menu close menu

کیا حکمرانوں پر خروج صرف تلوار کے ذریعے ہوتا ہے؟ – مختلف علماء کرام

Is the rebellion against rulers limited with the sword only? – Various 'Ulamaa

کیا حکمرانوں پر خروج صرف تلوار کے ذریعے ہوتا ہے؟     

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

خارجیوں کا بانی اور سب سے پہلے خارجی ذوالخویصرہ التمیمی نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مال غنیمت کی تقسیم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہا تھا کہ:

’’اتقِ اللهَ يا محمد‘‘([1])

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ سے ڈریں)۔

 

اور ایک روایت میں ہے:

’’اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ‘‘([2])

(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! عدل کیجئے)۔

 

آخر اس نے کس چیز کے ساتھ خروج کیا؟ یا پھر وہ خارجی نہیں تھا؟!

 

اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف  خارجی کہا بلکہ اپنے سے بعد میں آنے والے خارجیوں کا امام قرار دیا اور فرمایا:

’’إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ القُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ‘‘([3])

(بے شک اس کی پشت سے ایسی قوم نکلے گی جو یوں قرآن مجید پڑھیں گے کہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جبکہ اہل اوثان کو چھوڑ دیں گے۔ اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار کے آر پار ہوجاتاہے۔ اگر میں انہيں پالوں گا تو ضرور قوم عاد کی طرح قتل کردوں گا)۔

 

حالانکہ اس ذوالخویصرہ نے نہ تلوار اٹھائی نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف قتال کیا۔

 

یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’إِنَّ أَوَّلَ نِفَاقِ الْمَرْءِ طَعْنُهُ عَلَى إِمَامِهِ‘‘([4])

(بلاشبہ کسی شخص کے نفاق کی ابتداء اس کے اپنے حکمران پر طعن سے شروع ہوتی ہے)۔

 

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے سوال ہوا:

سوال: کیا حاکم پر قول کے ذریعے خروج  کرنا تلوار کے ذریعے خروج کرنے کے بالکل برابر ہے؟ حاکم پر خروج کا کیا حکم ہے؟

جواب: قول کے ذریعے حاکم پر خروج تو کبھی تلوار سے بھی بڑھ کر شدید ہوتا ہے۔ بلکہ تلوار کے ذریعے خروج  اسی قول کے ذریعے خروج کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ قول کے ذریعے خروج نہایت ہی خطرناک ہے۔  کسی انسان کے لیے جائز نہيں کہ لوگوں کو حکمرانوں کے خلاف بھڑکائے، اور لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے حکام کے خلاف بغض بھرنے کی کوشش کرے، کیونکہ یہی سبب بنتا ہے بعد میں ان کے خلاف اسلحہ اٹھانے اور قتال کرنے کا۔  اور یہ تلوار کے ذریعے خروج کرنے سے زیادہ شدید ہے کیونکہ یہ عقیدے کو خراب کرتا ہے، اور لوگوں کے مابین منافرت پیدا کرتا ہے، اور باہمی دشمنی کا بیج بوتا ہے،  اور کبھی تو یہ ہتھیار تک اٹھانے کا سبب بن جاتاہے([5])۔

علماء کرام کے مزید کلام کے لیے مکمل مقالے پڑھیں ۔ ۔ ۔

 

 


[1] البخاري (3344)، ومسلم (1064)۔

 

 

[2] سنن ابن منصور (2902)، وابن ماجه (172)۔

 

 

[3] متفق عليه، واللفظ لمسلم (1064)۔

 

 

[4] شعب الایمان للبیہقی 9076، التمھید لابن عبدالبر 21/287۔

 

 

[5] الموقع الرسمي للشيخ، مادة بعنوان: (الخروج على الحاكم بالقول أخطر من الخروج عليه بالسيف)۔

 

 

February 23, 2016 | الإمام أحمد بن حنبل, الامام ابن القیم الجوزیہ, الامام بخاری, الشيخ ربيع المدخلي, الشيخ صالح بن فوزان الفوزان, الشيخ عبد العزيز بن باز, الشيخ محمد بن صالح العثيمين, الشیخ احمد بن یحیی النجمی, الشیخ صالح آل الشیخ, الشیخ عبدالعزیز الراجحی, امام ابو بکر الاسماعیلی, امام ابو عثمان اسماعیل الصابونی, امام ابو محمد الحسین البغوی, امام ابو نعیم الاصفہانی, امام جلال الدین السیوطی, امام حسن بن علی البربہاری, امام عبداللہ بن احمد بن حنبل, امام فضیل بن عیاض, امام یحیی بن شرف النووی, حافظ ابن حجر العسقلانی, شيخ الاسلام ابن تيمية, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com