menu close menu

کیا حزبیت کے رد سے تفرقہ ہوتا ہے؟! – شیخ احمد بن یحیی النجمی

Does refuting Hizbiyyah split the 'Ummah?! – Shaykh Ahmed bin Yahyaa An-Najmee

 

کیا حزبیت کے رد سے تفرقہ ہوتا ہے؟!

فضیلۃ الشیخ احمد بن یحیی النجمی رحمہ اللہ  المتوفی سن 1429ھ

(سابق مفتی جنوبی سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الفتاوى الجلية عن المناهج الدعوية۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: فضیلۃ الشیخ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے۔ کیا آپ مسلمان بھائیوں کو سلفی منہج سے دور حزبی دعوتوں میں داخل ہونے سے خبردار کرنے کے متعلق کوئی مفید نصیحت کریں گے۔ اور آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے رد اور خبردار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کے کلمے کو متفرق اور ان کے اتحادکوپارہ پارہ کرتے ہیں۔ جزاکم اللہ خیراً؟

 

جواب: مسلمانوں کے کلمے کی تفریق اور اتحاد کا پارہ پارہ ہونا تو خود حزبی دعوتوں کا شاخسانہ ہے۔ جبکہ سلفی تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف بلاتے ہیں نہ کہ تفرقے اور اتحاد کو توڑنے کی طرف۔ وہ تو اسی طرف دعوت دیتے ہیں جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت دی یعنی توحید، نماز، روزہ اور ہر اطاعت الہی پر مبنی تمام اعمال۔ لیکن یہ حزبی لوگ عجیب وغریب باتیں لے کر آتے ہيں جن کی طرف دعوتیں دیتے ہیں انہيں آپ پائیں گے کہ نوافل ادا کرنے میں بہت زیادہ محنت کررہے ہوں گے جو کہ واجب نہيں اور دوسری طرف ان عقائد تک کو ترک کیا ہوگا جن کے بغیر بندے کا اسلام ہی صحیح نہیں ہوتا۔ توحید کو لے لیں اس میں سستی کرتے ہیں۔ اورشرک کے بارے میں کہتےہيں یہ تو قدیم زمانے کا شرک ہے جس کا تم رد کرتے ہو (یعنی ’’شرک القبور‘‘ قبرپرستی وغیرہ)اور جو کوئی ان کے مطابق شرکیات (جیسے ان کے گمان میں ’’شرک القصور‘‘حکام کے محلات کا شرک وغیرہ) بیان کرتا ہے اسے کہتے ہیں یہ موجودہ اور نئے زمانے کے مطابق بات کرتا ہے۔ سبحان اللہ العظیم یہ کیا ہے؟!۔

پس ہم سب پر واجب ہے کہ ہم کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب رجوع کریں۔ اور اس بات کو لیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے اور اسے بھی جو کچھ سلف صالحین سے ہمیں ملے۔ جن میں سرفہرست خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جب امت کے تفرقے والی حدیث بیان کی کہ:

’’وستفترق هذه الأمة على ثلاث وسبعين فرقة كلها في النار إلا واحدة ۔ قالوا : من هم يا رسول الله ؟ قال: هم الذين على مثل ما أنا عليه وأصحابي‘‘([1])

(اور عنقریب یہ امت بھی تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جو سب کے سب جہنم میں جائیں کے سوائے ایک کے۔ تو پوچھا گیا: وہ  ایک کون ہوں گے؟  تو فرمایا: وہ جو اس چیز پر ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں)۔

 

ہم کیسے ان لوگوں میں سے ہوسکتے ہیں جو اس چیز پر ہوں جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے، الا یہ کہ ہم حدیث اور آثار کی معرفت حاصل کریں۔  اسی طرح سے کتب حدیث وکتب آثار پڑھ کر ہی آپ ان جیسے ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ان حزبیوں کا جو عمل ہے وہ باطل ہے، اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور ان کا عمل گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور انہیں ہدایت دے۔ بعض سلف نے فرمایا:

’’من أخفى عنا عقيدتهم لم تخف عنا ألفته‘‘

(جو کوئی ہم سے اپنا عقیدہ چھپا بھی لے گا وہ اپنی الفت ودوستیاں تو ہم سے نہیں چھپا سکتا)۔

یعنی اگر کوئی جماعت اپنا عقیدہ چھپائے لیکن ہم دیکھیں کہ وہ حزبیوں کے پاس آتاجاتا ہے میل ملاپ رکھتا ہے توظاہر ہے وہ بھی انہی جیسا حزبی ہی ہے، اسی لیے شاعر کہتا ہے:

قياس النعل بالنعـل                    إذا ما هو حاذاه

وللشيء على الشـيء                 مـقايـيـس وأشـبـاه

وللقلب على القلب                  دليل حين يلقـــاه

 

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہر ایک کو توفیق دے۔اور ہم نہیں دعوت دیتے مگر صرف کتاب اللہ  اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جس چیز پر سلف صالحین تھے اس کی طرف۔ ان کے سوا ہم کسی طرف دعوت نہيں دیتے۔  اورہم تمام لوگوں سے کہتے ہيں کہ ہم سب پر واجب ہے کہ ہم سب سے پہلے توحید سے شروع کریں اس کی طرف دعوت دیں، اور ہماری دعوت کی اساس توحید ہی ہو، اور ہم اصول دین وقواعد پر خاص عنایت وتوجہ دیں اور ان امور پر بھی جو نوافل کے زمرے میں آتے ہیں کوئی حرج نہيں کہ ہم ان پر بھی عمل کریں لیکن اصول کے پختہ ہوجانے کے بعد۔ مگر حالت یہ ہو کہ ہم اجتماعی روزہ، اجتماعی قیام وغیرہ وغیرہ کی دعوت دیں اور شریعت میں وہ چیزیں داخل کردیں جو اس میں سے نہیں جبکہ دوسری طرف جو شریعت میں واجب ہے اس کی دعوت نہ دیں تو یہ غلطی ہے، اور یہ جائز نہیں۔ یہ تو ایسی خودساختہ شریعت سازی ہے جس کے لیے اللہ تعالی نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ پس ہمیں اپنے رب اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے اور اس کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی جانب لوٹنا چاہیے۔ یہی خیر ہے۔ جو کو‏ئی ایسی چیز کو واجب کرتا ہے جو  شرعی حکم کے اعتبار سے واجب نہيں تو وہ ایسی شریعت سازی کرتا ہے جو اللہ تعالی نے نہیں فرمائی اور اس آیت کے عموم میں داخل ہے:

﴿اَمْ لَهُمْ شُرَكٰؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللهُ﴾ (الشوری: 21)

(کیا ان لوگوں کےایسے شریک ہیں جنہوں نے دین میں سے ایسی شریعت ان کے لیے  مقرر کر دی ہےجس کی اجازت اللہ تعالی نے نہیں دی

 


[1] صحیح ترمذی  2461 کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي‘‘ (میری امت پر بھی وہی حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جیسا کہ ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے،یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے  اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدکاری کی ہوگی تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا ہوگا جو ایسی حرکت کرجائے گا۔ اور بے شک بنی اسرائیل بہتّرملتوں میں متفرق ہوگئے تھے اور میری یہ امت تہتّر ملتوں میں تقسیم ہوجائے گی جو سب کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی وہ ایک (نجات پانے والی) کونسی ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز پر میں ہوں اور میرے صحابہ)۔ (توحید خالص ڈام کام)

March 5, 2016 | الشیخ احمد بن یحیی النجمی, عقیدہ ومنہج, گمراہ فرقے, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com