menu close menu

چار مذاہب کا ظہور کب ہوا؟ – شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ

The origin of four Madhahib – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

چار مذاہب کا ظہور کب ہوا؟

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ  رحمہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

مصدر: ظهور المذاهب الأربعة

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوال: کیا یہ چار مذاہب عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے؟

 

جواب: میرے بھائی! یہ چار مذاہب تو نہیں بنے مگر دوسری یا تیسری صدی میں جاکر، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود نہ تھے۔ تمام مسلمان کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے تھے۔ اللہ تعالی کی عبادت کتاب وسنت کی دلیل کے موافق بجا لاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کی پیروی کرتے:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا﴾ (الاحزاب: 21)

(بلاشبہ یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ہر طور پر بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہو)

 

یہ مذاہب تو ظاہر ہی دوسری صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔ اس طرح کہ ان مذاہب اربعہ کے آئمہ رحمہم اللہ امام ابوحنیفہ بن النعمان کوفہ میں، امام مالک  مدینہ میں، امام الشافعی مصر میں اور امام احمد بن حنبل عراق میں تھے ،اور ان کے بہت سے شاگرد تھے جو ان کے فتاویٰ، اور سوالات کے جواب نقل کرتے ، انہیں مدون کرتے اور نشر کرتے۔ اور اللہ تعالی نے ان کے لیے زمین میں قبولیت عام عطاء رکھ دی۔

 

لیکن یہ بات ناممکن ہے کہ  ہم ان آئمہ اربعہ کے معصوم عن الخطاء ہونے کا عقیدہ رکھیں، اور یہ کہ جو بھی قول وہ کہیں تو وہ ہمیشہ قابل قبول ہوگا ایسا نہيں، بلکہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر میرے کلام میں کوئی ایسی بات پاؤ جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہو تو میری بات کو دیوار پر دے مارو‘‘۔

 

امام الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس کے بھی نزدیک کوئی بات کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے قول کی وجہ سے اسے چھوڑ دے، خواہ وہ قائل کوئی بھی ہو کہیں بھی ہو‘‘۔

 

اسی طرح کا قول امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی ہے۔

 

پس یہ آئمہ اربعہ اپنے شاگردوں کی وجہ سے مشہور ہوگئے جو ان کے سوالات پر دیے گئے جوابات کو نقل کرتے ، مدون کرتے۔ چناچہ یہ آئمہ اربعہ بنالینے کی بنیاد کوئی شریعت میں نہیں بلکہ یہ تو نتیجہ ہے ان کے شاگردوں اور طلبہ کا جنہوں نے ان کے فتاویٰ اور علم کو نشر کیا۔ اور ان مذاہب میں وسعت آتی گئی۔ اور یہ سب حق ہیں، اور سب خیر پر ہیں، لیکن کمال تو صرف اللہ تعالی کے لیے ہے، اور ہم کتاب وسنت کی اتباع کے مامور ہیں۔ ہم جس رائے کو کتاب وسنت کے مخالف پائیں گے اس سے دور ہوجائیں گے، اور جسے کتاب وسنت کے موافق پائیں گے اس کی تائید کریں گے اور اسی پر عمل کریں گے۔ ساتھ میں ان کے لیے رحمت ومغفرت کی دعاء کریں گے یعنی اگر کچھ مخالفت نظر آئے تو انہیں معذور سمجھیں گے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ ﴾ (یوسف: 76)

(اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے)۔

October 27, 2015 | الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ, عقیدہ ومنہج, مقالات | 0

tawheedekhaalis is on Mixlr

Tawheedekhaalis.com

Tawheedekhaalis.com