menu close menu

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور تھے؟ – فتوی کمیٹی، سعودی عرب

Was Rasoolullaah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Noor? – Fatwaa Committee, Saudi Arabia

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور تھے؟   

علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، سعودی عرب

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوى اللجنة الدائمة > المجموعة الأولى > المجلد الأول (العقيدة 1) > العقائد > الغلو في الرسول صلى الله عليه وسلم > الدعوى بأن رسول الله عليه الصلاة والسلام خلق من نور الله۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فتویٰ رقم 7529:

سوال: بہت سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہيں کہ تمام اشیاء نور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بنی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا نور اللہ کے نور سے بنا ہے، اوروہ یہ روایت کرتے ہيں کہ:

أنا نور الله وكل شيء من نوري

(میں اللہ کا نور ہوں، اور ہر چیز میرے نور سے ہے)

اور یہ بھی روایت کرتے ہیں:

أول ما خلق الله نور محمد صلى الله عليه وسلم

(سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالی نے پیدا کی وہ نور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی)۔

کیا ان کی کوئی اصل ہے؟

اور یہ بھی روایت کرتے ہیں:

" أنا عرب بلا عين أي رب أنا أحمد بلا ميم أي أحد

(میں بغیر ع کے عرب ہوں یعنی رب، اور بلا میم کے احمد ہوں یعنی احد)۔

پس کیا اس کی بھی کوئی اصل ہے؟

جواب:  ہم نے اس سے پہلے فتویٰ رقم 2871 میں تفصیلی جواب دیا تھا ،جس کا متن یہ ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نور من نور اللہ (اللہ کے نور میں سے نور) سے موصوف کرنے سے اگر مراد یہ ہے کہ آپ ذات کے اعتبار سے اللہ کے نور میں سے نور ہیں تو یہ قرآن مجید کے خلاف ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشریت پر دلالت کرتا ہے، اور اگر نور سے مراد  جو کچھ وحی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے کہ جو لوگوں میں سے جس کی اللہ تعالی چاہے ہدایت کا سبب ہے، تو یہ بات صحیح ہے۔ اس تعلق سے فتویٰ کمیٹی نے پہلے بھی فتویٰ صادر کیا تھا جس کا متن یہ تھا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نور ہے جو کہ نور رسالت و ہدایت ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس کی بصیرت کو چاہے ہدایت دیتا ہے۔ بلاشبہ نور رسالت و ہدایت اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ، وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ، صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ اَلَآ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ﴾  (الشوریٰ: 51-53)

(اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یایہ کہ وہ کوئی پیغامبر بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بےشک وہ بےحد بلند، کمال حکمت والا ہے، اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے ،اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں، اور بلاشبہ تم یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والے ہو، اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں)

یہ نور خاتم الاولیاء سے حاصل کردہ نہیں ہے جیسا کہ بعض ملحدوں کا خیال ہے۔ البتہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم تھا وہ تو خون، گوشت وہڈیاں وغیرہ ہی سے بنا ہوا تھا۔ ایک ماں باپ سے پیدا ہوئے، پیدائش سے پہلے آپ پیدا شدہ نہ تھے۔ یہ جو روایت کی جاتی ہے کہ سب سے پہلے  اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور  کو پیدا کیا  یا اللہ تعالی نے اپنے چہرے کے نور سے ایک مٹھی بھر ی اور وہ بھری گئی مٹھی یہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پھر اس کی طرف دیکھا تو اس سے قطرے گرے اور ہر قطرے سے ایک نبی پیدا ہوا یا پوری مخلوق کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے پیدا فرمایا۔ یہ اور اس قسم کی دیگر باتوں میں سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ بھی ثابت نہيں ہے۔

اور سابقہ فتویٰ کی روشنی میں یہ بات واضح ہوئی کہ یہ باطل عقیدہ ہے۔ اور جو یہ روایت کیا جاتا ہے:

" أنا عرب بلا عين

(میں بغیر عین کے عرب ہوں)۔

اس کی صحت کی بھی کوئی اساس نہيں۔ اور یہی حال :

" أنا أحمد بلا ميم

(میں بغیر میم کے احمد ہوں)۔

کا ہے۔

ربوبیت اور وحدانیت کی صفت  ان صفات میں سے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہیں، جائز نہيں کہ کسی مخلوق کو اس سے موصوف کیا جائے کہ وہ رب ہے نہ ہی علی الاطلاق وہ احد ہے۔ پس یہ صفات اللہ تعالی کے اختصاص میں سے ہيں۔ چناچہ ان سے رسولوں یا انسانوں میں سے کسی کو بھی موصوف نہيں کیا جاسکتا۔

وبالله التوفيق. وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإِفتاء

عضو                        عضو                       نائب رئيس اللجنة                    الرئيس

عبد الله بن قعود           عبد الله بن غديان عبد الرزاق عفيفي           عبد العزيز بن عبد الله بن باز

December 14, 2017 | توحید, عقیدہ ومنہج, فتوی کمیٹی - سعودی عرب, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com