menu close menu

کیا کفراور بدعت میں واقع ہونے والے شخص کا کافر وبدعتی ہونا لازم ہے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Does it necessitate for the one who falls into Kufr or Bida'ah to become a Kaafir or a Mubtadi'? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

کیا کفر اور بدعت میں واقع ہونے والے شخص کا  کافر وبدعتی ہونا لازم ہے؟

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شیخ کی ویب سائٹ سے: هل يلزم من وقوع الإنسان في الكفر أن يكون كافرا ومن الوقوع في البدعة أن يكون مبتدعا؟

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: کیا کسی انسان کے کفر میں واقع ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ کافر ہو اور اس کے بدعت میں واقع ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ بدعتی ہو؟

جواب: اس بارے میں تفصیل ہے:

اگر جس کفر میں وہ واقع ہوا ہے وہ ایسا معاملہ ہو جسے ’’معلوم من الدين بالضرورة‘‘ کہا جاتا ہے یعنی دین کے بارے میں ایسی عام بات جسے ہر خاص وعام لازماً جانتا ہی ہے، پھر وہ اس میں مبتلا ہو تو  یہ معذور نہیں، اگر اس میں واقع ہوتا ہے تو کافر ہوجائے گا۔ جیسے نماز کی فرضیت کا انکار کرتا ہے یا حج کی فرضیت کا، یا پھر کسی اور معلوم وجانے پہچانے مسئلے کا انکار کرتا ہے جیسے شراب نوشی کی حرمت، زنا کی حرمت کا انکار، تو یہ ایسے امور ہیں جو کہ’’معلوم من الدين بالضرورة‘‘ کے تحت آتے ہیں۔ اگرا ن میں واقع ہوتا ہے تو اس پر مرتد کا حکم لگے گا اور اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا، اگر وہ توبہ کرکے اللہ تعالی کی جانب رجوع کرلیتا ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا، اور اگر رجوع نہيں کرتا تو اسے بطور مرتد قتل کردیا جائے گا۔

اور اگر جس کفر میں وہ واقع ہوا ہے وہ ایسا ہو کہ عام طور پر مخفی ہو اور ’’معلوم من الدين بالضرورة‘‘ میں سے نہ ہو تو پھر اس کو کافر نہيں قرار دیا جائے گا یہاں تک کہ اس سے مناقشہ ومناظرہ کرکے اس پر حجت تمام کی جائے۔ اب اگر اس پر دلائل وبراہین کے ساتھ حجت قائم کردی جاتی ہے لیکن وہ پھر بھی اسی کفر پر اصرار کرتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہےتو اس صورت میں اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ اور یہی سلف صالحین کا قول ہے۔

جہاں تک بات ہے اس کی جو بدعت میں واقع ہو تو دیکھا جائے گا کہ اگر یہ بدعت بھی اس قسم کی ہو کہ جو ’’معلوم من الدين بالضرورة‘‘ میں شمار ہوتی ہو اور وہ اس میں واقع ہوجائے جیسے خلق قرآن کا قول یا صفات الہی کی تعطیل کرنا یا پھر کوئی دوسرے امور کہ جو بعض لوگوں پر تو مخفی ہوں لیکن ہوسکتا ہے بعض پر واضح ہوں۔۔۔پس اگر بالکل ظاہر والا معاملہ ہو تو اس کی تبدیع کی جائے گی جیسے خلق قرآن کا قول، اس صورت میں کہ وہ اہل سنت کے بیچ میں رہتا ہے اور اسے شعور نہیں۔۔۔بلکہ الٹا وہ خلق قرآن کے قائل کا دفاع کرتا ہے اہل بدعت معتزلہ وخوارج اور ان جیسوں کا دفاع کرتا ہے، تو ایسا شخص تو سرفہرست بدعتی قرار دیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ امام احمد، ابو زرعہ، ابو حاتم اور آئمہ اسلام رحمہم اللہ کے سامنے جو خلق قرآن کا قائل ہوتا وہ اس کی تکفیر کرتے اور تبدیع کرتے۔ یہاں تک کہ امام ابن ابی حاتم نے ابو زرعہ اور ابی حاتم رحمہم اللہ سے نقل فرمایا کہ:

’’جو کوئی خلق قرآن کا قائل ہو تو اس نے وہ کفر کیا جس سے وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا‘‘۔

اسی طرح سے امام ابن ابی حاتم نے اپنے مشایخ ابو حاتم اور ابو زرعہ رحمہم اللہ سے نص بیان کی ہے۔

ظاہر ہے ہوسکتا ہے ان کے علاوہ بعض یہ کہتے ہوں کہ وہ ایسے کفر میں مبتلا ہوا جو ملت اسلامیہ سے خارج نہيں کرتایا کوئی بھی تاویل ذکر کرتا ہو۔ بہرحال شاہد یہ ہے کہ: وہ اس بارے میں کوئی تردد نہیں فرماتے تھے کہ بے شک فلاں بدعتی جہمی ہے اگر وہ خلق قرآن کا قائل ہو، اور بعض تو اس کی تکفیر کرتے اور ان کے مطابق اس کا کفر اسے ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا ہے۔

اور اگر ایسی بدعت ہو جو کہ لوگوں پر مخفی ہو اور اس شخص پر معاملہ ملتبس ہوجائے حالانکہ وہ شخص سنت کی پیروی اور حق بات کو چاہنے میں معروف ہو، پھر یعنی اسے کسی ضعیف حدیث کا سامنا ہو جسے وہ صحیح گمان کربیٹھا ہو، تو اسی کی بنیاد پر وہ اس مسئلے کا قائل ہوا ہو اور بدعت میں واقع ہوا ہو، یا نص کے فہم کی خاطر اجتہادکیا ہو اور حق بات تک پہنچنا چاہتا ہو لیکن اس نص کے فہم میں وہ غلطی کرجائے اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی مراد کو نہ پاسکے اور بدعت میں واقع ہوجائے، تو پھر اس حال میں ہم بلاشبہ اس کی تبدیع نہيں کریں گے۔ بلکہ اسے معذور خیال کریں گے۔ اور اگر ہمارے لیے اس سے مناقشہ کرنا ممکن ہو تو ہم اس سے مناقشہ کریں گے پس وہ رجوع کرلے گا تو الحمدللہ۔ لیکن اگر ہمارے مناقشے کرنے پر بھی وہ رجوع نہیں کرتا تو پھر ممکن ہے اس کی تبدیع کرنا۔ البتہ اگر ہم نے اس سے مناقشہ کیا نہیں ، نہ ہی اس سے مناقشے یا جواب دینے کے ہمارے پاس امکان ہیں تو پھر ہم اس کی تبدیع  نہیں کریں گے۔

June 28, 2016 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com