ہو تو بتلادو ؟  یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے ، کہہ دیجئے پھر تم کدھر سے جادو کردیے جاتے ہو ؟)

اس توحید کے خلاف بنی نوع انسان کا کوئی بھی فرقہ نہیں گیا ، بلکہ دلوں میں اس کا اقرار فطرتا ً دوسری موجودات کے اقرار کی بنسبت زیادہ جاگزین ہے  ، جیسا کہ رسولوں کا یہ قول اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :

﴿ قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ﴾ (ابراہیم: 10)

(ان کے رسولوں نے انہیں کہا کہ کیا اللہ تعالی کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے !)

سب سے زیادہ مشہور شخص جس نے رب سے تجاہل برتا اور ظاہراً انکار کیا وہ فرعون ہے ، جبکہ باطن میں اسے یقین تھا ، جیسا کہ سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس سے فرمایا :

﴿قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاىِٕرَ﴾ (الاسراء: 102)

(موسیٰ نے (فرعون کو) جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان و زمین کے رب  ہی نے یہ معجزے دکھانے ، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں)

فرعون اور اس کی قوم کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے  :

﴿وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا﴾ (النمل: 14)

(انہوں نےصرف ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کردیا حالانکہ ان کے دل یقین کرچکے تھے)

ایسا ہی حال آج ان کمیونسٹ (دھریہ)  لوگوں کا ہے جو رب کا انکار کرتے ہیں ، وہ صرف تکبر کی بنا پر ظاہری اعتبار سے انکار کر رہے ہیں ، حالانکہ باطن میں وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہر موجود کا لازماً کوئی موجد ) بنانے والا (  ضرور ہے ، ہر مخلوق کا لازماً کوئی خالق ہے اور ہر اثر کا لازماً کوئی پیدا کرنا والا ہے،  ارشاد باری تعالی ہے :

﴿اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ، اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ﴾ (الطور: 35-36)

(کیا یہ بغیر کسی  پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟   کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں)

تمام عالم پر غور کیجئے ، عالم بالا(آسمان) اور سُفلٰی(زمین)، اس کے تمام اجزاء میں ، آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنے بنانے والے کی ، اپنے خالق ومالک کی گواہی دے رہے ہیں۔ لہذا بنانے والے کا انکار کرنا عقل اور فطرت میں بالکل ایسا ہے جیسا کہ علم کا انکار کرنا ، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ، آج کمیونزم رب کا جو انکار کر رہی ہے([1])، وہ درحقیقت تکبر کی وجہ سے ہے ، عقل اور صحیح انداز ِفکر کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہے ،  اور جس کا حال ایسا ہو تو اس نے در حقیقت عقل کا استعمال ختم کردیا ہے اور لوگوں کو اپنا مذاق اڑانے کی دعوت دی ہے  ۔  شاعر نے کہا  :

كـــيف يعصـــى الإلــه             ويجحـــــده الجـــــاحد

وفي كل شيء له آية            تــدل علـى أنـه واحـد

(کیسے الہٰ کی نافرمانی کی جاتی ہے                                     اور کیسے انکار کرنے والا انکار کرتا ہے

جبکہ ہر  چیز میں اس  کی نشانی ہے                        جو نشاندہی کر رہی ہے کہ وہ  ایک ہے)

 


[1]  کیونکہ علمِ صحیح خالق کا اثبات کرتا ہے۔