menu close menu

کيا عوام کو خبردار کرنے کے لئے اہل بدعت کی باقاعدہ نام لے کر نشان دہی کرنا جائز ہے؟ – شیخ عبید بن عبداللہ الجابری

Is it permissible to specially take the names of  innovators to warn people? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

کيا عوام کو خبردار کرنے کے لئے اہل بدعت کی باقاعدہ  نام لے کر نشان دہی کرنا جائز ہے؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: عمر طارق

مصدر: الأجوبة الجابرية على الأسئلة العراقية۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کيا عوام کو خبردار کرنے کے لئے اہل بدعت کی باقاعدہ  نام لے کر نشان دہی کرنا جائز ہے جيسے محمد حسان اور طارق سويدان وغيرہ؟

ج: جی ہاں، اگر ان کے فتنے سے ڈر ہو تو بلکل۔ سلف اپنے چهوٹے بچوں تک کو خوارج اور ديگر اہل بدعت سے ڈرايا کرتے تهے، خاص طور پر اگر ان کے افکار اس شہر يا علاقہ تک پہنچ جائيں، اور ان سے فتنے کا خدشہ ہو تو ان سے خبردار کيا جائے گا۔ البتہ اگر لوگوں کو ان اشخاص کا پتہ ہی نا ہو، اور نا ہی ان کے افکار آپ کے شہر يا علاقہ تک پہنچے ہوں تو  ايسی صورت ميں ان کے ناموں کے ذکر کو رہنے دیا جائے۔

سائل: يا شيخ اگر ان کے نام لے کر نشان دہی کرنے سے مفاسد مرتب ہوں تو ايسی صورت ميں عوام کو ان سے کيسے خبردار کيا جائے؟

شیخ: ممکن ہے کہ ہم يہ کہيں کہ فلان شخص تکفيری ہے، يا فلان شخص خوارج کی رائے رکهتا ہے، ہم حق کو کھلم کهلا بيان کريں، يا ہم يہ کہيں کہ فلان شخص ايسی بدعت کا حامل ہے جو تکفير تک لے جانے والی ہے اور ہم اس بات کو بيان کريں۔ ليکن اگر عوام کی طرف سے اس بات کا خدشہ ہو کہ وہ دعوت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے يا فاجر حکام کو اس کے خلاف (اکسانے کے لیے) شکایت کریں گے تو پهر ان لوگوں کو چهوڑ ديا جائے اور صرف اس بدعت کے رد پر اکتفا کيا جائے۔ 

August 9, 2017 | الشيخ عبيد الجابري, شخصیات کا رد, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

www.tawheedekhaalis.com

www.tawheedekhaalis.com