menu close menu

یہ باتیں منہج سلف میں سے نہیں (سلسلہ) – شیخ محمد بن عمر بازمول

This is not from the Manhaj of Salaf … (A Series) – Shaykh Muhammad bin 'Umar Bazmool

یہ باتیں منہج سلف میں سے نہیں (سلسلہ)   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

مصدر: سلسلة ليس من منهج السلف شیخ کی ٹویٹر پوسٹنگز اور کتاب ’’ليس من السنة وليس من منهج السلف‘‘ سے.

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

1- منہج سلف میں سے نہیں: مخلوق پر بڑائی ظاہر کرنا، سلفی تو خیر ، نرمی اور رحمت کے داعی ہوتے ہیں۔

 

2- منہج سلف میں سے نہیں: ہر آیت وحدیث سے استدلال شروع کردینا جب تک وہ آیت محکم نہ ہو اور سنت متبع نہ ہو۔

 

3- منہج سلف میں سے نہیں: حدیث کا رد کردینا اگر عقل کی رسائی اس تک نہ ہو اور اس پر اعتراض کرنا۔ بلکہ ان کا منہج اتباع وتسلیم ہے کہ: ﴿اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ (آل عمران: 7) (اے ہمارے رب ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے)۔

 

4- منہج سلف میں سے نہیں: دنیا داری ہی میں پڑے رہنا اور آخرت کا عمل ترک کردینا۔

 

5- منہج سلف میں سے نہیں: اللہ تعالی، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اس کی کتاب، مسلمان حکمرانوں اور عوام کی خیرخواہی ونصیحت چاہنے سے سکوت اختیار کرنا۔

 

6- منہج سلف میں سے نہیں: محض  عقلی علوم کا اہتمام کرنا بلکہ ان کا علم تو قال اللہ، قال الرسول اور قال الصحابۃ ہوتا ہے۔

 

7- منہج سلف میں سے نہیں: شہرت کی طلب اورلوگوں پر بڑائی ظاہر کرنا۔ کیونکہ لوگوں میں نمایاں ہونے کا شوق کمر توڑ دیتا ہے۔  اور اگر کم سن کو صدارتی عہدہ مل جاتا ہے تو اس سے خیر کثیر فوت ہوجاتی ہے۔

 

8- منہج سلف میں سے نہیں: حق کو شخصیات سے پرکھنا کہ جو کچھ بھی فلاں شخص سے آئے تو وہ ضرور حق ہی ہوگا بلکہ ان کا شعار تو یہ ہے کہ حق کو جان لو خود اہل حق کو پہچان جاؤ گے، اور حق کو جان لو اور اس کے اہل میں سے ہوجاؤ۔

 

9- منہج سلف میں سے نہیں: نئی بدعات ومنہج اختراع وایجاد کرنا بلکہ ان کا تو شعار ہے:  اتباع کرو بدعت ایجاد نہ کرو تم کفایت کردیے گئے ہو(یعنی جو کچھ سلف سےپہنچا وہ کافی ہے) اور تمہیں قدیم دین پر ہی گامزن رہنا چاہیے۔

 

10- منہج سلف میں سے نہیں: تفرقہ، اختلاف اور باہمی بغض وعداوت میں واقع ہونا۔ ان کا شعار ہے: ’’ وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا‘‘([1]) (نہ باہم بغض کرو، نہ بے رخی کروبلکہ اللہ کے بندوں آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ)۔

 

11- منہج سلف میں سے نہیں: فتنے کی آگ بھڑکانا اور اس میں کودنا بلکہ وہ اس سے اجتناب کرتے تھے اور اس سے خبردار کرتے تھے۔

 

12- منہج سلف میں سے نہیں: صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم پر یا ان میں سے کسی ایک پر طعن کرنا۔

 

13- منہج سلف میں سے نہیں:  بغیر دلیل کے تقلید وتعصب کرنا۔

 

14- منہج سلف میں سے نہیں: دین کو محض ایک مسئلے پر محصور کردینا کہ جو میری اس میں موافقت کرے گا تو وہ سلفی ہے اورجو نہیں کرے گا تو وہ سلفی نہیں ہے۔ سلفیت ایک منہج ہے نہ کہ محض ایک مسئلہ۔

 

15- منہج سلف میں سے نہیں: محض اختلاف واقع ہوجانے کی وجہ سے دشمنی کرنا۔ وہ کسی شخص کے حسب حال اور مسئلے کے امر واقع کے اعتبار سے تفریق کرتے تھے۔ پس کسی قضیے میں صاف نیت کے ساتھ اختلاف باہمی محبت کو نہیں بگاڑتا۔

 

16- منہج سلف میں سے نہیں: کسی رائے کے لیے تعصب کرنا اور اس کے ذریعے دوسروں پر چڑھائی کردینا۔ پس ان سلف میں سے ایک قائل کہتا ہے کہ: جس چیز پر میں ہوں وہ صواب ہے لیکن خطاء کا احتمال ہے اور جس چیز پر میرا مخالف ہے وہ خطاء ہے لیکن صواب کا احتمال ہے۔

 

17- منہج سلف میں سے نہیں: محض کسی غلطی میں مبتلا ہوجانے پر علماء پر چڑھائی کردینا ، ان کے خلاف کلام کرنا، ان کے علم اور کتب کو اٹھا پھینکنااور انہيں نذرآتش کردینے، تلف کردینے اور ان کی جانب رجوع کرنے کو ترک کرنے کی دعوت دینا۔

 

18- منہج سلف میں سے نہیں: واجب علم کی طلب کو ترک کردینا اور مستحب علم کی طلب سے لاپرواہی برتنا۔

 

19- منہج سلف میں سے نہیں: لوگوں کو حکام کے خلاف بھڑکانا اور ان کے خلاف خروج، مظاہرات یا انقلابات پر ابھارنا۔ یا ان پر اور ان کے وزراء وعاملین پر علانیہ تنقید کرنا۔

 

20- منہج سلف میں سے نہیں: عوام سے ہٹ کر سراً کوئی خاص حزب، گٹھ جوڑ اور اجتماع۔ یہ اثر وارد ہوا ہے کہ: جب تم دیکھو بعض لوگ عوام سے ہٹ کر مسجد میں ایک طرف جمع ہوتے ہیں تو سمجھ لو یہ گمراہی پر ہیں۔

 

21- منہج سلف میں سے نہیں: اہل سنت کی غلطیوں کے ساتھ اہل بدعت کی غلطیوں کی طرح کا سلوک کرنا۔ کیونکہ ہر بنی آدم خطاء کار ہے ۔ پس اس شخص کے منہج کو دیکھا جائے گا اور اس سے اس کی خطاء کے مطابق اور اس کی اساس پر معاملہ کیا جائے گا۔

 

22- منہج سلف میں سے نہیں: ہر کسی سے علم لینا بنا یہ دیکھے کہ اس کا سنت کے تعلق سے کیا حال ہے۔ وہ کہا کرتے تھے: یہ علم دین ہے پس تم اچھی طرح سے دیکھ لو کہ تم کس سے اپنا دین حاصل کررہےہو۔

 

23- منہج سلف میں سے نہیں: اقامت حجت، شروط کے پائے جانے اور موانع کے رفع ہوجانے کے بغیر کسی مخصوص شخص پر بدعت کا حکم لگانا ۔

 

24- منہج سلف میں سے نہیں: اقامت حجت، شروط کے پائے جانے اور موانع کے رفع ہوجانے کے بغیر کسی مخصوص شخص پر کفرکا حکم لگانا ۔

 

25- منہج سلف میں سے نہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں غلو کرنا اور انہیں اللہ تعالی کے برابر ومساوی کردینا۔

 

26- منہج سلف میں سے نہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی کے بارے میں عصمت (معصوم عن الخطاء) کاعقیدہ رکھنا۔

 

27- منہج سلف میں سے نہیں: لوگوں کی تکفیر کرنا سوائے ان کے جن کا شریعت میں آیا ہے کہ اس نے کفر کیا۔

 

28- منہج سلف میں سے نہیں: توحید الہی کے بارے میں کلام کرنے اور اسے دہراتے رہنے کے ذریعے دلوں میں راسخ کرنےسے لاپرواہی برتنا۔ کیونکہ یہی وہ اساس ہے کہ جس پر ہر ایک کے اسلام کی بنیاد کھڑی ہے۔

 

29- منہج سلف میں سے نہیں: کہ دعوت کا موضوع وعنوان دولت کی منصفانہ تقسیم ہو اگرچہ اقتصادی اصلاح کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح سے سیاسی عمل اگرچہ اصلاح سیاست کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔

 

30- منہج سلف میں سے نہیں: مسلمانوں کا حکمران جو ان کے امور وجماعت کا اصل متولی ہے کہ علاوہ کسی اور کی بیعت ایجاد کرلینا۔

 

31- منہج سلف میں سے نہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء واتباع کو ترک کردینا۔

 

32- منہج سلف میں سے نہیں: بدعتی کی توقیر کرنا۔

 

33- منہج سلف میں سے نہیں: مطلق جہالت کو عذر مان لینا۔ بلکہ جہالت کی وجہ سے صرف اسے معذور سمجھتے تھے جس نے وسعت بھر تعلم اور طلب علم کی کوشش کی اور اس میں کسی کوتاہی کا شکار نہ ہوا، پس جو کچھ اس سے صادر ہوا وہی اس کا مبلغ علم تھا۔

 

34- منہج سلف میں سے نہیں: علم سے پہلے عمل کرنا۔ بلکہ وہ عمل سے پہلے علم سے ابتداء کرتے تھے۔ فرمان الہی ہے: ﴿فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ﴾ (محمد: 19) (پس لا الہ الا اللہ کا علم حاصل کریں اور اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجئے، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیےبھی)۔

 

35- منہج سلف میں سے نہیں: بہت زیادہ کلام اور باتیں کرنا۔ بلکہ وہ کہتے ہیں: جس کا کلام زیادہ  ہوتا ہے اس کی لغزشیں زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ اتنا خاموش رہتے کہ گمان کیا جاتا شاید کہ بیمار ہیں لیکن انہیں کوئی بیماری نہیں ہوتی تھی وہ تو محض خوف الہی ہوتا تھا۔

 

36- منہج سلف میں سے نہیں:  اہل بدعت کی جانب مائل ہونا اور پیش قدمی کرنا۔

 

37- منہج سلف میں سے نہیں: مجمل جرح کو کسی ایسے شخص پر لاگو کرنا جس کی عدالت ثابت ہو الا یہ کی جرح کو مفسر بیان کیا جائے، یا کسی بڑے امام کی جانب سے صادر ہوئی ہو تو نفس اس جانب مائل ہوتا ہے۔

 

38- منہج سلف میں سے نہیں: تعدیل کو کسی شخص پر لاگو کرنا جبکہ اس کے بارے میں جرح مفسر موجود ہو  الا یہ کہ تعدیل کرنے والے نے اس جرح کا ذکر کرکے علم کے ساتھ اس کا رد بھی کیا ہو۔

 

39- منہج سلف میں سے نہیں: علماء کی جانب رجوع کو ترک کردینا بلکہ یہ لوگوں کو ان کی مجالس کی جانب دعوت دیتے ہیں اور ان کو لازم پکڑ لینے کو کہتے ہیں۔

 

40- منہج سلف میں سے نہیں: اہل باطل کےساتھ جدال میں پڑنا۔ کیونکہ ایک مسلمان کو اپنا دین اہوا کے سامنے پیش ہی نہیں کرنا چاہیے۔

 

41- منہج سلف میں سے نہیں: علم پر عمل ترک کردینا۔ یہ وارد ہوا ہے کہ: علم عمل کو پکارتا ہے اگر وہ اس کا جواب دیتا ہے تو صحیح ورنہ وہ چلا جاتا ہے۔

 

42- منہج سلف میں سے نہیں: نصوص کی دلالتوں کو اصول عربی او رفہم سلف صالحین سے باہر کرنا۔

 

43- منہج سلف میں سے نہیں: مجملات کے ساتھ کلام کرنا اور تفصیل، بیان ووضاحت کو ترک کردینا۔

 

44- منہج سلف میں سے نہیں: حدیث آحاد سے عقائد میں احتجاج (حجت پکڑنے) کو ترک کرنا۔

 

45- منہج سلف میں سے نہیں: علم کا فائدہ دینے کو صرف حدیث متواتر تک محصور کردینا (یعنی صرف حدیث متواتر سے ہی علم کا فائدہ ہوتا ہے، باقی سے محض ظن کا فائدہ ہوتا ہے)۔

 

46- منہج سلف میں سے نہیں:  کلام وجدال میں داخل ہونا بلکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں کتاب وسنت کے تفقہ ، ان پر عمل اور ان کی جانب دعوت پر لگاتے ہیں۔

 

47- منہج سلف میں سے نہیں: ثقہ شخص کی خبر کو رد کرنا، اور اسے اس وقت تک قبول نہ کرنا جب تک اس کا صوتی ثبوت (آواز کی صورت میں) یا لکھت کی صورت میں نہ دیا جائے۔

 

48- منہج سلف میں سے نہیں: صحابہ کرام جس چیز پر تھے اس کی اتباع کو ترک کرنا، اور ایسے معانی اختراع وایجاد کرنا جس کے ذریعے شریعت میں جو معانی ہیں ان سے باہر نکلا جائے۔

 

49- منہج سلف میں سے نہیں: ایسی چیز میں مشغول ہونا جس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہ ہو۔

 

50- منہج سلف میں سے نہیں: کہ ہر طالبعلم جرح وتعدیل میں گھسنے کی کوشش کرے، کیونکہ بلاشبہ ہر فن کے اپنے رجال ہوتے ہیں، لہذا جیسا کہ ہر کسی سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا اسی طرح سے بے شک ہر کس وناکس جرح وتعدیل سے متعلق بات نہیں کرسکتا۔

 

51- منہج سلف میں سے نہیں: کہ طالبعلم قرآن وحدیث سے پہلے کسی چیز میں مشغول ہو جائے، جب وہ ان کا فقہ وفہم حاصل کرلے اور وہ علم حاصل کرلے جس کی اسے اپنے دین میں ضرورت ہو، پھر اس کے بعد جو وہ چاہتا ہے اسے طلب کرسکتا ہے۔

 

52- منہج سلف میں سے نہیں: علماء کرام سے ان کے کلام میں تنازع کرنا، کیونکہ ایک طالبعلم جانتا ہےکہ وہ ایک طالبعلم ہی ہے اور اس قسم کے مسائل کی تحقیق علماء کرام کے حوالے کی جاتی ہے، پھر جو نوازل (امت پر پیش آمدہ حالات) اور بڑے بڑے مسائل ہیں ان کا تو کہنا ہے کیا!

 

53- منہج سلف میں سے نہیں: اپنے رائے سے قواعد وضوابط وضع کرنا۔ بلکہ اس کا صرف یہی راستہ ہے کہ ان میں قرآن وسنت کے الفاظ کا اہتمام کیا جائے۔ کسی بھی فتوی کو جہاں تک ممکن ہو کسی آیت یا حدیث سے خالی نہ چھوڑا جائے۔

 

54- منہج سلف میں سے نہیں: اہل بدعت سے محبت کرنا، یا ان کے بارے میں حسن ظن رکھنا، انہيں ان کی فصاحت وانداز بیان دھوکے میں نہیں ڈالتا تھا، وہ یہ جانتے تھے کہ انسان اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔

 

55- منہج سلف میں سے نہیں: کہ آپ آئمہ سنت میں سے کسی کی محبت کا اعلان ہر جگہ اور ہر تعلیق اور ہر مناسبت میں کرتے پھریں۔ ہم یہ ان کے طریقے میں سے نہیں پاتے، واللہ الموفق۔

 

56- منہج سلف میں سے نہیں: کہ کسی سلفی عالم کی ہر ہر چیز سے آپ کا متفق ہونا شرط ہو۔ یہ دیکھیں علماء کرام کے اختلافات۔

یہاں امام شافعی امام مالک کی مخالفت کرتے ہيں۔ اور وہاں امام احمد امام شافعی کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب آئمہ ہیں رحمہم اللہ۔

اگر واقعی یہ شرط ہوتی کہ کوئی سلفی علماء کی مخالفت نہیں کرسکتا تو اس کا معنی ہوا کہ یہ اختلاف جائز نہیں تھا۔

بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک کا مسائل میں اختلاف ہوا۔

 

57- منہج سلف میں سے نہیں: صرف کتاب وسنت پر اقتصار کرنا۔ کیونکہ بلاشبہ اس کا دعوی تو ہر گروہ وجماعت کرتی ہے۔ بلکہ سلفیت یہ ہے کہ کتاب وسنت سے تمسک اختیار کیا جائے اور ان کا فہم سلف صالحین کے فہم کے مطابق ہو۔ جیساکہ روایت میں آیا ہے کہ:

’’مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي‘‘([2])

(جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں)۔

 

اور یہی وہ سبیل المؤمنین ہے جو اللہ تعالی کے اس فرمان میں مذکور ہے:

﴿وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا﴾ (النساء: 115)

(جو کوئی ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں (صحابہ) کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راہ چلے، تو ہم اسےوہی پھیر دیں گے جہاں وہ خود پھرا اور اسے جہنم پہنچا دیں گے اور وہ کتنی بری پلٹنے کی جگہ ہے)

 

اگر آپ دیکھیں گے تو پائیں گے کہ معتزلہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے اصول کتاب وسنت ہیں، لیکن وہ انہیں لغت وعقل کے تقاضے کے مطابق سمجھتے ہیں۔

 

شیعہ کے پاس بھی کتاب وسنت ہے لیکن وہ اسے اہل بیت میں سے جس سے راضی ہیں ان کے کلام کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

 

صوفی بھی کہتے ہیں کتاب وسنت لیکن وہ انہيں اپنی وجدان، الہامات، مکاشفات اور دلی واردات کے مطابق سمجھتے ہیں۔ (جیسے وہ کہتے ہیں کہ) میرے دل نے میرے رب سے مجھے حدیث بیان کی!

 

اسی طرح سے اخوانی لوگوں کے پاس بھی کتاب وسنت ہے لیکن وہ بھی معتزلہ کی مانند عقل و لغت کے تقاضے کے مطابق سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے اسے اپنے بیس اصولوں میں ذکر کیا ہے اور اسے وہ سلفیت کا نام دیتے ہیں۔

 

پس جہاں بھی آپ اپنی فکر دوڑائیں گے یہی چیز پائیں گے۔ چناچہ سلفیت یہ ہے کہ کتاب وسنت فہم سلف صالحین کے مطابق!

 

58- منہج سلف میں سے نہیں: اہل بدعت واہل باطل کو ہر ایک مناسبت ومواقع پر طعن وتشنیع کرنا بلا کسی سبب کے جو اس کا اس موقع پر جواز بنتا ہو۔ بلکہ سنت یہ ہے کہ :

’’مَنْ رَأَى مُبْتَلًى فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلَاءُ‘‘([3])

(جو کسی مبتلا شخص کو دیکھے تو کہے: اللہ تعالی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے مجھے اس چیز سے عافیت میں رکھا جس میں تجھے مبتلا کیا اور مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر فضلیت دی، تو اس شخص کو اس بلاء کا سامنا نہیں ہوگا)۔

 

یہاں تک کہ یہ دعاء  پڑھتے ہوئے بھی اپنی آواز بلند نہ کرنا کہ اسے سنانے لگو۔ او ریہ ہر قسم کی ابتلاء خواہ بدنی ہو یا عقیدے کی دونوں کو شامل ہے۔

 

59- منہج سلف میں سے نہیں: منکر کا انکار کرنا اگر اس کے نتیجے میں خود اس منکر سے بھی بڑھ کر فساد مرتب ہو۔ کیونکہ بلاشبہ یہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے باب میں پھر شمار نہ ہوگا۔ اور یہی فرق ہے اہل سنت اور دوسروں میں۔

 

اور ایسی حرکت کو جو فساداوراصلاح کے ضائع ہونےپر منتج ہو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا نام دینا، خود ایک منکر ہے۔ گویا کہ باطل کو حق کے نام سے روا کیا جارہا ہے۔ اور بدعتی مذاہب کو سنت کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔

 

60- منہج سلف میں سے نہیں: حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاپنے اس قول ’’لِمَ‘‘ (کیوں) کے ساتھ تعارض کرنا۔

 

61- منہج سلف میں سے نہیں: تقدیر خواہ اچھی ہو یا بری سے راضی نہ ہونا۔ اور شر مقدر ہونے کی نسبت بندے کی طرف نہ کرنا۔  کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی کے افعال میں شر نہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نماز کی دعاء میں فرمایا:

’’وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ‘‘([4])

(اور شر کی نسبت تیری طرف نہيں کی جاتی)۔

 

62- منہج سلف میں سے نہیں: مخالف پر رد کرتے ہوئے گالم گلوچ پر اتر آنا۔ کیونکہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والے اور لعنت کرنے والے نہیں تھے۔ اور اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا کہ اہل کتاب سے بھی گر مجادلہ کرنے پڑے تو احسن طور پر ہو۔ تو پھر بالاولی ہم اس اخلاق کے زیور سے آراستہ ہوں جب اہل اسلام میں سے مخالفین سےمجادلہ کریں۔

 

63- منہج سلف میں سے نہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین جو کچھ ماجرا ہوا اس میں بغیر علم کے گھسنےکی کوشش کرنا۔ یا بلاضرورت جیسے رد یا وضاحت کی ضرورت کے بغیر اس میں پڑنا۔ (اور بضرورت ایسا کرنا پڑے تو) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں تنقیص سے اجتناب کرتے ہوئے، اور سب کے ساتھ حسن ظن قائم رکھتے ہوئے اور ان کی حق کی رعایت کرتے ہوئے ایسا کیا جائے۔

 

64- منہج سلف میں سے نہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کسی کو عصمت (معصوم عن الخطاء) کا درجہ عطاء کردینا ۔

 

65- منہج سلف میں سے نہیں: معاملات وامور میں جلدی بازی سے کام لینا خصوصاً کلام کرنے میں۔ کیونکہ عجلت پسندی تو شیطان کی طرف سے اورٹھہراؤ و بردباری رحٰمن کی طرف سے ہے۔

 

66- منہج سلف میں سے نہیں: تفضیل (فضلیت دینے)کے متعلق کلام کرنا بغیر دلیل کے:

﴿وَاَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ﴾ (الحدید: 29)

(اور (جان لیں) کہ یقیناً فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے)

 

کوئی بھی کسی چیز کی کسی چیز پر فضلیت ثابت کرنے کے درپے نہ ہو بغیر توقیف (کتاب وسنت کی دلیل) کے، واللہ الموفق۔

 

67- منہج سلف میں سے نہیں: کسی شخص کی سلف کی جانب نسبت کو مان لینا جب تک اس کے حال وعمل کو دیکھ کر کتاب وسنت اور فہم سلف پر پیش نہ کیا جائے۔

 

68- منہج سلف میں سے نہیں: کسی کے قول کی اتباع کو لازم قرار دینا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، خصوصاً اجتہادی مسائل میں۔

 

69- منہج سلف میں سے نہیں: صرف مرفوع احادیث کا اہتمام کرنا موقوف آثار کا اہتمام نہ کرنا۔

 

70- منہج سلف میں سے نہیں: شخصیتوں کے لیے تزکیات جمع کرنے کی حرص اور تحقیقات کے لیے تقریظات جمع کرنے کی حرص۔

 

71- منہج سلف میں سے نہیں: اللہ تعالی کا خودساختہ ادعیہ واذکار کے ساتھ ذکر کرنا، خصوصاً اگر وہ مجمل وموہم قسم کے ہوں یا پھر کسی خاص عدد میں محصور ہوں بلا دلیل کے۔

 

72- منہج سلف میں سے نہیں: مستحب طلب علم کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نکل پڑنا۔

 

73- منہج سلف میں سے نہیں: ہر فن میں ان کے اہل کے بجائے نااہلوں کی طرف رجوع کرنا۔

 

74- منہج سلف میں سے نہیں: بغیر حجت وبرہان کے خوامخواہ غیبی امور کی گہرائی میں جانا ۔

 

75- منہج سلف میں سے نہیں: (حکومت مخالف) انقلابات، مظاہرات وقراردادیں پاس کرنا۔۔۔بلکہ حکمران کے ساتھ نصیحت وخیرخواہی کا معاملہ ہونا چاہیے وہ بھی ان کی ذات تک خاص ہونا چاہیے، یا پھر صبر کریں یہاں تک کہ اللہ تعالی ہی چھٹکارا عطاء فرمائے اور عجلت پسندی کو ترک کردیں۔

 

76- منہج سلف میں سے نہیں: توحید ربوبیت کے مسائل کو یوں پیش کرنا کہ یہی اصل ایمان ہے جیسا کہ ان میں سے بعض یوں کرتے ہيں جیسے کتاب ’’العلم یدعو للایمان‘‘ میں ہے۔ اس نے یہ وہم وتاثر دینا چاہا کہ بے شک ایمان محض یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالی موجود ہے، اور یہ کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے، اور جو کچھ کائنات میں ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ بلکہ سلف کے نزدیک ایمان یہ ہے کہ جازم اعتقاد ہو اس بات کا کہ بلاشبہ اللہ تعالی ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جو  اپنی صفات، افعال اور عبادت میں منفرد ویکتا ہے۔ اور ایمان قول، فعل اور اعتقاد کا نام ہے۔ اور فقط اس کا نام ایمان نہیں  کہ اللہ تعالی موجود ہے اور اس کائنات کی تدبیر فرماتا ہے۔

 

77- منہج سلف میں سے نہیں: حکمرانوں کے عیوب کی منبروں پر تشہیر کرنا۔ (فتاوی ابن باز 8/210)۔

 

78- منہج سلف میں سے نہیں: یہ مطالبہ کرنا کہ اجتہادی مسائل میں تمام اقوال بس ایک ہوں۔ اور لازماً ہر حال میں ایک دوسرے کے موافق ہوں۔ کیونکہ اجتہادی مسائل میں اختلاف کے تعلق سے کچھ وسعت وگنجائش ہے۔

 

79- منہج سلف میں سے نہیں: بدعت اور بدعتی کے معاملے کو ہلکا لینا۔۔۔

 

80- منہج سلف میں سے نہیں: اہل بدعت کی تعظیم او رانہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔

 

81- منہج سلف میں سے نہیں: تائب ہونے والے کی توبہ اور حق کی جانب رجوع کرنے والے کے رجوع کو ماننے سے تنگ دلی کا مظاہرہ کرنا۔

 

82- منہج سلف میں سے نہیں: کسی بھی امور کے نتیجے پر نظر نہ رکھنا۔

 

83- منہج سلف میں سے نہیں: دنیاوی مصلحتوں کو آخرت پر مقدم رکھنا۔

 

84- منہج سلف میں سے نہیں: علماء کرام کی شان میں کوتاہی کرنا اور ان کی تعظیم کو ترک کردینا۔

 

85- منہج سلف میں سے نہیں: فتنوں میں گھسنے کی کوشش کرنا۔

 

86- منہج سلف میں سے نہیں: بڑے کی توقیر نہ کرنا، چھوٹے پر شفقت نہ کرنا، اور عالم کے حق کو نہ پہچاننا۔

 


[1] صحیح بخاری 6064، صحیح مسلم 2561۔

 

[2] الترمذي، كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و سلم، باب ما جاء في افتراق الأمة، 2641۔

 

[3] الترمذي، سنن الترمذي. أبواب الدعوات، باب ما يقول إذا رأى مبتلى، 5/ 493 ،.3432۔

 

[4] صحیح مسلم 774۔

 

February 4, 2016 | الشيخ محمد بن عمر بازمول, سلفیت, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com