menu close menu

کیا حزبیت اور فکر خوارج لازم وملزوم ہے؟ – شیخ ربیع بن ہادی المدخلی

Is the Hizbiyyah and Khariji ideology correlated? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

کیا حزبیت اور فکر خوارج لازم وملزوم ہے

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: فتاوى في العقيدة والمنهج الحلقة الثانية۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا حزبیت او رفکر خوارج لازم وملزوم ہیں؟

جواب: ضروری نہيں ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، کیونکہ ہوسکتا ہے حزبی خرافی ہو اور کسی گمراہ جماعت کے لیے تحزب اختیار کررکھا ہو جیسے صوفی طرق تیجانیہ، مرغانیہ، سہروردی، تبلیغی ، لہذا یہ لازم وملزوم نہیں۔ البتہ بالکل ہوسکتا ہے ایسا حزبی ہو جو خارجی بھی ہو، اور ہوسکتا ہے وہ خوارج کے افکار رکھتا ہو۔ اب یہ جو خوارج کی سوچ رکھنے والا حزبی ہے یہ خارجی ہوگا، اور جو مرجئہ کی سوچ رکھنے والا ہوگا تو وہ مرجئی ہوگا۔ اسی طرح سے اگر جہمیہ کی سوچ رکھنے والا ہوگا تو جہمی ہوگا۔ کیونکہ حزبیت کی شرط میں سے نہیں ہے کہ لازما ًکوئی تنظیم ہو، اللہ تعالی کا فرمان دیکھیں:

﴿كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ﴾   (غافر: 5)

(ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد بھی کئی احزاب نے)

اسی طرح سے جو یوم الاحزاب وغزوۂ احزاب میں مختلف احزاب آئے تھے تو وہ مختلف فرقے وگروہ تھے جو یہاں وہاں سے آئے تھے وہ ایک جماعت نہيں تھے، مختلف قبائل تھے تو انہیں بھی احزاب کہا گیا حالانکہ وہ ایک نظم کے تحت نہيں تھے۔

آج یہ لوگ تحزب کے لیے شرط بیان کرتے ہيں کہ کوئی تنظیم ہو (یعنی ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ: آپ مجھے کیسے حزبی سمجھتے ہيں جبکہ میرا تعلق کسی تنظیم سے نہيں؟!) یہ نرا جھوٹ ہے، تحزب تو بس باطل کے لیے ہوتا ہے، اگر کوئی باطل کے لیے تحزب اختیار کرے یا کسی شخصیت کے لیے اس کے باطل پر ہونے کے باوجود تو وہ حزبی ہی ہے۔

جی ہاں ایک حزب اللہ (اللہ کا حزب ، اللہ کا گروہ اور جماعت) بھی ہے اور ہر مومن اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ بلاشبہ حزبی ہے ان معنوں میں کہ اس کی حزبیت اللہ تعالی کے لیے ہے، وہ اس کے حزب میں سے ہے۔ لیکن آج یہ کہتے ہيں کہ: سلفی بھی حزبیت اختیار کرنے والے ہیں (یعنی سلفیت بھی تو حزبیت ہے) تو ہم کہتے ہیں، جی ہاں، تحزب ہے اللہ کی قسم! لیکن حق کے لیے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے، یہ تو عظیم شرف ہے کہ جو اللہ تعالی ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اور اس کے دین کے لیے تحزب اختیار کرتا ہے (یعنی ان کے حزب میں سے ہوتا ہے)، اس کے لیے جہاد کرتا اور قربانیاں دیتا ہے اور اپنی جان مال اور جو بھی امکانیات ہیں وہ سب پیش کردیتا ہے اس دین حق کے دفاع میں، یہ حق کے لیے تحزب کہلاتا ہے۔

حق کے لیے تحزب اور اسے نشر کرنا اور اس کی خاطر اپنی جان اور مال لٹا دینا، یہ تو بڑی شرف کی بات ہے۔ لہذا اب جب یہ لوگ دیکھتے ہيں کہ سلفی مجتمع ہيں اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے تو کہنے لگتے ہیں: دیکھو یہ لوگ بھی متحزب اور حزبی ہیں! یہ تو اپنے عیب کو قدرے ہلکا تصور کروانے کی ایک چال ہے او ربالکل فضول کلام ہے۔

تحزب یا تو باطل کے لیے ہوتا ہے تو وہ حزب الشیطان ہے یا پھر حق کے لیے ہوتا ہے تو وہ حزب الرحمٰن ہے۔ یا تو اللہ تعالی، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کی کتاب کے لیے متحزب ہوگا اور ان کا دفاع کرتا ہوگا، یہ تو کیا ہی خوب حزب ہے! ایسا شخص تو انبیاء، صدیقین، شہداء ، اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ ہدایت رحمہم اللہ کے ساتھ ہوگا۔ یہ حزب اللہ ہیں اور شیطان کے احزاب یہی اہل بدعت وگمراہی وکفر وزندقیت ہیں۔

بہرحال اس میں لازم وملزوم والی بات نہيں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ حزبی کسی تصوف کے سلسلے کے لیے تحزب کرتا ہو اور کتنے ہی زیادہ ہیں صوفیوں کے طرق وسلاسل، ممکن ہے ان کی تعداد سو تک پہنچ جائے، پس اگر وہ ان طرق میں سے کسی طریقے کے لیے تحزب اختیار کرتا ہے تو وہ ہلاکت میں پڑنے والا حزبی ہے۔ اگر وہ اخوان المسلمین کے لیے تحزب کرتا ہے تو وہ بھی ہلاکت میں پڑنے والا حزبی ہے۔ اگر وہ قطبیوں کے لیے تحزب کرتا ہے تو وہ بھی ہلاکت میں پڑنے والا حزبی ہے۔ ہوسکتا ہے ان میں سے بعض میں خوارج کی فکر بھی سرایت کرجائے مگر ایسا بھی ممکن ہے کہ ان میں سے بعض میں نہ کرے، لیکن بہرحال وہ مذموم تحزب کا شکار حزبی ہے جب تک وہ صراط مستقیم کا التزام نہيں کرتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ، وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ، ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ (الانعام:153)

(بلاشبہ یہ میری  سیدھی راہ ہے اسی کی پیروی کرو، اس کے علاوہ دیگر راہوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اس (اللہ)  کی راہ سے جدا کر دیں گی،اسی کی تمہیں وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم بچ جاؤ )

پس جو صراط مستقیم پر چل رہا ہے تو یہی شخص ہدایت پر ہے اور یہی حزب اللہ میں سے ہے۔ اور جو ان راستوں میں سے کسی راہ پر چل رہا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت کی شرح کرتے ہوئے فرمایا:

’’هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ‘‘([1])

(یہ مختلف راہیں ہیں  اور ہر راہ پر ایک شیطان بیٹھا اپنی طرف بلا رہا ہے )۔

پس یہ لوگ شیطانی راہوں پر ہیں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ (الانعام: 159)

(بے شک جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ کیا اور مختلف جماعتیں بن گئے آپ کا ان سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، ان کا معاملہ تو اللہ تعالی کے پاس ہے پھر وہ انہیں جتا دے گا جو حرکتیں وہ کیا کرتے تھے)

﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ، وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ﴾ (الروم: 31-32)

(اور نماز قائم کرو ،اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ،ان (مشرکوں ) میں سے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ کیا اور مختلف گروہ بن گئے ،ہر حزب اسی چیز پر خوش  ومگن ہے جو اس کے پاس ہے)

اللہ تعالی نے ان شیعہ (یعنی گروہوں) کو احزاب قرار دیا۔ یا تو وہ باطل کے لیے ہوگا تو وہ حزب الشیطان ہےیعنی منظم تنظیم ہو یا نظم کے بغیرہو، جب تک وہ باطل پر ہیں تو وہ برے احزاب او رشر پسند احزاب ہيں اور شیطانی راہوں پر گامزن ہيں۔

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنی خبر لے، ہوسکتا ہے کوئی ایسا شخص غلطی کرجائے جو سلفیت کا دعویدار ہو تو آپ اس کے لیے تحزب اختیار کرلیں (یہ ٹھیک نہيں)، ایسے لوگ حزب الشیطان میں سے ہيں جو اپنی اللہ تعالی کے لیے حزبیت اختیار کرنے سے نکل گئے، ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی سلفیت کا دعویٰ کرنے والا بھی ہو لیکن وہ گمراہی میں مبتلا ہے  تو اس کے لیے اہل باطل تحزب اختیار کرنے لگتے ہيں، صدافسوس کے ایسے لوگ سلفیت تک کا دعویٰ کرتے ہيں! یہ تو شیطان کے احزاب میں سے ہیں اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ " نے اس قسم کے لوگوں کو تتاریوں سے تشبیہ دی ہے۔

پس ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کے لیے خالص ہوجائے اور انصاف کے ساتھ اللہ تعالی کی خاطر حق بات کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونے والوں میں سے ہوجائے ورنہ وہ شیطان کے احزا ب کی طرف ہی نکل سکتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ﴾ (النساء: 135)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، خواہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو)

لہذا ایک مسلمان انصاف کے لیے پوری طرح قائم ہوتا ہے، اپنے آپ تک پر گواہ ہوتا ہے کہ بے شک وہ باطل پر ہے اگر اس سے باطل سرزد ہوجائے، اگر اس سے غلطی سرزد ہوجائے تو غلطی پر، اگر اس سے ظلم ہوجائے تو ظلم پر، اپنے آپ تک پر گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ اس سے غلطی ہوگئی اور حق سے دوری ہوگئی، اور وہ اس کا اعلان کرتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہيں کرتا، اگر وہ ایسا نہ کرے تو صدافسوس عنقریب وہ اللہ تعالی کے حق میں خیانت کرنے والوں میں شمار ہوگا، ان لوگوں میں شمار ہونے سے دور ہوگا جو اللہ رب العالمین کے لیے انصاف پر پوری طرح سے قائم رہتےہیں۔ اسی طرح سے اگر اس کا اپنا بیٹا، بھائی یا والد غلطی پر ہیں تو ان کی غلطی کی وضاحت کرتا ہے کیونکہ بے شک یہ اللہ عزوجل کا دین ہے کوئی اہواء پرستی نہيں ہے۔

 


[1] رواه أحمد فى "مسنده" مسند ابن مسعود، حديث رقم (2697)۔

 

January 19, 2017 | الشيخ ربيع المدخلي, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com