menu close menu

کیا ذرا‌ئع مواصلات کے ذریعےدروس سننے اور ان میں حاضر ہونے کے اجر میں فرق ہے؟ – شیخ محمد بن صالح العثیمین

Is there any difference between the virtue of listening Duroos online or attending them in person? – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

کیا ذرا‌ئع مواصلات کے ذریعےدروس سننے اور ان میں حاضر ہونے کے اجر میں فرق ہے؟   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ   المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

مصدر: اللقاء الشهري [61] : هل أجر سماع المحاضرات من المسجل كمن يحضر للمسجد؟ وحكم جلوس الحائض تحت درج المسجد لسماع الدرس۔

ترجمہ: طارق علی بروہی

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: سائلہ کہتی ہے: کیا خطبات، تقاریر و کانفرنسس  ومجالسِ ذکر کو ریڈیو کے ذریعے سننے پر بھی وہی اجر ملتا ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ۔۔۔آخر تک جو حدیث ہے‘‘([1])

(اور کوئی قوم جمع نہیں ہوتی اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر (مسجد) میں جہاں وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں پڑھتے پڑھاتے سنتے سناتے ہیں [تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، اور انہيں رحمت ڈھانپ لیتی ہے، اور فرشتے انہیں گھیر لیں گے، اور اللہ تعالی ان کا ذکر جو اس کے پاس  ہیں (یعنی ملأ اعلی میں فرشتوں کے سامنے) ان میں فرماتا ہے])۔

یا یہ (گھر پر سننے والا اجر) صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے؟ اور کیا عورت کو گناہ ہوگا اگر وہ حیض کی حالت میں  اندر کی طرف سے مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے  داخل ہو یا اس کی چاردیواری کے اندر آجائے تاکہ وہ دروس اور وعظ و نصیحت سن سکے؟

جواب:  سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بلاشبہ ایک شخص کو ٹیپ یا ریڈیو کے ذریعے تلاوت قرآن سننے پر اجر ملتا ہے، اور اسی طرح سے مفید وعظ و نصیحت، درو س و کانفرنسس ریڈیو یا ٹیپ (یا انٹرنیٹ) کے ذریعے سننے سے اجر ملتا ہے۔

اور میں یہ کہتا ہوں کہ: بے شک یہ ریکارڈ کرنے والے آلات اللہ کی اپنے بندوں  پر نعمتوں میں سے ہے  کہ  جو کہی ہوئی بات کو ریکارڈ کرکے قریب و بعید پہنچا دیتے ہیں۔یہ واقعی اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ہے لیکن کیا یہ اس مجلس میں حاضر ہوکر قرآن پڑھنے پڑھانے والوں جیسا اجر پاسکتے ہيں؟  تو ایسا نہيں۔ (اس کی مثال) اسی لیے اگر ہم  لاؤڈ اسپیکر کے سامنے ایک ٹیپ ریکارڈ رکھ دیں جو کسی مؤذن کی جگہ اذان چلائے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ یہ اذان کی ایک نقل (ریکارڈنگ) ہے ناکہ حقیقی اذان۔

اور جہاں تک حائضہ عورت کے مسجد میں داخل ہونے کا سوال ہے تو اس کے لیے جائز نہيں الا یہ کہ وہ اس میں سے فقط گزر رہی ہو۔ اور مسجد وہ سارا احاطہ ہے  جو اس کی چار دیواری میں ہے، چاہے وہ سیڑھیاں ہو یا  صحن، تو یہاں رکنا جائز نہيں۔ الحمدللہ اب تو ایسی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ وہ کیسٹ کے ذریعے بعد میں سن سکتی ہے یا مینار پر لگے لاؤڈ اسپیکر سے(بلکہ اب تو براہ راست بھی دروس نشر ہوتے ہیں)۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو اپنے اوقات کو غنیمت جان کر اعمال صالحہ کرنے کی توفیق دے، اور ہمارا اور آپ کا انجام و خاتمہ بالخیر فرمائے۔ بے شک وہ ہر چیز  پر قادر ہے۔

سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك.

 


[1] صحیح مسلم 2702۔

April 20, 2018 | الشيخ محمد بن صالح العثيمين, عقیدہ ومنہج, متفرقات, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com