menu close menu

ہم نصوص کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں اگرچہ ہمیں اس کی تفسیر معلوم نہ بھی ہو – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Complete submission to the revelation even if we don't know its correct meaning – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

ہم نصوص کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں اگرچہ ہمیں اس کی تفسیر معلوم نہ بھی ہو

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح اصول السنۃ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ ’’اصول السنۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ‘‘([1])

(تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں تو وہ منافق ہے)۔

یہ تغلیظ وسختی کے پیش نظر فرمایا گیا جسے ہم بلا تفسیرکےاسی طرح روایت کردیتے ہیں جیسی یہ بیان ہوئی ہے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ:

’’لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ‘‘([2])

(میرے بعد کافر و گمراہ  نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے (قتل کرنے) لگ جاؤ)۔

یا جیسے فرمایا:

’’إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ‘‘([3])

(اگر دو مسلمان تلوار سونتے آمنے سامنے مد مقابل ہوں تو قاتل ومقتول دونوں آگ میں ہیں)۔

یا جیسے فرمایا:

’’سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ‘‘([4])

(مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے)۔

یا جیسے فرمایا:

’’مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا‘‘([5])

(جس کسی نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کہا اے کافر! تو یہ (تکفیر) ان میں سے ایک پر لوٹ آئے گی)۔

یا جیسے فرمایا:

’’كُفْرٌ بِاللَّهِ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ‘‘([6])

(اپنے نسب سے خواہ اس کا نسب کتنا ہی کمتر کیوں نہ ہو برئ الذمہ ہونا اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنا ہے)۔

اور اس جیسی دیگراحادیث جو صحیح ومحفوظ ہیں ہم انہیں تسلیم کرتے ہیں اگرچہ ہم اس کی تفسیر نہ بھی جانتے ہوں، اس کے خلاف کلام یا جدال نہیں کرتے، اور ان کی تفسیر نہیں کرتے مگر اسی طرح جیسے یہ بیان ہوئی ہیں اور اسے اس کے سب سے برحق([7]) مفہوم کی طرف پھیرتے ہیں‘‘۔

اس پر شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کی شرح جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

 


[1] مکمل حدیث اس طرح ہے کہ:

’’ وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ، وَزَعَمَ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ خَلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ‘‘

(اگرچہ وہ نماز پڑھے، روزے رکھے اور اپنے آپ کو مومن تصور کرے: جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے)۔

من رواية أبي هريرة رضی اللہ عنہ أخرجه أحمد فى مسنده (2/536) والبزار فى مسنده (7843) و (8624) ومحمد بن نصر المروزي فى "تعظيم قدر الصلاة" برقم (576) والحسن بن سفيان النسوي فى "الأربعين" برقم (12) والفريابي فى "صفة المنافق" برقم (5) وإبن منده فى "الإيمان" (2/606 برقم 530) وأبو نعيم فى "المستخرج على مسلم" (1/108 برقم 207) والبيهقي فى "الكبرى" (6/288) وأصله فى صحيح مسلم برقم (59) (109)۔

[2] مسند احمد ، قصۂ ابی الغادیہ، حدیث رقم (16644)۔اور جو ’’ضلالا‘‘کے لفظ کےبغیر روایت ہے،  وہ صحیح بخاری: کتاب العلم، باب الفتن، باب قول النبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ’’لاترجعوا۔۔۔‘‘،حدیث رقم(7077) اورصحیح مسلم: کتاب الایمان، باب معنی قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ’’لاترجعوا بعدی کفارا۔۔۔‘‘، حدیث رقم (65) میں ہے۔

[3] صحیح بخاری: کتاب الایمان، باب ﴿وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا﴾ فسماھم المؤمنین، حدیث رقم (31)۔ مسلم: کتاب الفتن واشراط الساعة، باب اذا تواجه المسلمان بسیفیهما، حدیث رقم (2888)من حديث أبي بكرة رضی اللہ عنہ۔

[4] رواه البخاری: الایمان، باب خوف المؤمن من ان یحبط عملہ وھو لایشعر، حدیث رقم (48)، ومسلم: کتاب الایمان، باب بیان قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ’’سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر‘‘، حدیث رقم (64) من حديث عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

[5] رواه البخاری: کتاب الادب، باب من اکفر بغیر تاویل فھو کما قال، حدیث رقم (6103، 6104) من حديث أبي هريرة وإبن عمر y، ومسلم: کتاب الایمان، باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم: یاکافر، حدیث رقم (60) من حديث إبن عمر رضی اللہ عنہما۔

[6] رواه أحمد (2/215 برقم 7019) ونحوه عند إبن ماجه برقم (2744)، والطبراني فى الأوسط (8/47 برقم 7919) وفى الصغير (2/226 برقم 1072) من حديث عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہما اس کے علاوہ اسے امام ابن تیمیہ  نے اپنی کتاب الایمان میں ذکر کیا، اور شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

[7] لالکائی میں ’’بالحق‘‘ ہے اور طبقات الحنابلہ میں ’’بأجود‘‘ (سب سے بہتر) کے الفاظ ہیں۔

 

January 27, 2017 | الإمام أحمد بن حنبل, الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com