menu close menu

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کائنات بنی ہے؟ – مختلف علماء کرام

Did Allaah create the universe for the prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ? – Various 'Ulamaa

کیا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے لیے کائنات بنی ہے؟   

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: یہ بات بالکل جانی مانی اور زبان زد عام ہوچکی ہے گویا کہ یہ کوئی بدیہی حقیقت ہے کہ بلاشبہ یہ دینا ومافیہا رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیدا کی گئی ہے، اگر آپ نہ ہوتے تو یہ یہ نہ پیدا ہوتی نہ اس کا کوئی وجود ہوتا۔ ہم آپ فضیلۃ الشیخ سے اپنے اس سوال کا جواب دلیل کے ساتھ چاہتے ہيں، آیا واقعی ایسا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے، وجزاکم اللہ خیراً؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ :

 یہ بعض عوام الناس کا قول ہے جو کچھ سمجھ بوجھ نہيں رکھتے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ: یہ دنیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے لیے بنائی گئی ہے، اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نہ ہوتے تو یہ دنیا ہی نہ پیدا کی جاتی اور نہ ہی لوگوں کو پیدا کیا جاتا۔یہ بالکل باطل بات ہے جس کی کوئی اصل نہیں، یہ فاسد کلام ہے)[1](۔ اللہ تعالی نے یہ دنیا اس لیے پیدا کی کہ اللہ تعالی کی معرفت ہو اور اس سبحانہ وتعالی کے وجود کو جانا جائے، اور تاکہ اس کی عبادت کی جائے۔اس دنیا کو پیدا کیا اور مخلوقات کو تاکہ اسے اس کے اسماء وصفات، اور اس کے علم و فضل سے جانا جائے۔ اور تاکہ اس اکیلے کی بلاشرکت عبادت کی جائے اور اس سبحانہ وتعالی کی اطاعت کی جائے۔ نا محمد کے  لیے، نہ ہی نوح ، نہ موسیٰ اور نہ عیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام کے لیے اور نہ ہی ان کے علاوہ دیگر انبیاء کرام کے لیے۔بلکہ اللہ تعالی نے مخلوق کو اکیلے اس کی بلاشرکت عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ اللہ تعالی نے اس پوری دنیا اور تمام مخلوقات کو اپنی عبادت، تعظیم کے لیے اور ا س بات کے لیے کہ پیدا فرمایا کہ لوگ جان لیں کہ وہ بے شک ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور  یقیناً وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ﴾  (الذاریات: 56)

(میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہيں کیا مگر صرف اسی لیے کہ وہ میری عبادت کریں)

پس اللہ تعالی نے واضح فرمادیا کہ بے شک اس نے انہیں اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کریں،ناکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منجملہ دیگر مخلوقات کی طرح اپنے رب کی عبادت کے لیے ہی پیدا فرمائے گئے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ﴾(الحجر: 99)

(اور اپنے رب کی عبادت کرو، یہاں تک کہ تمہارے پاس یقین(موت) آجائے)

اور اللہ تعالی سورۃ الطلاق میں فرماتا ہے:

﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ   ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾ (الطلاق: 12)

(اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بےشک اللہ ہر چیز پر بھرپور قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بےشک اللہ نے یقیناً ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے)

اور اس سبحانہ وتعالی نے فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا﴾  (ص: 27)

(اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بےکارپیدا نہیں کیا)

اللہ تعالی نے مخلوق کو اس لیے تخلیق فرمایا کہ وہ اس کی عبادت کریں، انہيں حق کے لیے اور برحق پیدا فرمایا تاکہ اس کی عبادت، اطاعت اور تعظیم ہو۔ اور تاکہ جان لیا جائے کہ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کہ سب کام وہی کرتا ہے۔

چناچہ اے سائل! یہ باتیں جو آپ نے سنی ہیں محض باطل ہيں جن کی کوئی اساس نہیں۔ اللہ نے مخلوق کو، نہ جن کو، نہ انس کو، نہ ہی آسمان وزمین یا ان کے علاوہ تمام چیزوں کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیدا فرمایا، اور نہ ہی آپ کے سوا دیگر رسولوں کے لیے۔ بلکہ اس نے صرف اور صرف مخلوق کو اس لیے پیدا فرمایا یا اس دنیا کو تخلیق فرمایا کہ اس اکیلے کی بلاشرکت عبادت ہو، اور تاکہ وہ اپنے اسماء وصفات سے جانا جائے۔یہی بات حق ہے اور اسی پر دلائل دلالت کرتے ہیں۔ اگرچہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشرف الناس ہيں، تمام لوگوں میں سب سے افضل، خاتم الانبیاء اور سید ولد آدم ہیں، لیکن اللہ تعالی نے خود انہيں بھی اپنے رب کی عبادت کرنے کے لیے پیدا فرمایا، اور دیگر لوگوں کو بھی کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ انہیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیدا نہیں فرمایا، اگرچہ آپ تمام لوگوں سے افضل ہيں۔ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیں اور دوسروں تک پہنچا دیں اے سائل۔

کیونکہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ اور اس میں ایسے لوگ بھی مبتلا ہوگئے جو علم کی طرف منسوب ہوتے ہيں، جاہلوں اور غالی لوگوں میں سے، کہ جن کے پاس حقیقی علم میں سے کچھ حصہ نہيں۔ اور یہ بات عام عوام پر معاملے کو مشتبہ کردیتی ہے کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں۔ حالانکہ جو اہل علم وبصیرت ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہيں کہ یہ بات بالکل باطل ہے۔ اور اللہ تعالی نے بے شک مخلوق کو اکیلے اس کی بلاشرکت عبادت کے لیے، اور تاکہ اسے اس کے ناموں اور صفات سے جانا جائے، اور یہ کہ بے شک وہ حکیم و علیم ہے، سمیع و مجیب ہے، اور وہ علیم اور علی کل شیء قدیر ہے، اور یقیناً وہ اپنی ذات، اسماء وصفات و افعال میں کامل ہے (ان باتوں کی معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے)۔

(فتاوى نور على الدرب > المجلد الأول > كتاب العقيدة > باب ما جاء في التوحيد > بيان الحكمة من خلق الدنيا)

سوال  3 فتویٰ رقم 9886:

کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ: بے شک اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیدا فرمایا ہے، اور اس بات کا کیا معنی ہے لولاك لولاك لما خلق الأفلاك  ([2])(اگر تم نہ ہوتے! اگر تم نہ ہوتے! تو یہ کائنات بھی  نہ پیدا کی جاتی) کیا  اصلاً یہ کوئی حدیث ہے ، اور یہ صحیح ہے یا نہیں، اس کی حقیقت ہمارے لیے واضح فرمائیں؟

جواب از فتویٰ کمیٹی، سعودی عرب:

آسمان و زمین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیدا نہیں کیے گئے، بلکہ اس چیز کے لیے  پیدا کیے گئے ہیں جس کا ذکر خود اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کیا:

﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ   ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾ (الطلاق: 12)

(اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بےشک اللہ ہر چیز پر بھرپور قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بےشک اللہ نے یقیناً ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے)

البتہ جو حدیث سوال میں مذکور ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھا گیا ہے، جس کی صحت کی کوئی اساس نہيں۔

وبالله التوفيق. وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإِفتاء

عضو                        نائب رئيس اللجنة                    الرئيس

عبد الله بن غديان        عبد الرزاق عفيفي           عبد العزيز بن عبد الله بن باز

(فتاوى اللجنة الدائمة >  العقائد  >  الإيمان  >  أركان الإيمان  >  الإيمان بالأنبياء والمرسلين  >  التحذير من الغلو في الأنبياء  > س3: هل يقال: إن الله خلق السماوات والأرض لأجل خلق النبي صلى الله عليه وسلم، وما معنى (لولاك لولاك لما خلق الأفلاك) هل هذا حديث أصلًا، هل صحيح أم لا، بيّن لنا حقيقته؟)

 


[1] ہمارے یہاں بھی جاہلوں کی طرح بالکل یقینی طور پر اسے بے دریغ القاب و نعتوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:

آقائے نامدار  وجہِ وجود کائنات۔

اے کہ تیرا وجود ہے وجہِ وجود کائنات۔

تیرے لیے ہی دنیا بنی ہے نیلے گگن کی چادر سجی ہے، تو جو نہيں تھا دنیا تھی خالی ، سارے نبی تیرے در کے سوالی (نعوذ باللہ)۔

(توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] اس کے علاوہ اس کے یہ الفاظ بھی مشہور ہیں: لولاك لما خلقت الأفلاك شیخ البانی السلسلة الضعيفة280 میں فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہيں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

December 9, 2017 | الشيخ عبد العزيز بن باز, عقیدہ ومنہج, فتوی کمیٹی - سعودی عرب, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com