menu close menu

ہم سلفی کیوں کہلائیں (ایک مفید مناقشہ) – شیخ محمد ناصر الدین البانی

 

Why we call ourself as "Salafees" (A Beneficial Debate) – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Albaanee

 

ہم سلفی کیوں کہلائیں؟

(ایک مفید مناقشہ)   

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلۃ الھدی والنور کیسٹ رقم725 اور 544۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ البانی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: ایک مناقشہ (مباحثہ) میرے اور ایک اسلامی قلم کار کے مابین وقوع پذیر ہوا جو کتاب وسنت کی پیروی میں ہمارے ساتھ متفق تھا(مگر سلفی کہلانے میں کچھ تذبذب کا شکار تھا)۔ اور میں طالب علم بھائیوں سے یہ تمنا رکھتاہوں کہ وہ اس مباحثہ کو یاد کرلیں کیونکہ اس کے نتائج بہت اہم ترین ہیں۔

 

میں نے اس شخص سے کہا، اگر کوئی آپ سےیہ سوال کرے کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ تو آپ کاکیا جواب ہوگا؟

 

اس نے جواب دیا: (میرا جواب ہوگا کہ) میں مسلمان ہوں۔

 

شیخ البانی: یہ جواب غلط ہے، اس نے پوچھا کیوں غلط ہے! میں نے کہا اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آپ کا دین کیا ہے؟  تب آپ کا کیا جواب ہوگا ؟

 

سائل: (میں کہوں گا کہ) میں مسلمان ہوں۔

 

شیخ البانی: پہلی بات یہ کہ میں نے آپ سے آپ کا دین نہیں پوچھا تھا میں نے پوچھا تھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے، ایسا تھا کہ نہیں (صحیح)

 

دوسری بات یہ کہ  آپ جانتے ہیں کہ آج دنیا میں مسلمانوں کے کئی مذاہب ہیں، اور آپ ہمارے ساتھ موافق ہوں کہ ان میں سے بعض کا تو مطلقاً اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں، جیسے دروز، اسماعیلی، علوی اور اس جیسے دوسروں، مگر یہ سب اپنےآپ کو مسلمان کہلواتے ہیں۔ اور ان کے علاوہ بھی کچھ فرقے ہیں جنہیں ہم سابقہ مذکورہ فرقوں کی طرح تو نہیں کہتے کہ وہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں، لیکن بلاشبہ یہ ان گمراہ فرقوں میں تو شمار ہوں گے جو بہت سی باتوں میں کتاب وسنت سے خارج ہوچکے ہیں جیسے معتزلہ، خوارج، مرجئہ، جبریہ اور ان جیسے دوسرے۔ تو آپ کا کیا کہنا ہے یہ سب آج موجود ہیں کہ نہیں؟

 

سائل: (جی) موجود ہیں۔

 

شیخ البانی: اگر ہم ان (مذکورہ بالا گمراہ فرقوں) سے پوچھیں کے آپ کا مذہب کیا ہے؟  تو وہ بھی محتاط روش اپناتے ہوئے آپ کے جواب کا سا جواب دیں گے کہ ہم مسلمان ہیں۔

 

سائل: میں کہوں گا کہ میرا مذہب کتاب وسنت ہے۔

 

شیخ البانی: میں کہتا ہوں یہ جواب بھی ناکافی ہے۔

 

سائل: کیوں! !

 

شیخ البانی: کیونکہ جن جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ وہ بھی (گمراہ ہونے کے باوجود) اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں، ساتھ ہی ان میں سے کوئی نہیں کہتا کہ میں کتاب وسنت پر نہیں (بلکہ سب کا یہی دعوی ہے کہ ہم کتاب وسنت پر عمل پیرا ہیں)۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم ایک اور ضمیمے کا اس میں اضافہ کریں، آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم آج کتاب وسنت کے کسی نئے فہم پر اعتماد کریں گے یا پھر لازم ہے کہ ہم ان کے فہم کے سلسلے میں اس چیز پر اعتماد کریں گے جس پر سلف صالحین تھے؟

 

سائل: بالکل لازمی ہے (کہ ہم فہم سلف صالحین پر اعتماد کریں)

 

شیخ البانی: کیا آپ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ دوسرے مذاہب والے جو اسلام کے دعویدار ہیں مگر اسلام سے خارج ہیں یا پھر جو ابھی تک دائرہ اسلام میں تو ہیں مگر بعض اسلامی احکام میں گمراہ ہیں وہ آپ کے، میرے اور ہمارے ساتھ اس قول کے قائل ہوں کہ ہم کتاب وسنت اور منہج سلف صالحین پر قائم ہیں؟

 

سائل: نہیں، وہ اس بات میں تو (ہرگز) ہمارے ساتھ نہیں۔

 

شیخ البانی: کیا عربی زبان میں ایسا کوئی ایک کلمہ موجود نہیں جو ان تمام باتوں یعنی "مسلم، کتاب وسنت پر منہج سلف صالحین کے مطابق" کی طرف اشارے کو ہمارے لئے جمع کردے ، کیا ایسا کوئی کلمہ موجود نہیں جو ہمیں ان تمام کلمات (کو دوہرانے) سے مستغنی کردے جیسا کہ " أنا سلفي" (میں سلفی ہوں)۔

 

اس (سائل) نے کہا واقعی ایسا ہی ہے، اور وہ نادم ہوگیا۔

 

پس یہ تھا جواب اگر کوئی آپ پر اعتراض کرے کہ سلفی نہیں کہلانا چاہیے، تو آپ کو چاہیے کہ یہ سارا مباحثہ اس کے ساتھ کرگزریں کہ وہ آپ سے کہے گا میں مسلمان ہوں پھر۔۔۔یہی سارا مباحثہ جاری رہے گا۔ ہر سوال کا جواب دیتے جائیں یہاں تک کہ وہ سلفی اسلامی کے درجہ تک پہنچ جائے۔۔۔

July 25, 2015 | الشيخ محمد ناصر الدين ألباني, سلفیت, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com