menu close menu

ہماری دعوت

’’ہماری دعوت‘‘

بسم اللہ الرحمن الرحیم

1- اپنے ہر معاملےمیں وحئ الہی کتاب وسنت اور اجماع امت کی پیروی کرنا۔

2- قرآن وسنت پر فہم سلف صالحین (صحابہ کرام اور ان کے متبعین) کے مطابق عمل کرنا۔

3- نہ صرف سلف صالحین کی طرف لفظا ًمنسوب ہونا بلکہ اپنے عقیدے، عبادات، سلوک ومعاملات میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی بھرپور کوشش کرنا۔

4- قرآن وسنت اور فہم سلف صالحین کے مطابق دین میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدے ومنہج کو دینا، امت کو توحید وسنت کی طرف دعوت دینا اور شرک وبدعات وخرافات سے روکنااور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

5- صحیح عقیدے ومنہج پر مجتمع رہنا اور ہر قسم کی مذموم فرقہ واریت وحزبیت کی مذمت کرنااور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

6- خالص توحید کی دعوت اور ہر قسم کے شرک ومزار پرستی ، غیر اللہ کو پکارنا وان کی نذر ونیاز وغیرہ سے روکنااور ان شرک کرنے والوں سے  برأت ظاہر کرنا۔

7- صوفیت وخانقاہی دین جو شرکیات وبدعات پر مبنی ہے کا رد کرنااور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

8- سلفی عقیدے کے مطابق اللہ تعالی کے تمام پیارے ناموں اور صفات پر بنا تعطیل(انکار)، تشبیہ(مشابہت دینے)، تکییف(کیفیت بیان کرنے)، تمثیل وتاویل (حقیقی معنی سے ہٹ کر ناجائز مجاذی معنی بیان کرنے) کے ایمان لانا۔اور اس بارے میں گمراہ فرقوں جہمیہ، معتزلہ، اشاعرہ وماتریدیہ وغیرہ کا رد کرنااور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

9- تمام ارکان ایمان کی تفصیل کے تعلق سے اسی عقیدۂ اہل سنت والجماعت کا التزام کرنا جو سلف صالحین کی کتب میں مدون ہے اور ہم تک روایت ہوا ہے۔ ’’سب سے پہلے اہم ترین چیز پھر جو اہم ہو‘‘ کے قاعدہ کی بنیاد پر عقیدے کے اصول اور ایمان کے مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے خاص عقیدہ کورس کے تحت  لوگوں کو آسان طریقہ سے سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کرنا۔

10- سنت وآثار کی پیروی میں محدثین کا تحقیقی منہج اختیار کرنا اور ہر قسم کی غیرمقبول روایات سے بچنا۔

11- بلاتعصب مذہبی کے خالص اتباع سنت  کرنا اور مذموم اندھی تقلید سے کنارہ کشی اختیار کرنا۔

12- صحابہ کرام، تابعین عظام، آئمہ دین واولیاء کرام سے محبت کرنا ،ان کے راستے کی پیروی کرنااور ان کے لیے ہمیشہ دعاءگو رہنا۔ نہ ان کی شان میں غلو کرکے ان کی عبادت کرنا اور نہ ہی ان کے حق میں کوتاہی کا ارتکاب کرتے ہوئے ان پر طعن وتشنیع کرنا،  یا ان کے راستے (سبیل المؤمنین) کے سوا کسی اور راہ کی پیروی کرنا۔ رافضیت وناصبیت کی روش سے بچنا اور ان کا رد کرنااور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

13- مسائل کے حل کے لیے صحیح العقیدہ والمنہج راسخون فی العلم علماء کرام کی جانب رجوع کرنا اور امت کو اس کے علماء کرام سے جوڑنے کی سعی کرنا۔ محض دینی جذبہ رکھنے والےاور علماء کرام کی جانب رجوع نہ کرنے والے نت نئے داعیان سے پرہیز۔

14- مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا اور مسلم حکمران وقت کی اطاعت کرنا۔ زبان، قلم یا ہتھیار سے ان کے خلاف خروج کرنے سے روکنا۔ بلکہ نصیحت کے ان شرعی طریقوں کو اپنانا جس پر سلف صالحین گامزن تھے۔ خارجیوں کا رد کرنااور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

15- بدعت، اہل بدعت اور مخالفین حق پر علمی رد کرنا، تاکہ امت کو ان کی گمراہیوں سے بچایا جاسکے۔

16- اللہ تعالی کے دین، توحید، سنت وسلفیت کی بنیاد پر الولاء والبراء (دوستی ودشمنی) کے اصول پر کاربند رہنا۔

17- جہاد، نفاذ شریعت، بیعت وقیام خلافت وغیرہ کے نام پر دہشتگردی، خروج ، تکفیر وخون خرابہ کرنے والی اخوانی وقطبی وغیرہ جماعتوں، تنظیموں اور گروہوں کا رداور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

18- اسی طرح سے لادینی وملحد، سیکولر وجمہوری تنظیموں ، جماعتوں اور نظاموں کا رد اور ان سے برأت ظاہر کرنا۔

19- امت کی حقیقی اصلاح کے لیے تصفیہ اور تربیہ کے منہج کی طرف دعوت یعنی اسلام کو ہر قسم کے غلط وبدعتی عقیدے، منہج، عبادات، معاملات، سیاست ومعیشت وغیرہ سے پاک کرنا پھر اس پاک شدہ دین پر امت کی حتی المقدور تربیت کرنا۔ اور اصلاح کا کام اپنے نفس سے شروع کرکے معاشرے تک کرنے کی سعی وجدوجہد کرنا۔اس بارے میں سورۃ العصر کی الہی ترتیب کو بروئے کار لانا کہ طلب علم کی اہمیت کو جانتے ہوئے اس کے ذریعے ایمان کی صحیح آگاہی، اس پر عمل، دوسروں کو اس علم وعمل کی طرف دعوت دینا اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کا صبر سے مقابلہ کرنا۔

 

مختلف سلفی علماء کرام کی کتب وتقاریر سے جمع وترتیب

طارق علی بروہی

نظر ثانی وتجاویز

ڈاکٹر مرتضی بن بخش حفظہ اللہ

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com