menu close menu

کسی پر موت، جہنم اور عذاب قبر کا ذکر بے اثر ہونا – شیخ محمد بن ہادی المدخلی

If the mentioning of death, Hell-fire and the punishment in grave don't effect upon someone – Shaykh Muhammad bin Hadee Al-Madkhalee

کسی پر موت، جہنم اور عذاب قبر کا ذکر بے اثر ہونا   

فضیلۃ الشیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(رکن تعلیمی کمیٹی، کلیۃ حدیث شریف ودراسات اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء (سلسلة أنا أسأل والشرع يجيب – 49)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: سائل کہتا ہے کہ جب میں موت، جہنم کی آگ اور عذاب قبر کو یاد کرتا ہوں تو یہ میرے دل پر کوئی اثر انداز نہيں ہوتے، کیا آپ میرے لیے کوئی نصیحت فرمائيں گے؟

جواب: نصیحت یہی ہے کہ وہ اسباب تلاش کریں جو آپ کے دل کے مرض کا سبب بنے ہيں، انہیں ڈھونڈیں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں:

’’كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا‘‘([1])

(موت سب سے بہترین واعظ ہونے کو کافی ہے)۔

جب جہنم کی آگ کا ذکر ہوتا ہے تو بڑے بڑے جابر لوگوں کے دل دہل جاتے ہيں، اور  جب موت کا ذکر ہوتا ہے تب بھی بڑے بڑے جابر لوگوں کے دل دہل جاتے ہیں، اسی طرح سے جب عذاب قبر کا ذکر ہوتا ہے تب بھی  بڑے بڑے جابر لوگوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ اثر اور تاثیر وقتی طور پر ہوتی ہے، لیکن بہرحال ہوتی ہے۔

لہذا اگر یہ آپ کو حاصل نہیں ہوتی تو اے سائل ان اسباب کی کھوج کرو جو اس تاثیر میں مانع ہیں۔ میرا نہيں خیال کے موت ، عذاب قبر  اورآتش جہنم  کے ذکر  سےبڑھ کر کوئی چیز کسی بندے کے دل پر اثر کر سکتی ہے، اگر واقعی اس کا دل زندہ ہو تو۔

 


[1] شعب الایمان للبیہقی 10556، ضعیف الترغیب والترہیب  1951 میں شیخ البانی نے اسے ’’ضعیف جدا ً‘‘کہا ہے۔

February 2, 2017 | الشیخ محمد بن ہادی المدخلی, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com