menu close menu

گھریلو نوک جھونک کے سبب شادیوں کی حوصلہ شکنی جائز نہيں – شیخ محمد بن عمر بازمول

Family spats are not a reason to discourage marriages – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

گھریلو نوک جھونک کے سبب شادیوں کی حوصلہ شکنی جائز نہيں   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: علمني ديني 48 – على جدران الفيسبوك، الإصدار الثاني۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ  بلاشبہ گھریلو نوک جھونک بیویوں کے درمیان ہوجایا کرتی ہيں، اور ایسا ازدواجی زندگی میں ہوجاتا ہے، جس سے یہ لازم نہيں آتا کہ ہم شادیوں کی ہی مذمت کرنے لگیں۔ اور ایسا نیک شوہروں اور ان کی نیک بیویوں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں دو گروہ میں تھیں۔ چناچہ ایک گروہ میں عائشہ، حفصہ، صفیہ اور سودہ تھیں اور دوسرے گروہ  میں ام سلمہ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بقیہ تمام بیویاں رضی اللہ عنہن تھیں۔ مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا علم تھا اس لیے جب کسی کے پاس کوئی تحفہ ہوتا اور وہ اسے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کرنا چاہتا تو انتظار کرتا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی باری ہوتی تو تحفہ دینے والے صاحب اپنا تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں  عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھیجتے۔ اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گروہ والیوں نے آپس میں مشورہ کیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے فرما دیں کہ: جسے آپ کے یہاں تحفہ بھیجنا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اپنی بیویوں میں سے جس کسی کے بھی گھر ہوا کریں وہیں بھیج دیا کرے۔ چنانچہ ان بیویوں کے مشورہ کے مطابق ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ان خواتین نے پوچھا تو انہوں نے بتا دیا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان ازواج مطہرات نے کہا کہ پھر ایک مرتبہ کہو۔ انہوں نے بیان کیا پھر جب آپ کی میرے پاس باری آئی تو دوبارہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ ازواج  مطہرات نے اس مرتبہ ان سے کہا کہ : پوچھتی رہو یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اس بارے میں ضرور کوئی جواب دیں۔ اب جب ان کی باری آئی تو انہوں نے پھر کہا، جس پر  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دوکیونکہ بے شک اپنی بیویوں میں سے کسی کے کپڑے میں بھی مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے سوائے عائشہ کے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد پر انہوں(ام سلمہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو ایذا پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور میں توبہ کرتی ہوں۔

پھر ان ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ کہلوایا کہ :بے شک آپ کی بیویاں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں اللہ کے لیے آپ سے عدل و انصاف چاہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں بات کی جس پر  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتی جس سے  میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور ازواج کو اطلاع دی۔ انہوں نے ان سے پھر دوبارہ خدمت نبوی میں جانے کے لیے کہا مگر آپ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ جانے سے انکار کردیا۔

پھر  انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا تو وہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں مگر انہوں نے بہت سخت گفتگو کی اور کہا کہ: بےشک  آپ کی بیویاں ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے اللہ کے لیے عدل و انصاف مانگتی ہیں۔ اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا وہیں بیٹھی ہوئی تھیں کہ انہوں (زینب) نےبراہ راست ان کے منہ پر انہیں بھی برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ کچھ بولتی ہیں یا نہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ :عائشہ رضی اللہ عنہا بھی بول پڑیں اور زینب رضی اللہ عنہا کی باتوں کے ایسے کھر ے جواب دینے لگیں  کہ آخر ان کا بولنا بند کروادیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ :

’’إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ‘‘ ([1])

(یہ ہے ابو بکر کی بیٹی )۔

 


[1] صحیح بخاری 2581۔

June 18, 2018 | آداب، اخلاق وعادات, الشيخ محمد بن عمر بازمول, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com