menu close menu

کسی سلفی وغیرہ کے غلطی میں واقع ہوجانے پر معالجے کے مراحل – شیخ محمد بن عمر بازمول

Stages of treatment when dealing with the mistakes of a Salafee or other then him – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

کسی سلفی وغیرہ کے غلطی میں واقع ہوجانے پر معالجے کے مراحل

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: على الجدران الفيسبوك الإصدار الثاني (في المنهج) خطوات معالجة الخطاء الذي يقع فيه السلفي وغيره۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پہلا مرحلہ:

اس حقیقت کا اعتراف کرنا کہ بے شک تمام بنی آدم خطاءکار ہیں اور بہترین خطاء کار وہ ہیں جو توبہ کریں۔  یہ پہلا مرحلہ ہے اس غلطی کے تعلق سے جس میں کوئی سلفی یا لوگوں میں سے اس کے علاوہ کوئی مبتلا ہوا ہو۔

دوسرا مرحلہ:

اس مسئلے کی طرف ہم دیکھیں گے جس میں وہ شخص واقع ہوا ہے۔ کیا وہ اجتہادی مسائل میں سے ہے؟ یا ان مسائل میں سے ہے کہ جس میں دلیل بالکل ایسے ظاہر ہوتی ہے کہ اس دلیل کی طرف پھرنا لازمی ہوجاتا ہے؟

ا س کے لیے ایک طالب علم یا عالم کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اس کے پاس اس بھائی کے مسئلے کو لے جائيں اور ان سے کہیں: فلاں نے غلطی کی ہے یا شیخ، ہم اس سے کیا معاملہ کریں، اور اس کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کریں؟

کیونکہ  یہ ممکن ہے کہ وہ بھائی جس غلطی میں مبتلا ہوا ہو وہ اجتہادی مسائل میں سے ہو، اور ان مسائل میں سے نہ ہو کہ جن میں دلیل جس بات پر دلالت کرتی ہے اس کی طرف پھرنا لازم ہوجاتا ہے۔

پس اگر وہ اجتہادی مسئلے میں مخالفت کرتا ہے تو ہمارا اس سے معاملہ وہ نہیں ہوگا  جو  اس مسئلے کی مخالفت میں ہوتا جس میں ایسی دلیل ظاہر ہوتی ہے کہ جس کی طرف پھرنا لازمی ہوجاتا ہے۔

مثال کے طور پر وہ ہماری مخالفت کرتا ہے رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے میں، یعنی وہ باندھتا ہے او رہم نہيں باندھتے، یا ہم باندھتے ہيں اور وہ نہیں باندھتا، تو یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔

اسی طرح سے مومن کے ازار(تہبند یعنی پائنچوں) کو نصف پنڈلی تک رکھنے کا مسئلہ ہے۔ تو وہ اپنے ازار کو نصف پنڈلی تک رکھتا ہے، اور ہمارا کہنا یہ ہو جیسا کہ حدیث میں ہے:

إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ،‏‏‏‏ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ،‏‏‏‏ وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ ([1](

(مومن کا ازار (تہبند) اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان (کسی بھی جگہ تک) رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ( حصہ )جہنم میں ہو گا)۔

تو وہ ہماری مخالفت کرتا ہے کہ ہم ٹخنوں تک پہنتے ہیں اور وہ نصف پنڈلی تک۔

اسی طرح سے اختلاف عمامہ پہننے میں ہوسکتا ہے۔ پس ہم عمامہ پہننے کے قائل نہ ہوں بلکہ خمار(رومال) پہننے کے قائل ہوں جسے ہم الغترۃ اور الشماغ کہتےہیں یا اس جیسے دیگر مسائل جن میں متعدد نکتۂ نظر ہوسکتے ہيں۔اور ان میں وہ دلائل نہيں ہوتے کہ جن کی جانب پھرنا لازمی ہوتا ہے،  یا جو کسی ایک قول کا متعین کردیتے ہيں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تارک نماز کو مطلق کافر سمجھتا ہو، اور ہم اس بات کے قائل ہوں کہ تارک نماز اگر سستی و کاہلی سے  نماز چھوڑتا ہے تو کافر نہیں ہوتا، لیکن اگر ا س کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے چھوڑتا ہے تو کافر ہوجاتا ہے، پس ہم جمہور کے طریقے کے مطابق تفصیل کرتے ہوں۔

تو جائز نہیں کہ تنازع ہو اس قسم کے مسائل میں جن میں اختلاف معتبر مانا جاتا ہے، او ربعض کی گنجائش تو خود اسی دلیل میں پائی جاتی ہے(جو مخالف پیش کررہا ہوتا ہے)۔

یہ مرحلہ کشادہ دلی او راختلاف کی صحیح معرفت کا تقاضہ کرتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ: جتنا زیادہ کسی شخص کو اختلاف کا علم ہوگا اتنا زیادہ اس کاسینہ کشادہ ہوگا، اور جتنا کسی شخص کا اختلاف کے تعلق سے ناقص علم ہوگا اتنا اس کا سینہ تنگ ہوگا۔

تیسرا مرحلہ:

وہ غلطی جس میں یہ  بھائی مبتلا ہوا ہے، اگر ہم نے جان لیا کہ یہ ان غلطیوں میں سے ہے کہ جس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اور اس پر لازم ہے کہ وہ ہماری موافقت کرے، تو اس صورت میں  ہم اس پر انکار کریں گے، سختی کریں گے، اسے معروف کا حکم کریں گے اور منکر سے منع کریں گے، اور اسے حکم دیں گے کہ وہ علماء کی طرف رجوع کرے اور طلاب العلم کی طرف، تاکہ وہ اس کے سامنے اس مسئلے کی وضاحت کردیں۔

البتہ اگر مسئلہ ایسا ہو کہ جس میں اختلاف کی گنجائش ہے تو ہم اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں گے، نصیحت کریں گے، دھیمے طور پر اور احسن انداز میں اس سے بات کریں گے، اور اختلافی مسئلے میں اس پر سختی نہیں کریں گے۔

چوتھا مرحلہ:

ہم پر واجب ہے کہ ہم ان تمام مرحلوں میں بحث وجدال کے وقت بدکلامی پر نہ اتر آئیں، کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہيں کہ ان کے لیے یہ ناقابل برداشت ہوتا ہے کہ کوئی شخص میری کسی مسئلے میں مخالفت کرے۔ او ربحث وجدال کے وقت بدکلامی کرنا یہ ہے کہ جب وہ کسی کو اپنے مخالف پائے تو گالم گلوچ تک پر اتر آئے۔ حالانکہ یہ تو نفاق کی علامتوں میں سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ،وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘‘ ([2])

(چار چیزیں ہیں جس کے اندر ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا، اور جس کے اندر ان میں سے ایک ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے،(وہ یہ ہیں) جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے،  جب عہد کرے تو غداری کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالم گلوج پر اتر آئے)۔

پس بحث جدال کے وقت صرف اختلاف کی وجہ سے  بدکلامی کرنا منافقین کی صفات میں سے ہے، لہذا ایک مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے۔

پانچواں مرحلہ:

ہم نے اس سے گفت و شنید کرلی، مناقشہ کرلیا، اس کا معاملہ اہل علم تک پہنچا دیا، اور اس سے مطالبہ کیا کہ آپ اہل علم سے رجوع کریں۔

ا س کے ساتھ طلاب العلم نے باتیں کیں، نصیحت کیں اور اس کے سامنے خوب وضاحتیں کرکے  اس پر حجت تمام کرکے اس  کے شبہات کا ازالہ بھی کردیا۔

پھر اس سب کے بعد یہ بات آشکارا ہوئی کہ وہ خواہش نفس کی پیروی پر مصر ہے!

تو ہم کہیں گے:اب ہم اس باب کی طرف منتقل ہوجائیں گے کہ ا س کے قول یا فعل کو غلطی و مخالفت قرار دینے سے بڑھ کر اسے اب صاحب بدعت قرار دیا جائے، یا وہ بدعتی ہے، اور گمراہ ہے اور اہل ہویٰ (خواہش پرست) ہے۔

پس ہم قول و فعل پر حکم لگانے سے اب متعین شخصیت پر حکم لگانے کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔

اور اس کے بعد ہم ایک دوسرے مرحلے کی طرف منتقل ہوں گے اور وہ یہ ہے کہ اس شخص کے خطرے کو محسوس کریں، کیونکہ اب وہ ایک ایسی گمراہ  فکرکا حامل ہوچکا ہے جس کی کوئی گنجائش نہيں، اب وہ اہل سنت والجماعت کا مخالف ہوچکاہے، تو ضروری ہے کہ اس کے شر کو محصور کردیا جائے، اور اسے لوگوں سے روک دیا جائے، جس کے بعض طریقے یہ ہیں:

1- اس کاہجر(بائیکاٹ) کرکے۔

2- اس سے تحذیر(خبردار) کرکے، اس کے ساتھ بیٹھنے، اسے سننے، اس کی کتب پڑھنے سب سے خبردار کرنا۔

کیونکہ ایسے شخص پر سکوت اختیار کرنا گویا کہ اسے اپنی فکر پھیلانے کا موقع دینا ہے۔

ہوسکتا ہے وہ ابتدائی طلبہ علم پر اثرانداز ہوجائے اور انہيں سنت سے ہی نکال باہر کرے۔

اسے چھوڑنا لوگوں کے دلوں میں اہل سنت والجماعت کے نام سے شبہات ڈالنے کا سبب بنے گا۔

یہاں وہ عظیم اصول بروئے کار آتا ہے جسے سلف نے مقرر فرمایا ہے، اور اس بارے میں ا ن کا اجماع نقل فرمایا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اہل بدعت و اہواء کا بائیکاٹ کیاجائے۔

پس اس کا بائیکاٹ کریں، اس سے خبردار کریں، اس کے ساتھ نہ بیٹھیں، نہ اسے دوست ساتھی بنائيں، نہ اسے سنیں، نہ ان کی تعداد کو بڑھانے کا سبب بنیں، اس سے دور رہیں کیونکہ اب وہ صاحب بدعت وضلالت بن جاچکا ہے۔

اس میں کوئی فرق نہيں کہ بڑی بدعت ہو یا چھوٹی، کیونکہ ہر بدعت ہی گمراہی ہے، اور بدعت والے گمراہ لوگ ہیں۔

تو یہ ہے اہل سنت والجماعت کا منہج اس شخص کے ساتھ جو غلطی میں مبتلا ہو۔

ایسا گروہ بھی ظاہر ہوا ہے جس میں خوارج کی سی مشابہت پائی جاتی ہے، اور وہ غلطی میں واقع ہونے والے کے ساتھ خوارج کا سا معاملہ کرتے ہیں، تو وہ کرتے کیا ہیں؟

وہ یہ کرتے ہیں کہ غلطی میں واقع ہونے والے شخص پر حجت قائم کیے بغیر فوراً سے حکم لگا دیتے ہیں ۔

کسی سنی کا غلطی میں مبتلا ہونا یا غیرسنی کا واقع ہونے میں فرق نہیں کرتے۔

ایک سنی عالم  جس کے بارے میں معروف ہو کہ اس کی اصل کتاب و سنت کی اتباع ہی ہے، اس میں اور اصلی صاحب بدعت و ضلالت میں فرق نہيں کرتے، اور ان دونوں سے ایک جیسا سلوک کرتے ہيں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حدادی کہا جاتا ہے۔ ان کا مسلک اس باب میں اہل سنت والجماعت کے مسلک کے مخالف ہے۔  وہ اس موضوع میں اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں۔ تو چاہیے کہ ان سے خبردار کیا جائے اور ان کا مسلک اختیار کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

 


[1] اسے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن 3573 میں روایت کیا اور شیخ البانی نے صحیح ابن ماجہ 2891 میں صحیح قرار دیا ہے۔

 

[2] البخاري الإيمان (34) ، مسلم الإيمان (58) ، الترمذي الإيمان (2632) ، النسائي الإيمان وشرائعه (5020) ، أبو داود السنة (4688) ، أحمد (2/189).

 

 

September 10, 2018 | الشيخ محمد بن عمر بازمول, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com