menu close menu

کیا کسی جماعت کی اکثریت معیارِ حق ہے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Is the majority criteria of truth? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

کیا کسی جماعت کی اکثریت معیارِ حق ہے؟

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: کتاب منھج الأنبیاء فی الدعوۃ الی اللہ فیہ الحکمۃ والعقل۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ حفظہ اللہ اپنی کتاب میں   یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اصلاحِ عقائد اور مخالفت شرک ہی عقل و حکمت کا تقاضہ ہے ، فرماتے ہیں:

قیام حکومت کی دعوت بڑی آسان ہے، اس دعوت کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا، کیوں کہ اکثر لوگ دنیا دار اور صاحبِ اغراض و شہوات ہی ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس دعوتِ توحید کی دشواریوں اور مصائب کی وجہ سے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی اتباع کرنے والے صرف تھوڑے ہی ملتے ہیں۔  نوح علیہ الصلاۃ والسلام قرآن کے بیان کے مطابق اپنی قوم کو:

﴿فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا﴾ (العنکبوت: 14)

(وہ ان میں پچاس کم ہزار برس رہے)

(ساڑھے نو سو سال)  تک اللہ کی طرف بلاتے رہے ، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟

﴿ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ ﴾  (ھود: 40)

(ان پر ایمان نہیں لائے مگر  بہت ہی تھوڑے لوگ)

 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ وَقَوْمُهُ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَلَا عَذَابٍ‘‘([1])

(مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، میں نے ایک نبی کو گزرتے دیکھا جن کے ساتھ ایک چھوٹا سا گروہ ہے ،ایک نبی کو دیکھا ان کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں، ایک اور نبی کو دیکھا جن کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پھر اچانک مجھے ایک بڑا گروہ دکھایا گیا میں  سمجھا یہ میری امت ہے، مجھ سے کہا گیا:یہ موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام   اور ان کی قوم ہے، لیکن آپ اس کنارے دیکھیے، میں نے انسانوں کی ایک عظیم تعداد دیکھی، پھر مجھ سے کہا گیا کہ آپ ایک اور کنارے دیکھیے تو میں نے انسانوں کی ایک اور عظیم تعداد دیکھی مجھ سے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے، ان میں ستر ہزار ایسے ہیں جو بغیر حساب کتاب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے )۔

اور مشرکین کو ناقابل تریدد حجتوں اور دلائل وبراہین سے مغلوب کرنے والے  ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھ لیں، اللہ تعالی ان کے اور ان پر ایمان لانے والوں کے تعلق سے ارشاد فرماتا ہے:

﴿فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ  ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ﴾  (العنکبوت: 26)

(ان پر لوط ایمان لائے اورانہوں نے فرمایا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں، بے شک وہ زبردست غالب اور حکمت والا ہے)

 لوط علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ عذابِ الہٰی سے نجات پانے والے جن میں شاید صرف  لوط علیہ الصلاۃ والسلام کی صاحب زادیاں ہی تھیں کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾ (الذاریات:35-36)

(ہم نے (عذاب کے وقت) اس میں جتنے بھی مومن تھے نکال دیے، اس (بستی) میں ہم نے ایک گھر والوں کے سوا کسی کو مسلمان نہیں پایا)

 ایمان لانے والوں کی یہ قلتِ تعداد انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے مرتبہ کو ذرّہ برابر بھی گھٹا نہیں سکتی، بلکہ وہ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ شریف و باوقار ، احترام اور اخلاق و کردار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے، اور کامل انسانی اوصاف، مردانہ شان و شوکت، شجاعت و بہادری، فصاحت و بلاغت ،طاقتِ لسانی اور انسانیت کے لئے خیر خواہی اور قربانی جیسی خوبیوں میں ان سب سے بالا  تھے۔

 انہوں نے اپنے فرائض منصبی جیسے توحید کی جانب دعوت وتبلیغ، بشارت دینا اور خبردار کرنے کا حق بدرجۂ اتم پورا کر دیا۔ اگر ان کے متبعین کم تھے اوربعض کا تو  ماننے والا کوئی نہیں تھا تو سارے کا سارا قصور اس قوم کا ہے جس نے ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا ،کیوں کہ ان کے نظر میں انبیاء  کرام  علیہ الصلاۃ والسلام کی دعوت ان کی نیچ خواہشات سے میل نہیں کھاتی تھی ۔

ہاں! کبھی اللہ تعالیٰ کسی پیغمبر کی امت کو ہدایت عطا کرتا ہے وہ قوم یا اس کی اکثریت، دین کو قبول کر لیتی ہے، پھر اللہ پر ایمان، تصدیق اور نیک اعمال کی برکت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اقتدار اور حکومت کے پاک پھل سے نوازتا ہے ،جس کے ذریعے وہ کلمہ حق بلند کرنے کے لئے اللہ کی راہ میں جہاد اور شریعت و اسلامی حدود نافذ کرنے  اور دیگر شرعی امور  جو اللہ تعالی نے ان کے لیے مشروع قرار دیے ہيں کے واجب کو ادا کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ مقام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عطا ہوا، اللہ نے ان کے ایمان، عملِ صالح اور مشرکین کی سرکشی وظلم و زیادتیوں پر ان کے صبر جمیل کا یہ بدلہ دیا کہ  ان کی نصرت فرمائی،  اور ان کے دین حق کو غالب کر کے انہیں زمین پر اقتدار اور غلبہ عطا فرمایا۔ جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:

﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ  ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا  ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا﴾  

(النور:۵۵)

(اللہ تم میں سے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان سے وعدہ کر چکا ہے کہ وہ انہیں زمین پر ضرور خلیفہ بنائے گا، جیسا کہ خلیفہ بنایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے اور ان کے اس دین کو مضبوطی سے جما دے گا جو وہ ان کے لئے پسند کر چکا ہے ۔اور ان کے (موجودہ) خوف کو امن سے بدل دے گا۔(بشرطیکہ) وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں)

اس کے باوجود وہ کسی بادشاہت ومملکت کے طالب نہ تھے بلکہ وہ تو توحید وہدایت کے داعی تھے ، اور نہ ہی  اپنے پیروکاروں کو کسی سیاسی تحریک وانقلابات کے لئے تیار کیا کرتے تھے۔

 


[1] أخرجه البخاري 67- كتاب الطب، 17- باب من اكتوى أو كوى غيره، حديث (5705)، ومسلم 1-كتاب الإيمان، 94- باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنَّة بغير حساب ولا عذاب، حديث (374)، وأحمد في المسند (1/271).

October 7, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com