توحید دین کی بنیاد اور ملت اسلامیہ کی اساس ہے  – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

توحید دین کی بنیاد اور ملت اسلامیہ کی اساس ہے  – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

Tawheed is the base of Deen and creed of Islaam – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

توحید دین کی بنیاد اور ملت اسلامیہ کی اساس ہے   

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مجموع فتاوى ومقالات متنوعة  ج 28۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: سماحۃ الشیخ ہم چاہتے ہیں کہ آپ توحید کی فضیلت بیان کیجئے اور خصوصاً اس تناظر میں کہ بہت سے نوجوان اس سے بے اعتنائی برتتے ہیں، اللہ تعالی آپ کو توفیق عنایت فرمائے؟

جواب: توحید کی معرفت اصل الاصول اور دین کی بنیاد ہے۔ دین کی بنیاد یہی ہے کہ آپ شہادتِ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کے معنی کو جانیں۔ یہ سب سے اولین وبڑا واجب ہے۔ اور یہ وہ اولین چیز ہے کہ جس کی جانب تمام رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت دی۔ لوگوں کو شہادتین کا معنی ومفہوم سمجھایا اور بتایا کہ تمام اوثان واصنام کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔

یہ وہ پہلی چیز تھی کہ جس کی جانب انبیاء ورسل علیہم الصلاۃ والسلام نے دعوت دی۔ اور یہی ہر مکلف مسلمان پر ہر چیز سے پہلے واجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کو ایک قرار دے اور عبادت کو اس کے لیے خاص کردے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ﴾ (محمد: 19)

(جان لیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور اپنے گناہ کی بخشش طلب کریں)

اور فرمایا:

﴿وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا﴾ (الاسراء: 23)

(اور فیصلہ کرلیا آپ کے رب نے  کہ نہيں کرو عبادت مگر صرف اسی کی اور والدین کے ساتھ احسان وبھلائی کرو)

اور فرمایا:

﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا﴾ (النساء: 36)

(اور اللہ تعالی کی عبادت کرو اور کسی کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ احسان وبھلائی کرو)

اور فرمایا:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ﴾ (النحل: 36)

(اور تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ صرف اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو)

لہذا ہر مکلف پر یہ واجب ہے کہ وہ دین کا تفقہ حاصل کرے، عبادت کو اللہ تعالی کے لیے خاص کردے اور لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کے معنی کو اچھی طرح سے سمجھ لے۔ پہلے حصے کا معنی ہے کہ اللہ تعالی کی توحید اور اس کے لیے اخلاص، اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت کی نفی کرتے ہوئے صرف اس کی عبادت کرنا، اور ایمان لانا کہ اللہ تعالی ہی حق ہے اور یہی دین کی بنیاد اور ملت اسلامیہ کی اساس ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے:

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ﴾ (لقمان: 30)

(یہ ا س لیے کیونکہ بے شک اللہ تعالی ہی حق ہے اور بے شک جنہیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں)

ساتھ ہی (دوسرے حصے کا معنی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا کہ وہ برحق رسول ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب اور یہ کہ ان کی اتباع کرنا اور ان کے منہج پر چلنا واجب ہے۔ اور اعمال ان دو بنیادی شرائط کے بغیر قبول نہیں ہوتے: 1- اللہ تعالی کے لیے اخلاص، 2- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت۔

(ان سوالات کے تحت جو جامعۃ الامام محمد بن سعود، ریاض میں ایک تقریر کے بعد شیخ رحمہ اللہ کے سامنے پیش کیے گئے)

 

 

2012-08-06T11:08:04+00:00

Articles

Scholars