menu close menu

کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بخشش کی دعاء طلب کی جائے؟ – مختلف علماء کرام

Requesting forgiveness from the prophet? – Various 'Ulamaa

کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بخشش کی دعاء طلب کی جائے؟

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: میراث الانبیاء ڈاٹ نیٹ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس آیت کے متعلق جو کچھ کہا گیا:

﴿وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا﴾ (النساء: 64)

(اور اگر واقعی یہ لوگ، جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، آپ کے پاس آتے، پھر اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے بخشش مانگتے تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’بعض نے اللہ تعالی کے اس فرمان:

﴿وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا﴾ (النساء: 64)

کے متعلق کہا کہ اگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کی وفات کے بعد بھی طلب کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے استغفار کریں تو ہم اسی درجے میں ہوں گے جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طلب کرتے تھے۔ حالانکہ اس طرح سے وہ  صحابہ کرام اور بطور احسن ان کی اتباع کرنے والوں اور تمام مسلمانوں کے اجماع کے خلاف جاتے ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی طلب نہيں کیا کہ وہ ان کے لیے شفاعت کریں اور نہ ہی کبھی کوئی چیز ان سے طلب کی۔نہ ہی آئمہ مسلمین میں سے کسی نے اسے اپنی کتب میں بیان کیا‘‘([1])۔

اور علامہ ابو الطیب محمد صدیق خان بن حسن بن علی ابن لطف اللہ الحسینی البخاری  القِنَّوجي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اور یہ آیت جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے پر دلالت کرتی ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات کے ساتھ خاص تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کا  یہ مطلب نہيں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر منور کے پاس اس غرض سے آیا جائے۔  اسی لیے اس بعید کے احتمال کی طرف اس امت کے سلف اور آئمہ میں سے کوئی بھی نہيں گیا نہ صحابہ نہ تابعین اور نہ جنہوں نے بطور احسن ان کی اتباع کی([2])۔

3- شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت:

﴿وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا﴾

یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے جسے اس کا ماقبل ومابعد بھی ظاہر کرتاہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات کے ساتھ خاص تھا۔ یہ بات صحیح البخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے جب فرمایا کہ ہائے میرا سر! :

’’ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ‘‘([3])

(اگر تو میرے جیتے جی فوت ہوگئی تو میں تمہارے لیے بخشش طلب کروں گا اور دعاء کروں گا )۔

اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات کے بعد بھی کسی کے لیے بخشش طلب کرتے تو پھر اس میں بات سے کوئی فرق نہيں پڑتاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے فوت ہوں یا بعد میں۔اور بعض اہل بدعت تو اس سے بھی بڑھ کر گمان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک قبر سے نکالا اور ان کے کسی پیروکار سے مصافحہ فرمایا! اس بات کے بطلان کو  یہی کافی ہےکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا جبکہ وہ اس امت کے سب سے افضل ترین لوگ تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:

’’أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ‘‘([4])

(میں بروز قیامت تمام اولاد آدم کا سید وسردار ہوں، اور وہ سب سے پہلا شخص ہوں جس کی قبر شق ہوگی، اور سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں ، اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی)۔

اور یہ قبر کا پھٹنا مرکر جی اٹھنے کے وقت ہی ہوگا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ﴾ (المؤمنون: 16)

(پھر بےشک تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے)۔

(بطلان قصتي الأعرابي والعتبي عند قبر سيد المرسلين، عبد الرحمن العميسان ص 175-176)

اسی طرح شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

جہاں تک اللہ تعالی کے اس فرمان کا تعلق ہے :

﴿وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا﴾

تو اس کا مطلب یہ نہيں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے پاس آیا جائے۔بلکہ اس سے مرادہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں آپ کے پاس آیا جائے جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا تھا۔ اسے میں نے اپنے رسالے ’’أهمية توحيد العبادة‘‘  ص 69 میں واضح کیا ہے اپنے اس قول سے کہ:

’’قبر والوں کی زیارت کی جائے اور ان کے لیے دعاء کی جائے ناکہ ان سے دعاء کی جائے۔ اور اللہ تعالی سے ان کے لیے طلب کیا جائے ناکہ خود ان سے کوئی چیز طلب کی جائے، نہ دعاء، نہ شفاعت، نہ نفع کو طلب کرنے یا ضرر کو دور کرنے کامطالبہ کیا جائے۔کیونکہ یہ تو صرف اور صرف اللہ تعالی سے طلب کیا جانا چاہیے۔ اللہ تعالی اکیلا ہے کہ جس سے دعاء کی جائے اور امیدیں رکھی جائیں، جبکہ اس کے علاوہ جو ہیں ان کے لیے دعاء کی جائے ناکہ ان سے دعاء کی جائے۔ اس کی دلیل یہ ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ سےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں طلب کرتے کہ وہ ان کے لیے دعاء فرمائيں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برزخی زندگی میں کبھی ایسا نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی طرف گئے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعاء کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں  قحط سالی ہوئی تھی تو انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بارش طلب کرنے کی دعاء کے لیے درخواست فرمائی۔ چناچہ امام البخاری نے اپنی صحیح 1010 میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت فرمائی کہ وہ کہتے ہيں کہ :

’’‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُسْقَوْنَ‘‘

(جب کبھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قحط پڑتا تو آپ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے بارش طلبی کی درخواست کرتے اور فرماتے کہ : اے اللہ! پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ لایا کرتے تھے۔ تو، تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو، تو ہم پر پانی برسا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : چنانچہ پھر خوب بارش دیے جاتے)۔

اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کی وفات کے بعد دعاء کی درخواست کرنا روا ہوتا تو کبھی بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے چھوڑ کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔

(كتاب الإيضاح والتبيين في حكم الاستغاثة بالأموات والغائبين ص 33-34)

 


[1] مجموع الفتاوی 1/159۔

[2] فتحُ البيان في مقاصد القرآن 3/166۔

[3] صحیح بخاری 5666۔

[4] صحیح مسلم 2279۔

June 16, 2017 | توحید, عقیدہ ومنہج, مختلف علماء کرام, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com