menu close menu

کسی سلفی شیخ کی جرح ہوجانے پر رد عمل – شیخ محمد بن عمر بازمول

Reaction upon the disparagement of a Salafee scholar – Shaykh Muhammad bin Umar Bazmool

کسی سلفی شیخ کی جرح ہوجانے پر رد عمل   

فضیلۃ الشیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

(سنئیر پروفیسر جامعہ ام القری ومدرس مسجد الحرام، مکہ مکرمہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سؤال و جواب 39-41 – على جدران الفيسبوك، الأصدار الأول۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:آجکل ایک خطرناک شبہہ سلفیوں کے مابین عام ہوگیا ہے، کہتے ہیں: جب کبھی بھی ہم کسی سلفی شیخ پر اعتماد کرتے ہیں کہ اسے علماء نے تزکیہ دیا ہوتا ہے، وجہ اعتماد کی یہ ہوتی ہے کہ ہم اس کے علم پر اعتماد کرتے ہيں ناکہ شخصیت پرستی، مگر اچانک ہی اسے ساقط قرار دے دیا جاتا ہے، ہمیں سبب بھی پتہ نہیں ہوتا کہ  کہ آخر ہم اس کی غلطی سے احتیاط کریں، اور ہمارے گھروں میں ذاتی مکتبات کا یہ حال ہوتا ہے  جب کبھی کچھ مشایخ کے کلام سے اسے بھرتے ہيں پھر دوبارہ سے ان کے کلام سے اسے خالی کرنا پڑتا ہے۔ اس شبہہ کا ہم کس طرح رد کریں گے کہ جو اب ایک ایسی متعدی بیماری کی صورت اختیار کرگیا ہے کہ جس نے سلفیوں میں پھوٹ ڈال دی  ہے اور ان پر شیطان مسلط ہوگیا ہے۔ آپ کی اپنے سلفی فرزندوں کے لیے    کیا نصیحت ہے ؟

جواب: یہ بات واقعی موجود ہے اور ہم نے بھی محسوس کی ہے۔ اور شاید کہ سائل کی مراد  کو صحیح طور پر مندرجہ ذیل امور واضح کریں گے:

1- سلفیت کا معنی اور اس کی طرف انتساب کرنے کا معنی یہ نہيں کہ خود سلفی غلطی میں نہيں پڑ سکتا۔ برابر ہے کہ چھوٹا طالبعلم ہو یا بہت بڑا عالم ہو، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ‘‘([1])

(ہر بنی آدم خطاءکار ہے، اور بہترین خطاءکار وہ ہیں جو توبہ کرتے رہتے ہیں)۔

2- ہر غلطی کے سبب اس غلطی کرنے والے سے اہل بدعت والا معاملہ نہيں کیا جاتا، اور یہ بہت اہم مسئلہ ہے، اور سلفیوں اور اس باب میں متشدد لوگو ں کے مابین فرق کا مقام ہے، جن متشدد لوگوں میں سے حدادی لوگ بھی ہیں۔ کیونکہ جن باتوں پر ا ن (حدادیوں) کا انکار کیا جاتا ہے  ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ایسی غلطی جس میں سلفی مبتلا ہوا اس میں اور ایسی غلطی جس میں صاحب بدعت و ہویٰ مبتلا ہوفرق نہیں کرتے، اور ان کے نزدیک ان دونوں سے یکساں معاملہ کیا جاتا ہے! حالانکہ بے شک صاحب سنت کو تو نصیحت و رہنمائی کی جاتی ہے، اور اس کے بارے میں یہ گمان رکھا جاتا ہے کہ وہ ضرور حق کو قبول کرے گا اور اس کی طرف رجوع کرے گا۔ اور یہ کوئی کمزوری یا بزدلی نہيں  بلکہ یہ ایک ادبی شجاعت و بہادری ہے  کہ جس کا اعتقاد ایک مسلمان اپنے رب کے لیے رکھتا ہے۔کیونکہ حق سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اتباع و پیروی کی جائے!

3- سلفیت کا معنی یہ نہیں ہے کہ سلفیوں کے مابین اجتہادی علمی مسائل میں اختلاف واقع نہیں ہوسکتا ۔ اور سلفی کا کتاب و سنت  کی فہم سلف صالحین کے مطابق اتباع کرنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اجتہادی مسائل میں ان میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ آپ آئمہ اربعہ کو دیکھ لیں وہ سلف صالحین کے متبعین میں سے تھے  لیکن ان کے مابین علمی اجتہادی مسائل میں وہ اختلافات ہوئے جو معلوم و معروف ہیں!

4- سلفیت کا یہ معنی نہيں ہے  کہ کوئی سلفی دل کے امراض جیسے خفیہ شہوات میں مبتلا نہيں ہوسکتا مثلًا شہرت پسندی، اپنے بھائیوں کے ساتھ سختی کا معاملہ۔ جب حقیقت حال یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کا آئینہ ہوتا ہے، تو چاہیے کہ آپس میں نصیحت و رہنمائی کرتے رہيں۔ واللہ المستعان۔

5- سلف صالحین کے منہج میں سے  نہيں کہ کسی کے قول کی اتباع کو لازم قرار دیا جائے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، خصوصا ً اجتہادی مسائل میں۔

6-  ہوسکتا ہے ایک سلفی عالم کسی دوسرے سلفی پر کلام کرے اور کسی قصور وکوتاہی کے سبب اس پر زیادتی بھی کر بیٹھے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں  کہ اسے ساقط کردیا جائے۔ اس بارے میں مؤقف حسن ظن کا ہوتا ہے۔ تو ہم یہ اعتقاد رکھتے ہيں کہ اس عالم کا کلام اس کے اجتہاد کا نتیجہ ہے جو اسے صحیح لگتا ہے۔ لہذا وہ دو اجروں کے درمیان ہی ہے اگر صواب کو پایا تو دوہرا اجر، اور اگر غلطی کرگیا تو ایک اجر۔

7- اگر کسی ایسے پر کلام کیا گیا جس کی عدالت و ثقاہت کو آپ جانتے تھے تو ان کے بارے میں کلام اس وقت تک قبول نہ کریں جب تک اس کا سبب اور جرح کی تفسیر بیان نہ کی جائے۔ ان کے ساتھ وہ معاملہ نہيں کیا جائے گا جو اصلاً  ہی متکلم فیہ ہو، یا ان جیسا جن کی عدالت و ثقاہت کو آپ جانتے ہی نہيں۔

8- حسن ظن کو مقدم رکھا جائے گا، اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں سوء ظن نہ رکھیں جب تک خیر پر محمول رکھنے کے کوئی نہ کوئی مواقع آپ کو میسر ہوں۔

9- شخصیات کا تقدس (شخصیت پرستی ) نہيں۔ اور سائل نے (جزاہ اللہ خیراً) اپنے سوال میں ہی اس پر تنبیہ کردی تھی اپنے اس قول سے کہ: اس کی شخصیت پرستی کی وجہ سے نہیں۔

10- ہر وہ جس کے بارے میں کلام کردیا گیا ہو ساقط نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر کلام کسی کے حق میں جرح ہی ہوتا ہے۔

11- (جہاں تک تزکیو ں کا حوالہ ہے تو) یہ سلفیت میں سے نہیں کہ علماء  سے تزکیات حاصل کرنے کے لیے الحاح و زاری کی جائے اور ان کے پیچھے پڑا جائے۔ ایک مسلمان کا اپنا علم و عمل ہر چیز سے قبل اس کا  تزکیہ ہوتا ہے۔ چناچہ کوئی مقدس سرزمین کسی کو مقدس نہيں بنادیتی نہ ہی کسی کا نسب اس کو مقدس بناتا ہے، اسی طرح سے لوگوں کی جرح سے متعلق کلام بھی کسی کو مقدس نہيں بنادیتا۔

12- سلفیت میں سے نہيں کہ لوگوں کے عیوب پر اور ان کی جرح ہوجانے پر خوش ہوا جائے، اور بلاضرورت اس کے لیے دوڑ دھوپ کی جائے۔ ایک طالبعلم کو چاہیےکہ اس میں منہمک ہونے سے پرہیز کرے ، اور اس معاملے کو اہل علم کے ہاتھوں میں ہی چھوڑ دے، کسی فتنے کی آگ کو بھڑکانے اور اس کے شعلے اڑانے کا سبب نہ بنے، بلکہ فتنے کو بجھانے  کا سبب بنے اس کی آگ سے دوری اختیار کرکے، صبر اور حسن ظن کے ذریعے، اور اس معاملے کو اہل علم کے سپرد کرنے کے ذریعے۔ واللہ الموفق۔

سوال: کیا جرح و تعدیل اجتہادی یا اختلافی مسائل میں سے ہے ؟

جواب: جرح وتعدیل کے بارے میں جو اصل ہے وہ یہ کہ بے شک یہ ایک خبر ہے، جسے کوئی عالم آپ کے لیے نقل کرتا ہے۔ یا وہ مجروح (جس کی جرح کی گئی) یا معدل (جس کی تعدیل کی گئی) کے متعلق خبر دیتا ہے۔  اس میں اجتہاد دو پہلوؤں سے داخل ہوتا ہے:

ایک پہلو: اسے ا س (شخص) پر مرتب ہونے والے اس کے مناسب ِحال  اس پر فٹ کرنا ۔

دوسرا پہلو: ایک عالم کی اس کی عبارت سے مراد کا فہم۔

واللہ اعلم

سوال: کوئی شخص کب سلفیت سے خارج ہوتا ہے؟

جواب: سلفیت سے خروج یا تو کلی طور پر ہوتا ہے اگر وہ سلفیت کے اصول کی مخالفت کرتا ہے۔

اور اس سے خروج جزئی  بھی ہوتا ہے اگر وہ سلفی منہج کے بعض جزئی مسائل کی مخالفت کرتا ہے۔

اور اگر یہ جزئی مسائل بھی باکثرت ہوتے جائيں کہ جس میں وہ سلف کی مخالفت کرتا ہے ، تو وہ کثرت  مخالفت کے سبب سلفیت سے خارج ہوجاتا ہے۔

واللہ اعلم۔

 


[1] الترمذي صفة القيامة والرقائق والورع 2499, إبن ماجه الزهد 4251, أحمد 3/198, الدارمي برقم 2727 كلهم من حديث أنس.

 

February 20, 2018 | الشيخ محمد بن عمر بازمول, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com