توحید حاکمیت کو توحید کی ایک الگ قسم بنانا بدعت ہے – شیخ محمد بن صالح العثیمین

توحید حاکمیت کو توحید کی ایک الگ قسم بنانا بدعت ہے – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Making "Tawheed-ul-Hakmiyyah" as a separate category of Tawheed is Bida'ah – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

توحیدِحاکمیت کو توحید کی چوتھی قسم قرار دینا بدعت ہے   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: جریدۃ المسلمون رقم: 639، جمعہ 25 ذوالحج 1417ھ بمطابق 2 مئی 1997ع ، اور لقاء المفتوح رقم 150 منعقدہ20  شوال،1417ھ

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

جو کوئی بھی اس بات کا مدعی ہے کہ توحید کی ایک چوتھی قسم ہے جسے توحید حاکمیت کہتے ہیں تو اسے مبتدع (بدعتی) کہا جائے گا۔ یہ ایک بدعتیانہ تقسیم ہے جو ایک ایسے شخص سے صادر ہوئی ہے جسے دین عقیدے کے معاملات کا کوئی فہم حاصل نہیں۔ کیونکہ حاکمیت تو توحید ربوبیت کے تحت آتی ہے اس اعتبار سے کہ اللہ تعالی جو چاہتا ہے فیصلہ صادر فرماتا ہے۔

 

اور یہ توحید الوہیت میں بھی اس طور پر شامل ہے کہ بندے کو اللہ تعالی کی نازل کی ہوئی شریعت کے مطابق ہی اس کی عبادت کرنی چاہیے۔ پس یہ توحید کی تین معروف اقسام سے خارج نہیں ہوسکتی یعنی توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء وصفات۔

 

سوال: اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جو توحید کی ایک چوتھی قسم بنام  ’’توحید حاکمیت‘‘ کرتا ہے؟

 

جواب: ہم کہیں گے کہ وہ جاہل اور گمراہ ہے کیونکہ توحید حاکمیت تو توحید الہی ہی ہے۔ کیونکہ حاکم تو اللہ تعالی ہی ہے اور جب آپ کہتے ہیں کہ توحید کی تین اقسام ہیں جیسا کہ علماء کرام کہتے ہیں تو اس وقت بھی توحید حاکمیت توحید ربوبیت میں داخل ہوتی ہے کیونکہ توحید ربوبیت اللہ تعالی کی حکم، خلق اور تدبیر میں توحید ہی تو ہے لہذا یہ قول منکر وبدعت ہے۔

 

پھر جب شیخ سے پوچھا گیا کہ ہم ان کے اس دعوی کا توڑ کس طرح کریں؟  تو آپ نے فرمایا:

 

ہم ان کی اس بات کا توڑ ان سے یہ پوچھ کر کرسکتے ہیں کہ: حاکمیت کا معنی کیا ہے؟  ان کا جواب اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ حکم اور فرمانروائی کا حق صرف اللہ تعالی کو حاصل ہے حالانکہ یہ تو توحید ربوبیت ہوئی، پس اللہ تعالی ہی رب ہے، خالق ہے، حاکم اعلی ہے اور جس کے ہاتھ میں تمام کاموں کی تدبیر ہے۔

 

اب رہی بات کہ ان (چوتھی قسم بنانےوالوں) کا اسے بیان کرنے سے مقصد کیا ہے اوران کے اس پرخطر نظریہ کی کیا توضیح ہے، تو (درحقیقت) ہمیں ان کی نیتوں اور خواہشات کا علم نہیں لہذا ہم اس معاملہ کی سنگینی کا اندازہ نہیں کرسکتے۔

2012-08-06T11:13:09+00:00