menu close menu

کیا حکام کے بگڑنے پر علماء کو اپنا امیر بنایا جاسکتا ہے؟ – شیخ محمد بن عمر بازمول

Can we appoint a scholar as an Ameer if there's a corrupt Muslim ruler? – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

کیا حکام کے بگڑنے پر علماء کو اپنا امیر بنایا جاسکتا ہے؟   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: علمني ديني 39 – على جدران الفيسبوك، الإصدار الثاني۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مسلمانوں میں یہ طبقات پائے جاتے ہيں:

1- حکمران۔

2- علماء۔

3- عوام۔

اور عام مسلمانوں کو یعنی علماء و عوام کو چاہیے کہ وہ (جماعت کے امیر بننے کے بجائے عام شہری بن کر رہیں اور):

1- اپنے حکمرانوں کے ساتھ حسن ظن رکھیں۔

2- ان پر صبر کریں۔

3- ان کا جو دائرہ کار ہے اس میں وہ ان سے تنازع نہ کریں۔

4-  اور وہ معصیت الہی کے علاوہ جو حکم دیں ان کی سنیں اور اطاعت کریں ۔

5- اگر وہ (حکام) خود نافرمان گنہگار ہوں تو بھی ہم ان کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچیں۔

البخاری نے نے کتاب الاحکام، باب: کیف یبایع الامام الناس، حدیث رقم 7199 اور مسلم نے کتاب الامارۃ، باب: وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ، حدیث رقم 1709 میں روایت کیا اور یہ لفظ البخاری کے ہيں کہ:

بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ

(ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم (حکام کی) سنیں گے اور اطاعت کریں گے  چستی کی حالت میں بھی اور ناچاہتے ہوئے بھی، اور ہم (حکومت کے) اہل سے ان کے دائرہ کار کے بارے میں تنازع نہيں کریں گے، اور حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا حق بات کہیں گے جہاں کہیں بھی ہم ہوں، اور کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہيں کریں گے)۔

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ، فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ‘‘

(تمہارے بہتر ین آئمہ (حکام) وہ ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ تم کو پسند کرتے ہیں۔ وہ تمہارے لیے دعاء کرتے ہیں اور تم ان کے لیے دعاء کرتے ہو، اور تمہارے بدترین حاکم وہ ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ تم کو ناپسند کرتے ہیں، تم ان پر لعن طعن کرتے ہو اور وہ تم پر لعن طعن کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حاکموں کو تلوار ےسے نہ دفع کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حاکموں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو دل سے اس  کے عمل کو برا جانو لیکن ان کی اطاعت سے ہاتھ مت کھینچو)۔

اور ایک روایت میں ہے:

’’خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ، قَالُوا: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟، قَالَ: لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ۔ أَلَا مَنْ وَلِيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ ‘‘([1])

(تمہارے بہتر ین امام وہ ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ تم کو پسند کرتے ہیں ۔ تم ان کے لیے دعائیں کرتے ہو وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے ہیں، اور تمہارے بدترین حاکم وہ ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تم کو ناپسند کرتے ہیں تم ان پر لعن طعن کرتے ہو اور وہ تم پر لعن طعن کرتے ہیں۔  ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ کرنے پر ہم ایسے حکمرانوں کا تختہ نہ الٹ دیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں جب تک وہ تمہارے میں نماز قائم کیے رکھیں، نہیں جب تک وہ تمہارے میں نماز قائم کیے رکھیں۔ خبردار یاد رکھو جب کسی پر کوئی حاکم ہو پھر وہ اسے دیکھے کہ وہ کسی معصیت الہی کا مرتکب ہوا ہے تو اس  معصیت الہی کو برا جانے لیکن ہرگز بھی اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے)۔

 


[1] اخرجہ مسلم فی کتاب الامارۃ، باب خیار الائمۃ وشرارھم، حدیث رقم 1855۔

 

April 9, 2018 | الشيخ محمد بن عمر بازمول, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com